فیس بک فرینڈ کی موت پر

عمومی طور پر فیس بک پہ دوست بنانے یا وقت گزارنے والوں کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ آپ فیس بک پہ جتنے بھی دوست بنا لیں آپ کے جنازے پہ آپ کے اہل علاقہ یا رشتہ دار ہی ہوں گے۔ بھئی میرا تو ماننا یہ ہے کہ دوست اس لیے نہ بناؤ کہ آپ کا جنازہ بڑا ہو بلکہ دوست اس لیے بناؤ کہ آپ کی زندگی خوشگوار گزرے۔ فیس بک ایک وسیع پلیٹ فارم ہے جس پہ

Read more

رومن اردو: ایک محبوب قاتل

ہم اپنی موج مستی اور بے پروائی میں کئی ایسے کام کرتے چلے جاتے ہیں جن کے نقصان اور مضر اثرات سے ہم یکسر ناواقف ہوتے ہیں۔ ہماری نظر یا فہم و فراست میں وہ کام بالکل بے ضرر ہوتے ہیں جبکہ حقیقت میں ان کا اثر بہت بڑا اور بہت برا ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک کام رومن اردو کا استعمال ہے، ہم میں سے اکثریت روزانہ کی بنیاد پر بغیر سوچے سمجھے پیغامات کے تبادلے، گپ شپ اور

Read more

میری خراب ہینڈ رائٹنگ پر تنقید

اپنی ہاتھ کی لکھائی (ہینڈ رائٹنگ) اتنی اچھی ہے کہ میرا لکھا دیکھ کر بری سے بری لکھائی والا بھی شکر ادا کرتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ لکھائی کے معاملے میں پورے ڈاکٹر واقع ہوئے ہیں، کہتے ہیں نا کہ ڈاکٹر بننے کےلیے ڈگری کے ساتھ ساتھ لکھائی خراب ہونا بھی ضروری ہے۔ میں ڈاکٹر بھی اسی وجہ سے نہیں بنا کہ کم از کم ڈاکٹرز کی لکھائی فارمیسی والوں کو تو سمجھ آتی ہے اور میرا "لکھے مو

Read more

ایک دوست کی چھٹیوں کی سرگزشت

میرا ایک ادبی سا دوست نسیم لاہور کام کرتا ہے وہ کچھ دن چھٹی پہ گھر آیا، گھر میں اس کا وقت کیسا گزرا اس کا احوال اسی کی زبانی سنیے۔ لاہور ہونے کی وجہ سے اپنی یہ عادت بن گئی تھی کہ دیر سے سونا، دیر سے اٹھنا یعنی اپنی مرضی سے سونا اپنی مرضی سے اٹھنا۔ گھر آیا بھی تو رات کو دیر سے سویا لیکن صبح صبح ابو نے مجھے سوئے ہوئے دیکھا تو ان کے اندر

Read more

آپریشن دوارکا: پاک بحریہ کے عزم، ہمت اور حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت

قوموں کی تاریخ میں کئی آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ یہ آزمائشیں دراصل اس قوم کی شجاعت، ہمت، حوصلے، وقار اور حب الوطنی کا امتحان ہوتی ہیں اور صرف وہی قومیں ہر امتحان میں سرخرو ہوتی ہیں جن کا ایک ایک فرد اور ادارہ اپنے وطن کی حفاظت اور سر بلندی کے لیے جان لڑا دے۔ مملکت خدا داد پاکستان کو اپنے قیام سے ہی مختلف النوع آزمائشوں کا سامنا رہا ہے لیکن 1965 کی پاک بھارت جنگ پاکستان کی تاریخ

Read more

پاک بحریہ کی وطن عزیز کے لئے کثیر الجہتی خدمات

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے حصول پاکستان کے بعد اپنی مختصر زندگی میں پاکستان کے ہر شعبے اور ادارے کی خبر گیری کی، ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے افواج پاکستان سے مشترکہ اور الگ الگ خطاب کیا۔ بانی پاکستان سمندری حدود کی حفاظت اور بحری فوج کی اہمیت کا پورا ادراک رکھتے تھے اس لیے انہوں نے 23 جنوری 1948 کو نو تشکیل کردہ پاک بحریہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”آپ

Read more

حسن طلال ٹوانہ

گوتم بدھا نے کہا تھا کہ ”زندگی میں ایک بار آپ کسی ایسے سے ضرور ملتے ہیں جو سب کچھ بدل دیتا ہے“ گوتم بدھا کا فرمان درست ہے۔ لیکن میری نظر میں اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ”آپ زندگی میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں جو کچھ نہ کچھ بدل دیتے ہیں“ میری زندگی میں آنے والے ایسے لوگوں میں سے ایک نام حسن طلال ٹوانہ کا ہے۔ حسن طلال ٹوانہ کا تعلق سرگودھا کے

