قطر کی ایشیا کپ میں تاریخی فتح اور عرب ممالک کا جلاپا


 

فٹبال ورلڈ کپ 2022ء کی میزبان ٹیم قطر ایشیا کپ جیتنے کے بعد وطن واپس پہنچ چکی ہے، اس موقع پر سرکاری سطح پر ٹیم کا شاندار استقبال کیا گیا اور جمعہ کے روز سے قطر میں جشن کا سماں ہے۔ قطری ٹیم نے جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات میں انعقاد پذیر ایشیا کپ کے فائنل میں جاپان جیسی مضبوط ٹیم کو تین ایک سے شکست دے کر ٹائٹل اور متعدد ریکارڈ اپنے نام کیے۔ ٹورنامنٹ میں فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں نے سات سات میچ کھیلے اور قطر مسلسل سات میچ جیتنے کا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہا۔ قطر نے ٹورنامنٹ میں ریکارڈ 19 گول کیے، اور یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ اس کے مد مقابل ٹیمیں بھی قطر کے خلاف صرف ایک گول کر سکیں جو کہ فائنل میں جاپان نے کیا۔

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد نے فتح کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے عربوں کی فتح قرار دیا ہے اور قطر سمیت اکثر خلیجی و عرب ممالک میں قطر کی فتح پر شاندار جشن منایا گیا، تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے قطر کے ساتھ سفارتی و اقتصادی بائیکاٹ جاری رکھنے والے بعض خلیجی ممالک کی جانب سے اس موقع پر نہایت منفی ردعمل سامنے آیا، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید، جن کے نام سے منسوب گراونڈ میں میچ جاری تھا اور انہوں نےمیچ وننگ تقریب میں شامل ہونا تھا لیکن "بوجوہ” انہیں پہلے ہاف کے دوران میں اچانک گرانڈ سے جانا پڑا۔

ابوظہبی میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں میزبان ٹیم متحدہ عرب امارات کے تماشائیوں نے اپنے سیاسی حریف قطر کی ٹیم کے ساتھ میچ کی ابتدا سے ہی بدترین رویے کا مظاہرہ کیا اور قطر کے قومی ترانے کے دوران آوازیں کستے رہے۔ جبکہ فائنل میں بھی متحدہ عرب امارات کے تماشائی جاپان کا وہ جھنڈا لے کر شریک ہوئے جو نکلتے وقت انہیں آنسو پونچھنے کے کام آیا۔ قطر ی شائقین کو میچ دیکھنے کی غرض سے امارات جانے کی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی، تاہم عمان سے آئے ہوئے شائقین نے اس کمی کو پورا کیا اور قطری ٹیم کو بھرپور سپورٹ کیا، یہاں تک کہ فتح کے بعد جب یہ شائقین جشن مناتے ہوئے باہر نکلے تو پولیس نے ان پر تشدد کیا کہ امارات میں قطر کے حق میں نعرہ بازی کی اجازت نہیں۔

اسی طرح اماراتی و سعودی میڈیا نے بھی زبردست تغافل یا تجاہل سے کام لیا اور اخبارات نے یا تو اس خبر کو سرے سے جگہ ہی نہیں دی، اور جن اخبارات نے یہ خبر دی بھی تو ایسے انداز سے دنیا بھر میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی عرب کے معروف اخبار "السبق” نے قطر کی فتح کو "مختلف قومیتوں پر مشتمل ٹیم کی فتح” قرار دیا، حالانکہ عالمی کپ جیتنے والی فرانس کی ٹیم میں بھی اکثریت ایسے کھلاڑیوں کی تھی جو دوسرے ممالک سے ہجرت کر کے فرانس میں آئے۔ خود متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم بھی مختلف قومیتوں پر مشتمل ہے اور شاید ہی کوئی ایسا کھلاڑی ہو جو کسی دوسرے ملک سے ہجرت کر کے نہ آیا ہو۔

اخبار نے کھیل کی خبر کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی کی ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید لکھا کہ :

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا قطر کی فتح پر مبارکباد دینے سے دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ سفارتی تعلقات اب خفیہ نہیں رہے۔

اماراتی اخبارات کی سرخیوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ٹیم جاپان تھی، جس کی شکست کی خبر کو انہوں نے سرخی بنایا، البیان اخبار نے یہ خبر ان الفاظ میں دی:

ایشیا کپ فائنل میں جاپان کو شکست۔ گویا قطر کا جیتنا خبر نہیں بلکہ اصل خبر جاپان کا ہارنا ہے۔

مذکورہ ممالک نے قطر کو فیفا 2022ء سے محروم کرنے کے لیے بھی از بس کوششیں کیں لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اور قطر میں اگلے ورلڈ کپ کی تیاریاں پورے زور وشور سے جاری ہیں۔ قطر کی میزبانی پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا تھا کہ جس ملک کی ٹیم ورلڈ کپ میں رسائی حاصل نہیں کر سکتی اسے عالمی ٹورنامنٹ کی میزبانی کیونکر دی جا سکتی ہے؟ایشیا کپ میں فتح سے یہ اعتراض بھی دم توڑ گیا ہے اور اس کے خلاف سازشیں کرنے والے ممالک کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے۔

قطر کی فتح پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورا عرب اسے اپنی فتح قرار دیتا جیسا کہ قطر کے امیر نے اپنے بیان میں اسے عربوں کی فتح قرار دیا لیکن قطر خلیج بحران یہاں پر بھی اثر انداز ہوا، پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ عرب کھیل کود کے موقع پر تو متحد ہو سکتے ہیں لیکن کسی سنجیدہ موقف پر عرب کا اتحاد ناممکن ہے، لیکن فٹبال ایشیا کپ نے اس بات کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ 2022ء کے ورلڈ کپ کی قطر کی میزبانی کو تما م عرب ممالک متفقہ طور پر اپنی میزبانی قرار دیں؟ یا انہوں تہیہ کر لیا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں صرف عدم اتفاق پر ہی متفق رہیں گے؟

Facebook Comments HS