مودودی بیانیہ کب آزمایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"hammad\"میں نے کئی بار پڑھا۔ کئی بار نام پہ غور کیا لیکن ہر بار گمان غلط نکلا ۔

سچ یہی تھا کہ لکھنے والا فرنودعالم ہی تھا۔

انداز انہی کا تھا، لہجہ بھی وہی، بس الفاظ اجنبی لگے۔

فرماتے ہیں کہ ریاست نے مودودی کا بیانیہ آزما لیا، اب باچا خان کا بھی آزما لیں۔

اعتراض یہ نہیں کہ ( سیکولر سوچ ) باچاخان کے بیانیے کو آزمانے کی بات کیوں کی گئی۔

جہاں ہر ازم حکومت اور عدلیہ میں موجود ہے، وہاں باچاازم کو آزمانے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن طریقہ کار ریاست مخالف نہ ہو، راستہ غیرقانونی نہ ہو۔

بھلے پنجابی پختون افغانی پاکستانی کے نعرے لگیں، یہ بدقسمتی سے ہماری قسمت کا حصہ ہے۔

بلکہ سوال یہ ہے کہ مودودی کا بیانیہ ریاست نے کب کہاں اور کیسے آزمایا ؟

ایک ضیا الحق کے سوا اور تو تقریباً تمام حکومتوں نے مودودی سوچ کے خلاف نفرت اور جھوٹ پھیلانے میں اپنا مقام پیدا کیا۔

ضیا الحق حکومت کو مودودی سے جوڑنا حیران کن اس لئے ہے کہ جماعتِ مودودی کے گڑھ کراچی میں ایک ایسی تنظیم کو اتارا گیا جس نے اوّل و آخر مقصد یہی رکھا کہ یہاں سے مودودی فکر کا خاتمہ کرنا ہے۔

ضیا الحق پر مودودی سوچ نافذ کرنے بارے چند چیدہ چیدہ اعتراضات یہ ہیں کہ مرحوم نے جماعت اسلامی کو آگے آنے کا موقع دیا۔

مرحوم نے فوجی افسروں میں مودودی کی کتابیں تقسیم کیں۔

مرحوم نے مودودی کی جہادی فکر کو پھیلایا۔

ضیا کے پہلے احسان عظیم کی وجہ سے جماعت اسلامی آج دیر و ملاکنڈ سے ایک دو صوبائی و قومی اسمبلی کی سیٹیں لے اڑتی ہے۔

ضیا نے واقعی پاکستان کے ساتھ بڑی زیادتی کی

دوسرے احسان کا حال یہ ہے کہ فوجی افسروں میں آج تک صرف ایک بریگیڈیئر علی پیدا ہوا۔ وہ بھی حزب التحریر کا نکلا ان کے نزدیک مودودی والی جمہوریت بھی کفر ہے، مغربی جمہوریت تو ویسے بھی توبہ توبہ

اور جہادی فکر کو پھیلانے والے اعتراض پر تو شاید لکھاری صاحب خود بھی اعتراض کردیں۔

کیونکہ آج پاکستان میں دہشت گردوں کے قائدین سارے ان لوگوں کے ہیں جو اپنے جلسوں میں چیخ چیخ کر مسلمانوں کو پکار رہے تھے کہ فتنہ مودودیت سے بچیں۔ یہ خمینی کا بھائی اور یہود کا ایجنٹ ہے

اگر دو تین ڈاکٹرارشد وحیداور احسن عزیز پیدا بھی ہوگئے تو وہ جماعت مودودی سے نکلے ہی اس لئے کہ یہ راستہ کفر کا راستہ ہے

یعنی مودودی صاب نے جس رستے پر چلنے کا کہا ہے، وہ راستہ اس منزل کی طرف نہیں جاتا جہاں خدا بیٹھا انتظار میں ہے۔

مودودی صاحب نے جہاں جہاد کا ذکر کیا وہاں انہوں نے نوجوانوں کو استعمال ہونے سے بچانے کی بات کی وہاں ان کو جہاد کی اصل تشریح سمجھائی کہ یہ کام ریاست کا ہے۔

لیکن جہاد کسی مودودی کا حکم تو نہیں، قران جہاں جہادی آیات سے بھرا پڑا ہے، وہاں اگر ہم جہاد کی حقیقی تشریح نہ کریں تو ایک عام مسلمان نوجوان تو ’فضربو فوق الاعناق‘پر ہر کسی کی گردن مارنا شروع کردے۔