Read more

عمران خان کو رستہ بتانے والے

عمران خان کی کارکردگی اور اچھائی برائی پہ تبصرہ کرنے سے پہلے ایک واقعہ سنیں۔ خوشاب صوبہ پنجاب کا ایک پسماندہ ضلع ہے۔ خوشاب میں دریا بھی ہے، صحرا بھی ہے، میدان بھی ہیں، پہاڑ بھی ہیں اور دربار بھی ہیں۔ خیر دربار تو ہر جگہ ہی موجود ہیں خواہ آپ ان کو اچھا سمجھتے ہیں یا برا۔ ویسے تو نہ مجھے درباروں سے خدا واسطے کا بیر ہے نہ ہی کوئی خاص وابستگی۔ لیکن ایک دربار پہ مجھے کئی دفعہ جانے کا موقع ملا اور مجھے وہاں جانا اچھا بھی لگا۔

یہ دربار ضلع خوشاب میں صحرا کے بیچوں بیچ واقع ہے جو کہ بھیلم شہید کے دربار سے معروف ہے۔ اس کی کہانی کبھی مناسب موقع ہوا تو آپ کے گوش گزار کروں گا۔ اس دربار پہ جانے کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ میرے ماموں لوگوں کا گھر اس طرف ہے اور دوسری اس دربار پہ لگنے والا سالانہ میلہ۔ آپ کے بھی مشاہدے میں ہو گا کہ درباروں وغیرہ پہ عرس یا میلوں ٹھیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بھیلم شہید کا میلہ ہندی تقویم (کلینڈر) کے مہینے ”چیت“ (جو کہ تقریباً مارچ اور اپریل میں پڑتا ہے ) میں منعقد ہوتا ہے۔

Read more

پاکستانی کپل دیو کی جارحانہ اننگز

پاکستان میں چار فیصد اقلیت آباد ہے جس میں سے ہندو پچاس لاکھ آبادی کے ساتھ سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ اول تو کوئی غیر مسلم شہری صدر یا وزیراعظم بن نہیں سکتا ، اگر بن بھی جائے تو اس سے مسلم اکثریت کو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جمہوریت میں فیصلے اکثریت ہی کرتی ہے۔ کم از کم ہمیں یہ خواب دیکھنے کی تو اجازت دی جائے کہ ہم اپنے ملک کے صدر یا وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔ ہم سے ہمارے خواب تو نہ چھینے جائیں۔ آپ لوگ ابھی تک ہمیں اپنا نہیں سکے، آپ ابھی تک ہمیں غیر مانتے ہیں۔

Read more

ریاست کی غلطی اور گمشدہ کتاب کا زندہ سبق

یونیورسٹی کی لائبریری سے ایک کتاب ہاتھ لگی تھی ”قدیم ریاستیں میدان جنگ میں“ ۔ بدقسمتی سے مجھے اس کتاب کے مصنف کا نام بھول گیا ہے مگر مجھے اس کتاب کا خلاصہ اور اس کتاب کا بنیادی سبق کبھی نہیں بھولے گا۔ اس کتاب میں یونان کی قدیم ریاستوں (ایتھنز، سپارٹا، مقدونیہ) روم اور دوسری قدیم ریاستوں کے عروج و زوال کی کہانی درج تھی۔ ریاستوں کے عروج کی وجوہات چاہے مختلف تھیں۔ مگر ان کے زوال کی وجہ

Read more

موہن جو دڑو سے کراچی تک

انسان پہلے پتھر کے دور میں رہا جہاں وہ جانوروں کا شکار کرتا اور جانوروں کا شکار بنتا رہا۔ پھر وہ پتھر کے دور اور غاروں سے نکلا اور زراعت کے دور میں داخل ہو گیا۔ جہاں شخصی و سماجی ضرورت کے تحت وہ بستیاں آباد کرنے لگا اور بستیوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط اور قانون وضع کرنے لگا، اس طرح انسان جنگلی اور وحشی پن چھوڑ کر تہذیب کے راستے پہ گامزن

Read more

خدارا اب مجھے مرنے دو: بھٹو کی دہائی

میرا تیر نشانے پر لگا،  بھٹو صاحب پلٹے اور بولے تم بھی مجھے ہی سانحہ 1971 کا ذمہ دار سمجھتے ہو۔ مجھے لگتا ہے آپ اکیلے ذمہ دار نہیں تھے۔ بھٹو صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے سمجھدار لگتے ہو۔ میں ہنسا تو مجھے گھورتے ہوئے بولے اتنی سمجھداری اچھی نہیں ہوتی۔ بھٹو صاحب مڑے اور تیز تیز قدموں سے چلنے لگے۔ بھٹو صاحب وہ 1965 کی جنگ کیوں لگی تھی۔

Read more

میرے آبائی گاؤں کی ویرانی اور کھویا ہوا مشرقی پاکستان

میری پیدائش جمعیت پور گاؤں میں ہوئی جس کی اکثریت زراعت سے وابستہ ہے۔ وہاں کے رہنے والے یا تو زمینوں کے مالک ہیں یا پھر زمینوں پہ کام کرنے والے۔ میرا خاندان بھی وہاں مزارعے کے طور پہ کام کرتا رہا۔ جن کی اپنی زمین نہیں ہوتی تھی ان کے لیے مزارعے کے طور پہ کام کرنا بھی باعث امتیاز سمجھا جاتا تھا اور جس مزارعے کے پاس جتنی زیادہ قابل کاشت زمین ہوتی وہ اتنا ہی زیادہ آسودہ

Read more

شادیوں کا سیزن

شادی شدہ اور کنوارے میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو حسرت سے دیکھتے ہیں۔ جب بھی شادیوں کا سیزن آتا ہے تو کچھ لوگوں کے نصیب میں شادی کا لڈو آتا ہے اور زیادہ تر کی قسمت میں نکاح کے چھوہارے آتے ہیں۔ شادی کے لڈو کے بارے میں تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا کہ شادی کا لڈو جس نے کھایا وہ بھی پچھتایا، اور جس نے نہ کھایا وہ بھی پچھتایا۔ بندہ

Read more

ماضی کی رومانوی آوازیں

ناسٹلجیا انگریزی زبان کا لفظ ہے جسے مشتاق احمد یوسفی نے یادش بخیریا کا نام دیا ہے۔ خیر آپ کو علم معانی کے بکھیڑوں میں کیا الجھانا، آپ کو سادہ زبان میں سمجھاتا ہوں ناسٹلجیا سے مراد ہے ماضی میں کھونا۔ یعنی ماضی کو خوبصورت جاننا، ماضی کے حالات واقعات اور چیزوں کی محبت میں گرفتار رہنا۔ جب آپ کسی بوڑھے کو اپنے ماضی کے گن گاتے سنیں تو سمجھ جائیں کہ بابا جی ناسٹلجیا کے مریض ہیں۔ یہاں میں نے مریض کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ کسی حد تک ناسٹلجیا کو نفسیاتی بیماری گردانا جاتا ہے۔

Read more

خادم رضوی تاریخ کے آئینے میں

دنیا میں ایسی شخصیات بہت کم ہوں گی جن کے بارے میں تاریخ کا ایک موقف اور فیصلہ ہوگا جبکہ بے شمار ایسی شخصیات ہیں جن کے متعلق تاریخ کوئی ایک موقف نہیں رکھتی بلکہ ان کے چاہنے والے اور ان کے مخالفین کے متضاد بیانات اور خیالات تاریخ کا حصہ ہیں۔ خادم حسین رضوی بھی ایسی شخصیات میں شامل ہیں جن کے متعلق متضاد آراء موجود ہیں۔ وفات سے پہلے جہاں ان کے حامیوں کا ایک طبقہ تھا وہیں

Read more

معاشرے میں صحافی کی اہمیت اور کردار

آج کل کے دور میں ہر انسان اپنے اردگرد کے ماحول کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہے اور بدلتے حالات اور بدلتی دنیا میں اپنا مقام، اپنی اہمیت، اور ضرورت کا اندازہ لگانا چاہتا ہے۔ اور یہ سب معلومات اور آگاہی اسے میڈیا کے ذریعے ملتی ہے۔ دنیا میں ہونے والے کسی بھی اہم واقعے کی اطلاع یا خبر ہمیں میڈیا کے ذریعے ملتی ہے۔ صحافت

Read more

ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں

اگرچہ اردو زبان بہت زیادہ پرانی نہیں ہے لیکن پھر بھی اردو زبان میں ادب کی ہر صنف میں لکھا گیا ہے اور خوب لکھا گیا۔ شاعری، ناول، افسانہ، سفر نامہ، مضمون اردو ادب کا دامن بیش بہا خزانوں سے بھرا ہوا ہے۔ مزاح بھی ادب کی ایک اہم صنف ہے۔ اور اردو زبان میں مزاح میں بھی بہت خوب لکھا ہے۔ اردو ادب کے نثر لکھنے والے معروف مزاح نگاروں میں کرنل شفیق الرحمان، کرنل محمد خان، پطرس بخاری،

Read more

چائے عمدہ ہے!

میں کوئی چائے بیچنے والی کمپنی کا نمائندہ تو نہیں ہوں لیکن میری کہانی سے آپ کو چائے پینے کی اچھی خاصی ترغیب مل سکتی ہے۔ میرا تعلق ایک روایتی دیہی خاندان سے ہے۔ جہاں چائے کو زندگی کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ جہاں تین کھانے اور تین چائے کا اصول چلتا ہے۔ ایک وقت تھا جب دیہاتوں میں دودھ لسی کا چلن تھا مگر اب خال خال گھروں میں ہی دودھ، دہی اور لسی کا استعمال ہوتا

Read more

منزل ملے گی بھٹک کر ہی سہی

جب ہم کسی انجانے رستے پر چلتے ہیں تو ہمارے بھٹک جانے کا احتمال ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہمیں راستے کا پتہ نہیں ہوتا اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں سے اس راستے کے متعلق آگاہی حاصل کریں۔ لیکن یاد رکھیں آپ کو سیدھا راستہ وہی بتا سکتا ہے جو خود اس راستے کو اچھی طرح جانتا ہو۔ بالکل اسی طرح جب ہم زندگی کے سفر پر نکلتے ہیں تو ہمیں ہماری منزلوں کے متعلق زیادہ علم نہیں ہوتا۔

Read more

کلہاڑی کا دستہ

میرا دوست عقیل بول رہا تھا اور میں اس کے سامنے بیٹھا پوری توجہ سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ عقیل اکثر میری باتوں کی میری سوچ کی میرے خیالات اور تصورات کی مخالفت کرتا رہتا ہے۔ مگر پھر بھی اس کے ساتھ وقت گزار کے بہت اچھا لگتا ہے۔ کیوں کے اس کا اختلاف کرنے کا بات کو رد کرنے کا طریقہ اور اس کے دلائل اس کی باتیں اتنی پر اثر اور مضبوط ہوتی ہیں کہ مجھے

Read more

یونیورسٹی کا ماحول: کتنا سچ، کتنا افسانہ

جس دن میں اپنی پہلی کلاس کے لئے تیار ہو کر گھر سے نکلا تو میرے چچا نے مجھے کہا خالد یونیورسٹی کے ماحول اور کالج کے ماحول میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مزید کہا کہ یونیورسٹی میں تنظیمیں وغیرہ ہوتی ہیں تو کسی بھی تنظیم کا حصہ نہ بننا اور اپنے کام سے کام رکھنا۔ دراصل میرے چچا مجھے تنظیموں سے دور رہنے کہ نہیں بلکہ صنف نازک سے دور رہنے کی تاکید کر رہے تھے۔ میں نے ان

Read more

میں اکثر سوچتا ہوں لوگ ترقی کیوں نہیں کرتے

میں اکثر سوچتا ہوں لوگ ترقی کیوں نہیں کرتے اس سوال پہ اکثر میں سوچتا رہتا ہوں۔ مختلف وجوہات میرے ذہن میں آتی ہیں مختلف مسائل سامنے آتے ہیں۔ جن میں ذاتی بھی ہوتے ہیں اور معاشرتی بھی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کو انھی لوگوں نے فتح کیا جنہوں نے پہلے خود کو فتح کیا۔ جو خود سے ہی ہار جائے اس کا دنیا سے کیا مقابلہ۔ دنیا میں انہی لوگوں نے نام کمایا جنہوں نے معاشرتی پابندیوں

Read more

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

زندگی کے گزرے لمحات پر نظر دوڑائیں تو غم اور خوشی ہنسی اور آہوں کا ایسا امتزاج نظر آتا ہے کہ لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور دل غمگین ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دل خوش ہوتا ہے تو آنکھوں میں آنسو چھلک جاتے ہیں۔ زندگی کے واقعات کچھ اس انداز سے یاد آنے لگتے ہیں کہ دھوپ میں بارش کی طرح غم اور خوشیاں اکٹھی یاد آنے لگتی ہے۔ کسی کے ساتھ گزرے حسین پلوں کی یاد چہرے پر

