ہمارے ہیروز متنازعہ کیوں ہیں؟


برسوں پہلے کی بات ہے میں کالج سے واپس آ رہا تھا گاڑی تقریبا خالی تھی۔ ایک آدمی گاڑی میں سوار ہوا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے خود ہی بڑے بے تکے انداز میں بات کی کہ قائداعظم بڑا خراب آدمی تھا۔ پھر ایک کرنسی نوٹ نکال کر مجھے دکھایا اور کہا یہ دیکھو ان کاغذوں کے لئے قائداعظم کی تصویر والے ان کاغذوں کے لئے نہ جانے کتنی برائیاں اور کتنے ہو ظلم ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں اس کے اعتراض پر کوئی رد عمل ظاہر کرتا وہ اگلے سٹاپ پر اتر گیا۔ اور میں سوچنے لگا کہ قائداعظم کون ہے کچھ لوگ قائداعظم کو مجاہد کہتے ہیں کچھ لوگ لادین (سیکولر) کہتے ہیں۔ کچھ لوگ تقسیم ہند کو قائداعظم کا عظیم کارنامہ کہتے ہیں اور کچھ لوگ جرم۔ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے ہیروز متنازعہ کیوں ہیں؟

خیر پہلے میں ان اعتراضات کا جواب دیتا ہوں جو قائداعظم کی ذات کے حوالے سے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ جو آدمی مجھے گاڑی میں ملا تھا اس کے اعتراض کا جواب تو سادہ سا ہے کہ دنیا میں صرف قائداعظم کی تصویر والے کرنسی نوٹ نہیں ہیں بلکہ گاندھی کی تصویر والے نوٹ اور ڈالر وغیرہ بھی ہیں۔ اور ان کے حصول کے لیے بھی برائیاں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے۔ حالانکہ قائداعظم نے کئی مرتبہ اسلام کو مکمل ضابطہ حیات اور قرآن کو بہترین راہنما بیان کیا ہے۔

اور اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا ہمارا مقصود تھا جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں“۔ اگر قائداعظم سیکولر تھے تو مفکر اسلام علامہ اقبال ان کے اتنے قریب کیوں تھے۔ رہی بات مذہبی آزادی کی توقائد اعظم نے فرمایا تھا کہ تم اپنے مندروں اپنی مسجدوں اور اپنی عبادت گاہوں میں جاننے کے لیے آزاد ہو۔

تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سیکولر تھے کیونکہ اسلام بھی مذہبی آزادی کی اجازت دیتا ہے۔ حضرت محمدؐ نے تو مسیحی برادری کے ساتھ عہد نامہ تحریر کیا ہوا ہے۔ جس میں ان کے گرجا گھروں کی حفاظت کرنا ان کا احترام کرنا اور ان میں سے کوئی چیز نہ اٹھانا اور مسیحی عورتوں سے زبردستی شادی نہ کرنے جیسی شقیں شامل ہیں۔ یہ معاہدہ تاقیامت ہے قائداعظم نے مذہبی آزادی کا اعلان کر کے اسلام کے اصول کو ہی دہرایا ہے۔

پھر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قائداعظم نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کو تقسیم کیا۔ جبکہ تقسیم ہند سے پہلے قائداعظم کو اپنی جان لیوا بیماری کا علم ہو چکا تھا۔ تو وہ آدمی جسے اپنے اگلے دن کا یقین نہ ہو وہ اقتدار کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کرے گا ان کا مقصد آزادی تھا نہ کہ اقتدار۔

کچھ اور لوگ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر ہندوستان کو تقسیم نہ کیا جاتا تو ہندو اور مسلمان امن سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہوتے۔ یہی سوال قائد اعظم سے بھی پوچھا گیا تھا۔ ایک دفعہ قائداعظم طلباء سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک ہندو لڑکے نے سوال کیا کہ آپ ہندوستان کو تقسیم کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ہم ایک جیسے ہیں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔ قائداعظم نے پانی کا گلاس منگوایا اور تھوڑا سا پانی پینے کے بعد اس ہندو لڑکے سے بقیہ پانی پینے کو کہا لیکن اس نے انکار کردیا۔ پھر قائداعظم نے ایک مسلمان لڑکے کو وہی پانی پینے کو کہا جو مسلمان لڑکے نے بخوشی پی لیا تب قائداعظم نے فرمایا ہم میں تم میں یہ فرق ہے۔

