یوم یکجہتی کشمیر کا بائیکاٹ کیوں؟
مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی افواج کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف اور مظلوم کشمیری مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لئے پاکستان نے سرکاری اور ریاستی طور پر باقاعدہ پانچ فروری کی تاریخ متعین کردی ہے جس میں ہر سال جلسے جلوسوں اور مظاہروں کے ذریعے کشمیری مظلوم عوام سے یکجہتی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اور اقوام متحدہ، عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کے قتل عام کو رکوانے کے لئے متحرک ہوجائیں اور اقوام متحدہ اپنے قراردادوں پر عملدرآمد کراتے ہوئے تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں کردارادا کریں۔
گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی رہی ہے کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا حصہ تھا تو شروع سے ہمیں کشمیر طرز پر مراعات کیوں نہیں دی گئیں جب ہم نے پاکستان کے آئینی صوبے کا مطالبہ کیا تو ہمیں صدارتی حکمناموں میں ٹرخایا گیا ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان امید کی آخری کرن تھی جس نے رواں سال کے شروع میں ہی ’گلگت بلتستان کے متنازعہ‘ ہونے پر مہر ثبت کردی۔ اس ساری تشویش کے پیچھے سب سے اہم بات یہی رہی ہے کہ مذکورہ سیاسی حلقے گلگت بلتستان کی مخصوص انتظامی حالت کو سمجھنے سے قاصر رہے، یا پھر جان بوجھ کر مخصوص انتظامی و آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں واضح کردیا کہ گلگت بلتستان اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوپاک کے قراردادوں کی روشنی میں استصواب رائے میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو متعدد سیاسی و سماجی حلقوں نے قبول کرلیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ اس فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کے لئے سیاسی جدوجہد کے لئے سمت واضح ہوجائے گی۔
گلگت بلتستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے چار وزراءجناب ڈاکٹر محمد اقبال، محترمہ ثوبیہ مقدم، جناب فدا خان فدا، محترم ابراہیم ثنائی اور دو پارلیمانی سیکریٹری میجر (ر) امین اور ایڈوکیٹ غلام حسین نے اسلام آباد میں اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ گلگت بلتستان میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کی بجائے ’یوم یکجہتی حقوق گلگت بلتستان‘ منایا جائے گا۔ ان وزراءاور ممبران میں بعض حادثاتی اوربعض خام سیاستدان ہیں۔
ان کی جانب سے اسلام آباد میں کی گئی پریس کانفرنس اور اس کے بعد جاری کی جانے والی پریس ریلیز بڑی دلچسپ تھی۔ وزراءنے کہا کہ مسلم لیگ ن میں گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک رائے نہیں ہے، بالفاظ دیگر انہوں نے صاف کہہ دیا حقوق حقوق کی گیم میں مسلم لیگ ن سنجیدہ نہیں ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کا پہلا اور ترجیحی راستہ تو بھاری مراعات اور بھاری تنخواہوں کے طوق کو اتارکر استعفیٰ دینا تھا لیکن ایسا نہیں کریں گے کیونکہ معاملہ صرف بظاہر گلگت بلتستان کے حقوق ہیں۔
وزراءنے سب سے جو دلچسپ بات کہی وہ یہ کہ درج بالا وزراءاور ممبران پر مشتمل ٹیم میں تمام ’فرقوں‘ کی نمائندگی موجود ہے، اس سے زیادہ افسوسناک پہلو گلگت بلتستان کے لئے کیا ہوسکتا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے خود کو فرقوں کے نمائندے قرار دے رہے ہیں، محترمہ ثوبیہ مقدم صاحبہ اور میجر (ر) امین صاحب خصوصی نشستوں کے ممبران ہیں جن کا انتخابی حلقہ نہیں ہے، مستقبل میں ایسا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن جو بندہ ابھی تک کسی حلقے کا ہی نہیں وہ ایک فرقے کا نمائندہ کیسے ہوا؟