Read more

کھٹا میٹھا

چھوٹا بھائی علی احمد سرگودھا شہر میں ایک بجلی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ایک اور پارٹنر (چاچا حفیظ) کام کرتا ہے۔ چاچے حفیظ کی ماں بہن چاہے ایک کر دو چاہے الگ الگ کر دو وہ غصہ نہیں کرتا۔ لیکن اگر کسی نے شریف خاندان کی شان میں ذرا بھی گستاخی کی چاچے حفیظ نے اسے نہیں چھوڑنا۔ شریف خاندان کے خلاف کوئی بات کرنے سے چاچا حفیظ ایسے غصے میں آتا ہے جیسے ملک میں کوئی اونچ نیچ ہونے سے بابا رحمتا ایکشن میں آتا تھا۔

افسوس کہ شریف خاندان کو اتنے چاہنے والے لوگ ملے مگر شریف خاندان نے انہیں ایسے لوٹا جیسے کسی کی عزت لوٹی جاتی ہے۔ خیر بات یہ ہے کہ چاچے حفیظ کا بہنوئی فوت ہو گیا اور وہ چھٹی پر چلا گیا۔ اب اس کی جگہ پے علی بھائی نے مجھے کام پہ گھسیٹ لیا۔ اور وہاں پہ ہاتھ ایسے چلانا پڑتا تھا جیسے کچھ لوگوں کی زبان چلتی ہے۔ یعنی بغیر رکے۔ سب سے اہم بات جس نے مجھے پریشان کیا وہ یہ تھی کہ ہمیں سارا دن ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر کام کرنا پڑتا تھا۔ جس طرح تلوک چند محروم نے ملکہ نور جہاں کے مزار کے متعلق تھا کہ

Read more

میں بلوچستان میں کچھ بھول آیا ہوں

یہ میری کسی بلوچستانی سے پہلی ملاقات تھی۔ میں ”ایسا ہے پاکستان“ کے صدر اسد رشید کے ساتھ مل کر بلوچستان پہ آن لائن کر رہا تھا۔ اور میرا کسی بلوچستانی سے ملنا از حد ضروری تھا تاکہ آن لائن موجود مواد کے بارے میں کچھ تصدیق کی جا سکے۔ میں نے بڑی مشکل سے فیروز کا نمبر لیا اور اس سے رابطہ کیا۔ فیروز نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں میں آپ کو بتاؤں گا تو سہی لیکن

Read more

تعلیم کے تھری سی اور ہمارے اساتذہ

میرا کزن بلال شام کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہے۔ ایک دن اسے دیر ہو گئی تو میں بچوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور گپ شپ لگانی شروع کر دی۔ ٹیوشن پڑھنے والے، بچوں میں مختلف عمر، مختلف کلاسز، مختلف رتبے کے بچے موجود تھے۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں ان سے سوال کرنے شروع کر دیے۔ میرا پہلا سوال یہ تھا کہ ہر بچہ یہ بتائیے کہ اسے کون سا ٹیچر اچھا لگتا ہے۔ کیوں اچھا لگتا ہے اور وہ کیا پڑھاتا ہے۔ میرا دوسرا سوال یہ تھا کہ کون سا ٹیچر برا لگتا ہے۔

کیوں برا لگتا ہے۔ اور وہ کیا پڑھاتا ہے۔ تمام بچوں کا مجموعی جواب کچھ یوں تھا ہمیں وہ استاد اچھا لگتا ہے جو کلاس میں ہمارے ساتھ ہنسی مذاق کرے کچھ قصے کہانیاں سنائے اور زیادہ سخت نہ ہو۔ اور وہ استاد برا لگتا ہے جو صرف اور صرف پڑھائی کی بات کرے۔ سختی کرے۔ اور بچوں کو گالیاں دے یا برے طریقے سے بلائے۔ صرف ایک بچے کے علاوہ سب نے کہا کہ ان کا ناپسندیدہ مضمون ریاضی ہے۔ زیادہ تر کا پسندیدہ استاد یا تو اردو پڑھاتا تھا یا انگلش۔

Read more

دماغ کی دہی بنانے والے لوگ

فوجی عارف میرا بہت اچھا دوست ہے۔ میرا جتنا وقت اس کے ساتھ گزرا ہے شاید ہی کسی اور کے ساتھ گزرا ہوگا۔ ابھی وہ فوج میں بھرتی نہیں ہوا تھا تب بھی ہم اسے فوجی ہی کہتے تھے۔ مگر اس کی فوج میں نوکری لگ نہیں رہی تھی۔ تو ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب اسے فوجی نہیں جٹ کہنا ہے۔ تو میں نے اسے جٹ کہنا شروع کر دیا اور کچھ عرصہ بعد وہ حقیقتاً فوجی

Read more

آگے راستہ بند ہے

بی اے کے کلاس فیلو اور دوست یاسر آفتاب کے والد محترم دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے۔ میں اعلان نہیں کر رہا بلکہ آپ کو سیاق و سباق بتا رہا ہوں۔ اطلاع ملنے کے بعد میں نے اسد اور کاشف سے رابطہ کیا۔ یہ بھی خیر سے ہمارے کلاس فیلو ہی ہیں۔ ان سے پوچھا یار کیا ارادہ ہے کب جانا ہے یاسر کے پاس۔ تو اس سوال کا بھی وہی حال ہوا جو اسمبلی میں پیش کیے

Read more

سو عظیم کتابیں اور قرآن مجید

کہا جاتا ہے کہ دو قسم کے لوگوں کی طلب کبھی پوری نہیں ہو سکتی ایک علم کے طالب کی اور دوسرے دنیا کے طالب کی۔ سرگودھا یونیورسٹی کی لائبریری میں ( جس سے مجھے ہمیشہ گلہ رہا کہ اس میں اعلیٰ پائے کی کتابیں بہت کم ملتی ہے ) میں نے مارٹن سیمورسمتھ کی کتاب ”سو عظیم کتابیں“ دیکھی جسے یاسر جواد نے ترجمہ کیا ہے۔ 528 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے بارے میں مترجم یاسر جواد کا

Read more

افلاطون کی ریاست اور پاکستان کی ریاست

یوٹوپیا کا مطلب ہے ایسی جگہ، ایسی ریاست جہاں کوئی گڑ بڑ نہ ہو، جہاں کوئی خرابی نہ ہو جہاں کوئی نا انصافی نہ ہو۔ افلاطون کی کتاب ”دی ری پبلک“ کو پہلی یوٹوپیا کہا جاتا ہے۔ مارٹن سیمورسمتھ اپنی تصنیف ”سو عظیم کتابیں“ میں ”ری پبلک“ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کے اگر ہم زمین پر جنت بنانے کا سوچیں تو دی ری پبلک سے کچھ تصورات مستعار لینے پڑیں گے۔ امریکی مصنف ایمرسن نے ریپبلک کے بارے

Read more

شکریہ ٹامس ایلوا ایڈیسن

نامور امریکی تاریخ دان اور مصنف ول دیورانٹ سے ایک انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ ”اگر میں آپ سے کہوں کہ تاریخ کے سب سے زیادہ متاثر کن شخص کا نام لیں تو کیا وہ نام کارل مارکس کا ہوگا“ ویل ڈیورانٹ نے جواب دیا کہ ”اگر آپ لفظ کے وسیع ترین مفہوم میں بات کریں تو پراثر کے معاملے میں سب سے زیادہ حصہ تکنیکی موجدوں ایڈیسن جیسے انسانوں کو دینا پڑے گا۔ بلاشبہ

Read more

ممتاز مفتی کی ”تلاش“۔

جو صاحب علم ہیں ان سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ اگر بندے سے کوئی حماقت ہوگئی بلکہ کئی ہوں گی تو درگزر کیجیے گا۔ کیوں کہ یہ بڑا ثواب کا کام ہے اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہوئی جو کہ لازمی ہوگی تو وہ بھی کر دیجئے گا۔

ممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مفتی نے اس کتاب تلاش کا دیباچہ ممتاز مفتی کی یاد میں کے عنوان سے لکھا ہے۔ جس میں وہ اپنے والد کی کچھ قابل اعتراض باتوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ وہ ان سے مجذوبانہ کیفیت میں لکھی گئی ہیں۔ کیوں کہ ہوش و حواس میں وہ باتیں کر گزرنا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر ممتاز مفتی اپنی کتاب لبیک جو ایک طرح کا سفر نامہ حج ہے میں خانہ کعبہ کو کالا کوٹھا لکھ دیتے ہیں۔

Read more

ممتاز مفتی سے میرا تعارف

بی اے کے دوران مجھے مطالعہ کے لیے وافر وقت ملتا تھا۔ اس سے پہلے بھی مجھے مطالعہ کا شوق تھا لیکن FSC میں اتنا وقت نہیں ملتا تھا کہ بندہ کورس کے علاوہ ادب کو پڑھے۔ FSC کے بعد میں نے ایک سال فارغ رہ کر گزارا۔ درحقیقت یہ کہنا چاہیے کہ فلمیں دیکھتے ہوئے گزارا۔ اس کے بعد میں نے اپنے ذاتی فیصلے کی بنیاد پر BA میں داخلہ لے لیا۔ میرا فارغ وقت زیادہ تر کالج کی

