بے بس بیٹا اور حج سے محروم ہوتے والدین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن بہت شرارتوں میں گزرا والدین نے کسی بھی حوالے سے کسی چیز کی کمی ہونے نہیں دی ہر وقت میرے والدین میرے ضد کے آگے جھک جایا کرتے تھے۔ میرے والدین کی شادی کے گیارہ سال بعد بہت دعاؤں اور منتوں کے بعد میری ولادت ہوئی تھی جس کے وجہ سے میں بہت لاڈ پیاراور نازوسے پلا بڑھا ہوں۔ جب تھوڑی بہت سمجھ بوجھ آنے لگی تو سمجھ پایا کہ میرے والدین اپنی ہر خواہش کو پسِ پشت رکھ کر میری ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے کتنی محنت اور تگ و دو کرتے ہیں۔ اللہُ تعالیٰ میرے والدین کا سایہ مجھ پر تا عمر رکھے آمین انہوں نے اپنی ساری خواہشات کو رد کرکے مجھے تعلیم و تربیت کی زیور سے آراستہ کیا۔

بچپن کی سمجھ سے لے کر آج تک اگر میں اپنے والدین کی آنکھوں میں کوئی اہم خواہش دیکھ پایا ہوں تو وہ خواہش تھی ادائیگی ”حج“۔ اور اسی لئے تعلیمی دور سے آج تک اگر میں محنت کرتا ہوں تو میرے محنت کا محور یہی ہے کہ میں اپنے والدین کو حج کے لئے بھیجوں اور یہ میری طرف سے اپنے والدین کے لئے سرپرائز ہو۔

اسی تگ دو اور ضروریات زندگی کی جدوجہد میں آج میری عمر تیس سے اوپر ہوچکی ہے میں شادی شدہ ہوں اور میرے چار بچے ہیں ذرائع آمدنی کوئی خاص نہیں پھر بھی رب کائنات کا شکر گزار ہوں۔ رواں برس یعنی 2019 کو یہ سوچ رکھا ہے کہ اگلے سال یعنی 2020 کو ان شاء اللہُ میں اپنے والدین کی اس عظیم خواہش کو اُس عظیم خواب کو پورا کروں گا جو انہوں نے برسوں سے دیکھ رکھا ہے لیکن اپنے بچوں کی بہتر پرورش کی وجہ سے وہ خود نہ کر سکے۔

گزشتہ دنوں ایک حکومتی اعلان کے بعد کہ اب حج کے لئے حکومت کی طرف سے دی گئی سبسڈی یعنی رعایت ختم کر دی گئی ہے سُن کر اپنے وجود کے اندر دور کہیں ایک خاصہ زوردار جھٹکا سا محسوس کیا اور اب دن بدن سینے میں گھٹن سا محسوس ہو رہاہے تنہائی میں آنسوؤں کا نہ رکھنے والا سلسلہ ہے جسمانی وجود کے انگ انگ میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے ہر جوڑ ٹوٹ سا گیا ہے اور ایک انجانی سی درد کی کیفیت میں مبتلا ہوں۔

بس یہی سوچ رہا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت سبسڈی ختم کر دیتی کم از کم اعلان تو نہ کرتی اس سے کم سے کم میری ہمت کے مینار تو نہ گرتے میں احساس محرومی کے سمندر میں غرق تو نہ ہوتا۔ 2020 نہ سہی 2021 میں ہی اپنے عزم کو عملی جامہ پہنا سکتا تھا کاش حکومت وقت نے یہ اعلان نہ کیا ہوتا۔

صاحبِ حیثیت ہوں یا نہ ہوں، ہم مسلمان ہیں۔ ”حج“ جیسی عظیم عبادت ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کا خواب ہی تو ہے جو ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ کیا فائدہ مجھ جیسی اولاد کا کہ جس کی اچھی پرورش کے لئے میرے ماں باپ حج تو نہ کرسکے لیکن مجھ جیسا اولاد بھی اب ان کی یہ خواہش پوری نہیں کر سکے گا؟

آخر کیوں کہا جاتا ہے کہ ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے؟ کیوں؟ صاحبِ حیثیت کو اللہ اور دے لیکن جو صاحبِ نہیں ہے ان کے لئے تو ریاست کو کردار ادا کرنا ہوتا ہے تاکہ ملک میں مساوات قائم رہے۔ جب ریاست کے اندر موجود ایک نچلا طبقہ احساسِ محرومی و احساسِ کمتری کا شکار ہوجائے تو ریاست جسے ماں کہا جاتا ہے اس کا تو کوئی کردار ہی نظر نہیں آتا۔

میری ماں تو ایسی نہیں ہے!

اب اللہ کی عدالت سے رجوع کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں اِس وقت کس اندرونی تکلیف میں مبتلا ہوں یا اللہ اب تو ہی ہے جو میری پکار کو سُن سکتا ہے۔ میری اس جائز حاجت کو پوری کر دے آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید محمد یوسف کی دیگر تحریریں
سید محمد یوسف کی دیگر تحریریں