قائداعظم نے فرمایا ہم ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں ایک قوم کے ہیرو دوسری قوم کے دشمن ہیں۔ 26 فروری 1948 کو اپنے ایک نشریاتی بیان میں قائداعظم نے فرمایا کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست نہیں بنے گی جو ملاؤں کے ذریعے چلائی جائے گی ہمارے ہاں بہت سے غیر مسلم مثلاً ہندو عیسائی اور پارسی ہیں لیکن وہ سب پاکستانی ہیں۔ وہ ویسے ہی حقوق کے حق دار ہوں گے جیسے کہ عام پاکستانی شہری اور وہ پاکستان کے معاملات میں اپنا جائز حصہ ڈالیں گے۔

یہاں قائداعظم کا اشارہ ان ملاؤں کی طرف تھا جو دوسرے فرقے والوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے وہ غیرمسلموں کے ساتھ کیسا رویہ رکھتے۔ ان مولویوں کی طرف انھوں نے اشارہ کیا جن میں سے کچھ قائداعظم کے شیعہ ہونے پر خوشی مناتے ہیں۔ اور کچھ وہ جو قائداعظم اور علامہ شبیر عثمانی کے تعلقات پر خوش ہوتے ہیں۔ اصل میں غلطی ہماری ہی ہے۔ ہمارے ہیروز اس لیے متنازعہ ہوچکے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے اپنے مقاصد کے لئے ان کی زندگی کے کچھ واقعات ان کی کچھ باتیں استعمال کی ہیں۔

ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحابہ کرام کو بانٹ لیا ہے۔ جنہوں نے اہل بیت کو تقسیم کرلیا ہے۔ جنہوں نے اپنے اپنے صرف اپنے مطلب کی احادیث کو سچ مانا ہے۔ اور قرآن مجید کی تفاسیر اپنی اپنی مرضی کی بنا لی ہیں۔ اسلام اور قائداعظم تو غیر مسلموں کو مذہبی آزادی دے رہے ہیں لیکن ہمارے مولوی دوسرے فرقے والوں کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے۔ خدا فرماتا ہے میں محمدؐ کی پوری امت کو بخش دوں گا۔ مولوی کہتے ہیں صرف ہمارا فرقہ جنت میں جائے گا۔

اسلام کہتا ہے کہ فرقے بازی میں نہ پڑو ہم فخر سے بتاتے ہیں کہ میں فلاں فرقے کا ہوں۔ میں قائداعظم کے بچپن کے واقعات جوانی یا عہد تعلیم کے واقعات یا پھر عملی زندگی کے واقعات لکھ کر روایتی قسم کا مضمون نہیں لکھنا چاہتا تھا۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم قائداعظم کے اقوال پر عمل کریں اور ان کی زندگی سے سبق حاصل کریں۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ جناح نسلی اور گروہی امتیاز کے خلاف لڑنے والوں کے لئے جذبے کا ایک مستقل ذریعہ ہیں۔

قائد اعظم نے فرمایا کہ ”آپ تعلیم پر پورا دھیان دیں اپنے آپ کو عمل کے لئے تیار کریں۔ یہ آپ کا پہلا فریضہ ہے آپ کی تعلیم کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ آپ دور حاضر کی سیاست کا مطالعہ کریں یہ دیکھیں کہ آپ کے گرد دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ہماری قوم کے لئے تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے“۔ ”اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی“۔

میں تو خاص طور پر ان کی قوت ارادی سے متاثر ہوں کہ قائداعظم کہتے ہیں میں درست فیصلے لینے پر یقین نہیں رکھتابلکہ فیصلہ لے کر اسے ایک بہترین فیصلہ ثابت کرتا ہوں۔ جب تک ہم اسلام یا اپنے قومی و مذہبی رہنماؤں کے نظریات کو صحیح اور موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق فروغ نہیں دیں گے۔ اور اپنے اپنے مفاد اور مقاصد کے لئے ان کو استعمال کریں گے تب تک نہ ہم ترقی کر سکیں گے۔ اور نہ ہی دنیا میں مقام و مرتبہ حاصل کر سکیں گے۔

ہمارے ہیروز اس لیے متنازعہ ہیں کیوں کہ ہم نے خود انہیں متنازعہ بنا دیا ہے۔ جن لوگوں کے لیے انہوں نے قربانیاں دیں جب وہ ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش نہیں کریں گے تو دشمن جن کے خلاف انہوں نے جدوجہد کی وہ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیوں کر کریں گے۔ جب تک ہم خود ایک نہیں ہو جاتے تب تک ہمارے رہنما ہمارے ہیروز بھی ایک نہیں ہوسکیں گے۔ جب تک ہم اپنے تنازعات ختم نہیں کر لیتے ہمارے ہیروز متنازعہ رہیں گے تو اس لیے اپنے آپ سے تبدیلی کا آغاز کرو۔

Facebook Comments HS