آپ ہزار بار اسے سمجھایئں کہ فلاں کافر نہیں ہے لیکن وہ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ۔  نکال کر بول دے گا کہ قران نے یہی لکھا ہے۔ان کے اعمال ضائع ہوگئے ہیں اب بے ایمان ہوگئے ہیں۔

عین اسی طرح جس طرح عمرمنصور نے غلط دلیل دے کر کہا کہ جامعات فوج کیلئے سہولت کار پیدا کرتے ہیں اس لئے کارروائیاں کرتے رہیں گے۔

عمرمنصور اگر مودودی فکر سے گزرا ہوتا تو آج وہ ریاست کی طرف آنکھ اٹھا کر ہر گز نہ دیکھتا بلکہ وہ ریاست کی طرف ویسے ہی دیکھتا جس طرح البدر و الشمس نے مشرقی پاکستان میں دیکھا

جہاں ریاست نے جو کہا انہوں نے ویسا کر دکھایا۔

فکر مودودی سے اگر اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ انہوں نے جہادی فکر نوجوانوں کو دی تو حیرت کے سوا کچھ نہیں کرسکتے

جہاں اوروں نے ایسے اذہان پیدا کئے کہ کوئی بھی اٹھ کے مخالف کو کافر کہہ کر فساد شروع کرتا ہے ، جہاں ٹائی باندھنا یہودیت کی نشانی سمجھ کر اسکے خلاف جہاد کی تلقین کی جاتی ہے ،

وہاں مولانا مودودی نے نوجوانوں کو قلم کے ذریعے قوم و ملت کی ترقی کی طرف بلایا۔

وہاں جذباتی نعروں میں بہنے والے نوجوان ذہنیت کو سمجھایا کہ جہاد ریاست کا کام ہے۔ بات بات پہ تلوار اٹھانا بغاوت ہے جس سے جہاد کا کوئی لینا دینا دور دور تک بھی نہیں۔

باچاخانی فکر کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر پاکستان کو اس فکر کی ضرورت ہے تو بے شک اس کو آزما لیں لیکن یہ کہنا کہ مودودی بیانہ آزما چکے، انتہائی حیران کن بات ہے۔

جس پر صرف سر ہی پکڑ سکتے ہیں۔

حکومتی معاملات سے نکل کر عوام میں آکر اس کا جائزہ لیں تب بھی افکارِ مودودی نے ریاست کے ساتھ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کی بنا پر ہم اس فکر پر الزامات لگا سکیں۔

فکر مودودی سے متاثر جہاں ہزاروں طلبہ درسگاہوں میں موجود ہیں وہاں صرف تین چار ہی ایسے پیدا ہوگئے جنہوں نے شدت پسندی اختیار کی۔

خالد شیخ کی جماعتی رکن کے گھر سے گرفتاری پر ہم پوری سوچ کو کیسے غلط کہہ سکتے ہیں؟

کیونکہ ہمارے سامنے کچھ تلخ حقائق یہ بھی موجود ہیں کہ آج کے دہشت گردوں کو کل کس نے اپنے بچے کہا تھا؟

دور کی بات چھوڑیں۔ اب کی بات کرتے ہیں سوات میں سب سے زیادہ دہشت گردوں نے نقصانات پہنچائے۔ وہاں کے دہشت گردوں کا ترجمان مسلم خان ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ کا خاص متحرک کارکن تھا

تحریک طالبان پاکستان کی قیادت میں شامل ان کے تین بڑے رہنما بیت اللہ ، حکیم اللہ اور ولی الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے خاص کارکنان تھے۔

اسی سوچ کے حامل افراد تھے جن کے نزدیک مودودی ؒ خوارج میں شامل ہیں۔

کئی برسوں تک خیبرایجنسی میں آگ اور خون کا کھیل کھیلنے والا منگل باغ ( جن پر اے پی سی حملے کا بھی الزام ہے) باچاخان کی فکر سے متاثر فرد ہے/تھا

جن کے نزدیک \”لر و بر پختانہ یو دی\”

جو افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد کو مانتے ہی نہیں

لہٰذا ایسے چند واقعات کی وجہ سے ہم پوری سوچ کو انتہاپسندانہ ہر گز نہیں کہہ سکتے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments