استعفیٰ؟ چھوڑئیے، رات کی بات کا مذکور ہی کیا؟


بجائے ڈسکلیمر ڈالنے کے ہم لوگوں کے نام بدل دیں گے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ نہیں بلکہ خالصتا سوچی سمجھی ہے۔ صرف خدا لگتی کہیں گے۔ اور کہنا بنتا بھی ہے۔ اب اوکھلی میں سر دے ہی چکے ہیں تو موصلوں سے کیا ڈرنا۔ آپ کو پڑھتے ہوئے ڈر لگے یا ہماری گستاخی پر غصہ آئے تو ہم ذمہ دار نہیں۔ اپنے رسک پر پڑھیے۔ مناسب لگے تو ہسٹری سے ہی ڈیلیٹ کر دیجئے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

قصہ کچھ دس سال پہلے کا ہے جب ہم ایک سرکاری انجینئیرنگ یونیورسٹی میں آرکیٹیکچر کے طالب علم تھے۔ مانتے ہیں کہ طبیعت لا ابالی تھی۔ کلاسوں میں خاص دل نہیں لگتا تھا۔ کینٹین میں بیٹھ کر دوستوں سے گپیں لگانا سیمنٹ اور کنکریٹ کے میل جول پر غور و خوض سے زیادہ بھاتا تھا۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں کہ ان یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء کتنے بھی لاپرواہ ہو جائیں ان کے اندر کا کیڑا نہیں جاتا۔ شروع سے نمبروں کی دوڑ میں رہنے والے یہ بچے ہمیشہ اسی تگ و دو میں رہتے ہیں۔ کوئی گریڈ یا نمبر آگے پیچھے ہو جائے انہیں گوارا نہیں۔

امتحانات میں پورے سال کی کسر پوری کر دیتے تھے۔ پڑھ پڑھ کر آنکھیں لال کر لیتے تھے۔ نتیجے کی ہمیشہ ٹینشن ہی رہتی تھی۔

اس دن بھی کچھ ایسی ہی فیصلہ کن گھڑی تھی۔ نتیجہ آنا تھا۔ جہاں دل دھڑک رہا تھا وہاں یہ یقین بھی تھا کہ اس دفعہ تو تیر ہم ہی ماریں گے۔ فروری کا ہی مہینہ تھا۔ صبح سوا آٹھ بجے کا وقت تھا۔ ہماری پوری جماعت سانس روکے ایڈمن بلاک میں نتیجے کی اسکرین کے آگے کھڑی تھی۔ جب ڈسپلے شروع ہوا اور ہمارا نام آیا تو ایک لمحے کو تو نہ ہمیں اپنی نظروں پر یقین آیا نہ ہی ہمارے دوستوں کو۔ یوں لگا جیسے زمیں پیروں تلے کھسک گئی ہو۔ دنیا جھٹ سے اسی اسکرین میں سمٹ گئی ہو۔ دن میں تارے نظر آنا کیا ہوتا ہے ہمیں اس دن سمجھ آئی۔

ہم ایک مضمون میں فیل تھے۔ تین بار دیکھا تو بھی یہی نتیجہ تھا۔

وہیں زار و قطار رونا شروع ہو گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کی یہ مضمون بھی ایسا تھا جس میں کسی کی کمپارٹ نہیں آتی تھی۔ خیر جب حواس بحال ہوئے تو دوستوں کے مشورے پر استاد محترم کے پاس گئے۔ وہ بھی ہکا بکا رہ گئے۔ کہنے لگے
’پیپر ری چیک کرا لو۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں نے تمہیں فیل کیا ہو۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور اب مجھے استعفی دے دینا چاہیے۔ ‘

ان کی اس بات پر ہماری جان میں جان آئی۔ ایک سہیلی کو پکڑا اور جھٹ پیپر ری چیکنگ کی درخواست دی۔ دو دنوں میں بلاوا آیا اور ہم دونوں سہیلیاں اگزامنر آفس میں میرا پیپر دیکھنے کو موجود تھیں۔ اسے اس لئے لے گئے کہ دو لوگ دیکھ لیں۔ کہیں ہم سے کچھ مس نہ ہو جائے۔