کس فرقے کے کس بندے نے ان کو نمائندگی کرنے کے لئے آگے کیاہے؟ باقی دیگر تمام منتخب وزراءایسے حلقوں سے جیت کرآئے ہیں جہاں پر ووٹ کسی ایک فرقے کا نہیں ہے، تو اب ذرا اس بات کی بھی وضاحت کریں کہ دیگر فرقوں سے ان کو پڑنے والا ووٹ کس کھاتے میں چلا گیا۔ حکمران پارٹی کے ان رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت میں تین سالہ جدوجہد کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا، تو یہ بتایا جائے کہ اس کے خلاف ابھی تک اسمبلی میں آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی، اگر وزیراعلیٰ کی قیادت میں تین سالہ جدوجہد رائیگاں گئی تھی تو سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کو بہترین حل کیسے قرار دیا حالانکہ سرتاج عزیز کمیٹی کے سیکریٹری حافظ حفیظ الرحمن تھے، یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے کہ جی بی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) شفیع نے جب آئینی حیثیت کے اس معاملے پر تنقید کی تو ڈاکٹر محمد اقبال صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوکر کیپٹن (ر) شفیع پر حملہ آور ہوگئے تھے۔
ہندوستان کے مشہور شاعر راحت اندوری نے پاکستان اور انڈیا کے اندرونی مسائل اور دوریوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک شعر کہا تھا جو اب گلگت بلتستان کے ایسے بچگانہ حرکات کرنے والے سیاستدانوں پر بھی فٹ نظر آتا ہے انہوں نے کہا تھا کہ
ملانا چاہا ہے انساں کو جب بھی انساں سے
تو سارے کام سیاست بگاڑ دیتی ہے
اپنے ذاتی مفادات اور اپنے ذہنی اختراعات کی بنیاد پر گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت، حقوق اور تشخص کی خودساختہ تشریحات نے گلگت بلتستان کو جتنا نقصان دیا ہے شاید اتنا انڈیا نے اقوام متحدہ کے قراردادوں سے ہکچکچاتے ہوئے بھی نہیں دیا ہوگا۔ گزشتہ 71 سالوں میں اوٹ پٹانگ موقف رکھ کر خود کو حقوق گلگت بلتستان کے چیمپیئن قرار دینے والوں سے اتنا تو پوچھا جاسکتا ہے کہ کس بنیاد پر آخر ایسا موقف اپنایا گیا جس نے گلگت بلتستان کو 71 سال تک سمت درست کرنے اور گلگت بلتستان کو سٹریم لائن ہونے سے روکے رکھا۔
جو لوگ گلگت بلتستان کے معاملات اور حساسیت کو سمجھتے تھے ان کو جان بوجھ کر دیوار سے لگادیا گیا ہے، جس کی وجہ سے آج عام آدمی کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اس کی سیاسی، انتظامی ا ور آئینی حیثیت کیا ہے، وفاق پاکستا ن سے ہم نے کس چیز کا مطالبہ کرنا ہے کون سی چیز وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو دے سکتی ہے؟
مسلم لیگ ن کے مشیر اطلاعات شمس میر نے 16 دسمبر کو پیپلزپارٹی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے پر سوال کیا تھا کہ جس دن پاکستان ٹوٹ گیا اسی دن اے پی سی کیوں؟ تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دریوں اور لاکھوں قربانیوں اور حق خود ارادیت کی تحریک و جدوجہد سے یکجہتی کے موقع پر گلگت بلتستان کے حقوق کیوں یاد آگئے؟ کیا گلگت بلتستان میں ریاستی طور پر عصمت دریاں ہوئی ہیں، کیا لاکھوں لوگوں نے بغاوت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔
گلگت بلتستان کے تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ مضبوط پاکستان ہی خوشحال گلگت بلتستان کا ضامن ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال گلگت بلتستان کے حقوق کی آڑ میں کھیلنے سے قبل یہ بتائیں کہ ان کے محکمے نے ان کی اجازت کے بغیر اور لاعلمی میں کروڑوں روپوں سے سپریم اپیلٹ کورٹ کی تزئین و آرائش کیسے کی؟ ابراہیم ثنائی اپنے محکمے کے ایک افسر سے فوبیا کا شکار ہوکر وزیراعلیٰ کو شکایتی خط لکھ دیتے ہیں۔
فدا خان فدا، فرزند گلگت بلتستان بننے کی کوشش میں سپریم کورٹ کے آگے غیر مشروط معافی مانگ کر آتے ہیں۔ ثوبیہ مقدم صاحبہ اپنے محکمے کی کارکردگی دکھائیں، حاجی شاہ بیگ کو نوازنے کی ضد میں وزیراعلیٰ کے سامنے ڈٹ جانے اور اس سے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے جی بی کے حقوق کا ڈرامہ نہیں چلے گا۔ میجر امین کا شہرہ آفاق مزاحمتی بیان آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ سکردو کے لئے بھجوائی گئی ایم آرآئی مشین کو تعصب کی بنیاد پر کشروٹ ہسپتال میں نصب کردیا گیا ہے حالانکہ کشروٹ ہسپتال میں اب بھی ایم آر آئی کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں اس باریوم یکجہتی کشمیر 6 ممبران حکمران پارٹی کے منہ پر طمانچہ ہوں گے اور پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار یوم یکجہتی کشمیر زیادہ زور و شور سے منایا جائے گا۔