Read more

استاد کی عزت

جج صاحب یوں بیٹھے تھے جیسے مولوی حلوے کے انتظار میں بیٹھتے ہیں۔ سامنے دونوں گروہ بیٹھے تھے جن میں ایک استاد غلام علی صاحب تھے۔ جن پر الزام تھا کہ انہوں نے چودھری علی بخش کے چہیتے بیٹے کو ذاتی رنجش کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ جب کے استاد غلام علی کا موقف تھا انہوں نے حیدر کو ذاتی رنجش کی وجہ سے نہیں بلکہ سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے مارا ہے۔ اور اتنا

Read more

یہ قتل تھا یا خود کشی؟

دن کا پچھلا پہر تھا، میں باہر بیٹھا تھا، اور میرے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا۔ میری فکر کا دھارے کا بہاؤ کسی ایک سمت میں نہیں تھا، بلکہ تند و تیز ہواؤں کی طرح ادھر ادھر بھٹک رہا تھا، کہ اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے مجھے تخیلاتی دنیا سے نکال کر واپس حقیقی دنیا میں لا پٹخا۔ میں نے سیل فون اٹھایا، اسکرین پر نظر ڈالی، تو عمران کا نام جگمگا رہا تھا۔ ”ہیلو“!

Read more

قرض کی دھوم دھام اور مفت کی غربت

چوہدری صاحب پتر کی شادی کرنی ہے کچھ پیسے چاہیں تارے نے چوہدری اقبال کے پاؤں دابتے ہوئے درخواست کی۔ چوہدری اقبال نے اپنی ایک ٹانگ جسے تارا داب رہا تھا پیچھے کی اور دوسری ٹانگ آگے کرتے ہوئے بولا، اوئے تجھے کتنے پیسے چاہیں۔ چوہدری صاحب ایک لاکھ روپے چاہیں۔ چوہدری اقبال کا ہاتھ جو مونچھوں کو تاؤ دینے کے لئے اٹھا تھا وہ مونچھوں تک پہنچ کے رک گیا۔ اور غور سے تارے کی طرف دیکھتے ہوئے چوہدری

Read more

کس کے جنازے پہ ہو؟

آپ ہوتے کون ہے میری شادی کا فیصلہ کرنے والے سجاد نے تقریبا غصے سے اپنے والدین سے کہا۔ کیا آپ کی شادی کا فیصلہ میں نے کیا تھا۔ سجاد کا والد اس کے قریب آیا اور سجاد کے کان میں آہستہ سے کہا برخوردار میری شادی کا فیصلہ بھی میرے ماں باپ نے کیا تھا اسی لئے تو یہ تمہاری چڑیل جیسی ماں میرے گلے پڑی تھی۔ سجاد کی ماں نے بھی اسے کہا کہ میری شادی کا فیصلہ

Read more

یونیورسٹی بس اور پاکستان کے حالات کا موازنہ

سرگودھا یونیورسٹی نے جب سرگودھا ساہیوال بس چلائی تو میرے جیسے بیسیوں سٹوڈنٹس کو بے حد فائدہ پہنچا۔ پہلے جو میں ایک گھنٹے کے سفر کے لیے دو دو گھنٹے گاڑی کا انتظار کرتا تھا اس سے بھی نجات ملی اور وقت پر کلاس میں پہنچنے کی بھی روایت پڑی۔ یونیورسٹی بس چلنے سے پہلے میں سڑک کنارے ایسے کھڑا ہوتا تھا جیسے کوئی سیاستدان الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے۔ اور اس کی بے چینی، اضطراب اور بے یقینی کا جو عالم ہوتا ہے میرا بھی وہی ہوتا تھا کہ گاڑی ملے گی، نہیں ملے گی۔ میں وقت پر پہنچوں گا یا نہیں۔ اور بس چلنے کے بعد میرے حالات الیکشن جیتنے والے سیاستدان کی طرح بدل گئے۔