صاحب، قصہ مختصر یہ کہ جب پرچہ سامنے آیا تو وہ جواب جو بظاہر صحیح تھے ان پر واقعی نشان بنے ہوئے تھے۔ نمبروں کا وہ تیاپانچہ ہو رکھا تھا کہ ہم کیا ہماری سہیلی بھی حیران تھی۔ یونیورسٹی کی ری چیکنگ پالیسی یہی تھی کہ بس ٹوٹل کاونٹ چیلنج ہو سکتا تھا، استاد کی مارکنگ نہیں۔ ہم واقعی فیل تھے۔ صحیح جوابات کے باوجود کیسے فیل تھے ہم نہیں جانتے تھے۔ منہ لٹکا کر اس دفتر سے نکل آئے۔

استاد صاحب کو وعدہ یاد دلانے کا فائدہ نہیں تھا۔ وہ بھلے جتنے بھی غلط ہوتے ہمارے استاد تھے۔ آنے والے امتحانات بھی ان ہی کے ہاتھ میں تھے۔ استعفی انہوں نے کیا دینا تھا ہم ہی کو چپ سادھنی تھی۔ سرکاری یونیورسٹی میں استاد ہی مائی باپ ہے۔ طالب علم کو بس سر جھکانا ہے۔ ظاہری بات ہے استعفے والی بات ہوائی فائر ہی تھی جس کی زد میں ہم آ چکے تھے۔ اپنی اوقات پہچانی اور واپس لیکچر تھیٹر کی راہ لی۔

اس بات کو بہت عرصہ ہو چکا ہے۔ ہم ڈگری لے چکے۔ پیشہ بھی تبدیل کر چکے۔ کئی ملک بھی بدل چکے۔ دنیا بدلنے کا خواب بھی بھلا چکے۔ اپنی کمپارٹ بھی تقریبا بھول بھی چکے تھے کہ کل فیض آباد دھرنے کی رپورٹ کے بارے میں پڑھا۔ عزت ماب جناب جنرل باجوہ صاحب کا ایک بھولا بسرا بیان بھی پڑھا کہ اگر فیض آباد دھرنے میں فوج کے ملوث ہونے کا امکان ہوا تو میں استعفی دے دوں گا۔ سچ پوچھئے تو ہمیں یاد بھی نہیں تھا۔ غالبا انہیں بھی یاد نہیں تھا۔ ایسی باتیں یاد رکھنی بھی کیوں ہیں۔ بس 19 دسمبر 2017 کی یہ خبر دیکھ لیجئے۔

https://www.bbc.com/urdu/pakistan-42393407

فیض آباد دھرنے کی رپورٹ اب سامنے آ چکی ہے جس میں فوج کا وہی کردار بیان ہوا ہے جو زبان زد عام تھا۔ اس شطرنج کے مہرے خادم رضوی کو تو کب کا رستے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کا کام ختم ہو چکا تھا۔ ۔ میڈیا نے بھی یہ خبر تو کیا چلانی تھی۔ الٹا نیب نے صوبائی وزیر علیم خان صاحب کو گرفتار کر لیا اور بریکنگ نیوز کا خاطر خواہ انتظام کر دیا۔

کون سا دھرنا؟ کیسا دھرنا؟
کون سی گالم گلوچ؟ کون سے ہزار روپے کے نوٹ؟
کون سا عدالتی فیصلہ؟ کون سے ثبوت؟
کون سا استعفی؟ کہاں کا استعفی؟

ابھی پوری ڈگری پڑی ہے اور سرکاری یونیورسٹی میں یہ اختیار پروفیسر کے پاس ہی ہے۔ ان کو استعفی یاد دلانا ہے یا اپنی خیریت درکار ہے؟ بتائیے۔

چلئے اگنور کیجئے۔ کینٹین میں بیٹھ کر چائے سموسے کھائیے۔ علیمہ خان کی بجائے علیم خان کی گرفتاری پر حکومت وقت کے حوصلے کی داد دیجئے۔ ملک کا دیوالیہ گزشتہ حکومت کے سر ڈال دیجئے۔ وزیر خزانہ کا دال روٹی کھاتے ہوئے فوٹو شوٹ دیکھئے۔ وزیر اعظم صاحب کی سندرتا پر غزلیں لکھئے۔

شش۔ کوئی ہے؟ کسی کے بوٹوں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔
پڑوس کا چوکیدار فضل الہی ہو گا۔ کم بخت پوری رات گھر کے چکر کاٹتا ہے۔ ہماری نیند حرام کرتا ہے۔
کوئی بات نہیں۔ اگنور کیجئے۔ آخر پوری ڈگری پڑی ہے۔

Facebook Comments HS