لوگ مسلمان کیوں ہوں گے؟

ہمارے علاقے کے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر مسیحی تھا۔ اسلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔ سکول میں بچوں پر تشدد کرتا۔ بچوں کے ساتھ ساتھ سب اساتذہ بھی اس سے نالاں تھے۔ اس کا کھانا پینا سب کچھ دوسرے اساتذہ سے الگ ہوتا تھا۔ ایک دن کچھ اساتذہ کی غیرت اسلامی نے جوش مارا اور انہوں نے ہیڈ ماسٹر کو اسلام کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ سب اساتذہ مل کر ہیڈ ماسٹر کے پاس گئے اور بڑے اخلاق سے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ہیڈ ماسٹر نے بڑے ادب سے سب اساتذہ کی بات سنی اور بڑی نرمی سے کہا میں مسلمان ہونے کے لِئے تیار ہوں۔ سب اساتذہ کے چہرے کھل اٹھے۔ لیکن میرا ایک سوال ہے ہیڈ ماسٹر کی آواز ابھری۔ سب اساتذہ نے غور سے ہیڈ ماسٹر کی طرف دیکھا۔ پھر جو بات ہیڈ ماسٹر نے کی جو سوال انھوں نے پوچھا وہ آج بھی مجھے چبھتا ہے۔ ہیڈ ماسٹر نے سب اساتذہ کی طرف دیکھا اور کہا میں مسلمان ہونے کے لئے تیار ہوں لیکن مجھے یہ بتایا جائے میں کون سا مسلمان بنوں؟ سب اساتذہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور یکے بعد دیگرے اٹھ کر چلے گئے۔

Read more

محبت قربانی مانگتی ہے اظہار نہیں

آج کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ کافی وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں ایک پاگل سے جب اس کے پاگل ہونے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ میں اپنی محبت کا اظہار نہ کرسکا اور اس کی (یعنی محبوبہ) کی شادی ہو گئی اور میں اس غم میں پاگل ہو گیا۔ اور اب بھی میں اس کے لئے یہ دعا کرتا ہوں۔ کہ وہ جہاں رہے خوش رہے اور اسے یہ تک بھی علم نہیں کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ اس ویڈیو نے مجھے عجب کشمکش میں ڈال دیا کہ محبت کا اظہار کرنا چاہیے یا نہیں۔ آئیے اس سوال کا جواب کچھ کہانیوں اور افسانوں کے علاوہ حقیقی دنیا میں بھی ڈھونڈتے ہیں۔ کہ کسی کو محبت کا اظہار کر کے کیا ملا اور محبت چھپا کے کیا ملا۔

کل ہی ایک انٹرویو میں جب میں نے اپنے محترم استاد سے سوال کیا کہ شاعری میں محبت کو ایک لازوال جذبے کے طور پر لیا گیا ہے آپ کے خیال میں یہ جذبہ زیادہ تر کس طرف لے جاتا ہے اچھائی کی طرف یا برائی کی طرف۔ تو ان کا کہنا تھا کہ محبت ایک پاک اور پوتر جذبہ ہے جو انسان کو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے۔ محبت ضروری نہیں کہ کسی آدمی سے ہی کی جائے محبت خدا سے بھی کی جاتی ہے۔ اور انسان سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ

Read more

ہمارے ہیروز متنازعہ کیوں ہیں؟

برسوں پہلے کی بات ہے میں کالج سے واپس آ رہا تھا گاڑی تقریبا خالی تھی۔ ایک آدمی گاڑی میں سوار ہوا اور میرے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے خود ہی بڑے بے تکے انداز میں بات کی کہ قائداعظم بڑا خراب آدمی تھا۔ پھر ایک کرنسی نوٹ نکال کر…

Read more

اپنا اپنا قبلہ

ہمیشہ سے یہ انسان کی فطرت رہی ہے کہ وہ اپنی بات، اپنے کام کی تائید چاہتا ہے۔ اگر کسی محفل میں ہم کوئی بات کریں تو اگر لوگ ہماری بات کی تائید کریں تو ہمیں وہ لوگ بڑے دانش مند اور مہذب لگیں گے۔ لیکن اگر وہ ہماری بات پر اعتراض کریں تو ہم کہیں گے کہ لوگوں کی تو عادت ہے ہر چیز سے کیڑے نکالنے کی۔ جب ہم کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ جس طرح ہم کر رہے ہیں، یہ سو فی صد درست ہے۔ اس میں کوئی خامی نہیں ہے۔ یہ ہی سوچ دوسرے لوگوں کی ہوتی ہے۔ جب دوسرے ہمارے کام کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی ارسطو بننے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور پوری دانش مندی سے ہمارے کام کو بالکل غلط قرار دے دیتے ہیں۔ اور جو ہمت اور حوصلہ کام کرنے کے لیے ہم نے اپنے اندر پیدا کیا ہوتا ہے وہ ایک دم سے ماند پڑ جاتا ہے۔

Read more