Read more

لوگ مسلمان کیوں ہوں گے؟

ہمارے علاقے کے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر مسیحی تھا۔ اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔ سکول میں بچوں پر تشدد کرتا۔ بچوں کے ساتھ ساتھ سب اساتذہ بھی اس سے نالاں تھے۔ اس کا کھانا پینا سب کچھ دوسرے اساتذہ سے الگ ہوتا تھا۔ ایک دن کچھ اساتذہ کی غیرت اسلامی نے جوش مارا اور انہوں نے ہیڈ ماسٹر کو اسلام کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ سب اساتذہ مل کر ہیڈ ماسٹر کے پاس گئے اور بڑے اخلاق سے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ہیڈ ماسٹر نے بڑے ادب سے سب اساتذہ کی بات سنی اور بڑی نرمی سے کہا میں مسلمان ہونے کے لِئے تیار ہوں۔ سب اساتذہ کے چہرے کھل اٹھے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے ہیڈ ماسٹر کی آواز ابھری۔ سب اساتذہ نے غور سے ہیڈ ماسٹر کی طرف دیکھا۔ پھر جو بات ہیڈ ماسٹر نے کی جو سوال انھوں نے پوچھا وہ آج بھی مجھے چبھتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر نے سب اساتذہ کی طرف دیکھا اور کہا میں مسلمان ہونے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھے یہ بتایا جائے میں کون سا مسلمان بنوں؟ سب اساتذہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور یکے بعد دیگرے اٹھ کر چلے گئے۔

Read more

محبت قربانی مانگتی ہے اظہار نہیں

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کافی وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں ایک پاگل سے جب اس کے پاگل ہونے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ میں اپنی محبت کا اظہار نہ کرسکا اور اس کی (یعنی محبوبہ) کی شادی ہو گئی اور میں اس غم میں پاگل ہو گیا۔ اور اب بھی میں اس کے لئے یہ دعا کرتا ہوں۔ کہ وہ جہاں رہے خوش رہے اور اسے یہ تک بھی علم نہیں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ اس ویڈیو نے مجھے عجب کشمکش میں ڈال دیا کہ محبت کا اظہار کرنا چاہیے یا نہیں۔ آئیے اس سوال کا جواب کچھ کہانیوں اور افسانوں کے علاوہ حقیقی دنیا میں بھی ڈھونڈتے ہیں۔ کہ کسی کو محبت کا اظہار کر کے کیا ملا اور محبت چھپا کے کیا ملا۔

کل ہی ایک انٹرویو میں جب میں نے اپنے محترم استاد سے سوال کیا کہ شاعری میں محبت کو ایک لازوال جذبے کے طور پر لیا گیا ہے آپ کے خیال میں یہ جذبہ زیادہ تر کس طرف لے جاتا ہے اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف۔ تو ان کا کہنا تھا کہ محبت ایک پاک اور پوتر جذبہ ہے جو انسان کو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے۔ محبت ضروری نہیں کہ کسی آدمی سے ہی کی جائے محبت خدا سے بھی کی جاتی ہے۔ اور انسان سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ

Read more

ہمارے ہیروز متنازعہ کیوں ہیں؟

برسوں پہلے کی بات ہے میں کالج سے واپس آ رہا تھا گاڑی تقریبا خالی تھی۔ ایک آدمی گاڑی میں سوار ہوا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے خود ہی بڑے بے تکے انداز میں بات کی کہ قائداعظم بڑا خراب آدمی تھا۔ پھر ایک کرنسی نوٹ نکال کر مجھے دکھایا اور کہا یہ دیکھو ان کاغذوں کے لئے قائداعظم کی تصویر والے ان کاغذوں کے لئے نہ جانے کتنی برائیاں اور کتنے ہو

Read more

اپنا اپنا قبلہ

ہمیشہ سے یہ انسان کی فطرت رہی ہے کہ وہ اپنی بات، اپنے کام کی تائید چاہتا ہے۔ اگر کسی محفل میں ہم کوئی بات کریں تو اگر لوگ ہماری بات کی تائید کریں تو ہمیں وہ لوگ بڑے دانش مند اور مہذب لگیں گے۔ لیکن اگر وہ ہماری بات پر اعتراض کریں تو ہم کہیں گے کہ لوگوں کی تو عادت ہے ہر چیز سے کیڑے نکالنے کی۔ جب ہم کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ جس طرح ہم کر رہے ہیں، یہ سو فی صد درست ہے۔ اس میں کوئی خامی نہیں ہے۔ یہ ہی سوچ دوسرے لوگوں کی ہوتی ہے۔ جب دوسرے ہمارے کام کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی ارسطو بننے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور پوری دانش مندی سے ہمارے کام کو بالکل غلط قرار دے دیتے ہیں۔ اور جو ہمت اور حوصلہ کام کرنے کے لیے ہم نے اپنے اندر پیدا کیا ہوتا ہے وہ ایک دم سے ماند پڑ جاتا ہے۔

Read more