اصل دہشت گرد آپ ہو بابا!
آج میں اپنی چھ سالہ بیٹی کا سامنا نہیں کر پا رہا۔
وہ مجھے ’بابا‘کہہ رہی ہے،میں’بیٹا‘ نہیں کہہ پا رہا۔
وہ اپنے ننھے ہاتھوں سے میرا چہرہ اپنی جانب موڑ رہی ہے ، میں اُس کی جانب دیکھ نہیں پا رہا۔
وہ گھو م گھوم کر میرے سامنے آ رہی ہے، میں اس سے کنّی کترا رہا ہوں۔
وہ بولتی ہے تو مجھے لگتا ہے، کراہ رہی ہو۔
وہ مسکراتی ہے تو مجھے لگتا ہے، مُنہ چڑا رہی ہو۔
وہ قہقہہ لگاتی ہے تَو مجھے لگتا ہے، چیخ رہی ہو۔
اُس کی ہنسی میرے دماغ پہ ہتھوڑے برسا رہی ہے۔
اُس کی گڑیاں مجھے گھور رہی ہیں۔
اُس کے کھلونے خطرے کے سائرن بجا رہے ہیں۔
ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے میری بیٹی میری بیٹی نہیں رہی بلکہ ساہیوال کی منیبہ بن گئی ہے۔
اُس کا ننھا وجود میرے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا کھڑا ہے۔
آج وہ بچوں کا وکیل بنے میرا راستہ روکے کھڑی ہے۔
زندگی بھر اتنی مضبوط رکاوٹ کا سامنا مجھے کبھی نہیں ہوا۔
زبان کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے والا یہ انسان آج اپنی بیٹی کی معصوم خاموشی کے آگے صم بکم کھڑاہے۔
میں نے اتنا بڑا ’وکیل‘ آج تک کبھی نہیں دیکھا اور اتنی مضبوط دلیل کبھی نہیں سُنی۔
مجھے لگ رہا ہے، جیسے وہ کہہ رہی ہے کہ
بابا! اصل دہشت گرد آپ ہو۔
آپ جانتے تھے کہ یہ معاشرہ محفوظ نہیں۔
آپ جانتے تھے کہ یہ ریاست مضبوط نہیں۔
آپ جانتے تھے کہ یہ سماج مہذب نہیں۔
آپ جانتے تھے کہ اس باغ کا کوئی مالی نہیں۔
آپ جانتے تھے کہ یہ ماحول بچوں کے لیے سازگارنہیں۔
آپ جانتے تھے کہ اس اجاڑ میں پھولوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
آپ جانتے تھے کہ اس ریگستان میں کہیں سایہ نہیں۔
اس کے باوجود آپ جگنوؤں کے دیس سے مجھے یہاں گھسیٹ لائے۔
بابا! مجھے آپ سے بہت پیار ہے، اتنا جتنا کہ اپنی گُڑیوں سے بھی نہیں۔
میں سارا دن اپنے کھلونے اور گڑیوں کو کسی کو ہاتھ لگانے دیتی۔ انہیں اپنے ساتھ کھانا کھلاتی ہوں۔ انہیں اپنے بستر پہ سلاتی ہوں۔ انہیں سردی نہ لگ جا ئے ، اپنا کمبل ان پہ دیتی ہوں لیکن جب آپ آتے ہیں تَو ان گڑیوں کو وہیں پڑا رہنے دیتی ہوں اور آپ سے لِپٹ جا تی ہوں۔
میری اصل گڑیا آپ ہو با با !
لیکن آج مجھے لگا کہ آپ کو مجھ سے کوئی پیار نہیں۔
میں چندا ماموں کے دیس میں بہت خوش تھی۔
بابا! میں نے آپ کا کیا بگاڑا تھا کہ آپ نے مجھے تلخیوں کے ان کانٹوں میں لا پھینکا۔
بابا! مجھے نہیں لگتا کہ میں آپ کے اس سلوک کو کبھی بھول پا ؤں گی۔
مجھے نہیں لگتا کہ آپ سے بے پناہ محبت ہونے کے باوجود اِس اُجڈ معاشرے کاحصہ بنانے پرمیں آپ کو کبھی معاف کر پاؤں گی۔
بابا ! میں تو چھوٹی ہوں لیکن آپ تو بڑے ہیں اگر آپ اس معاشرے کو سدھا ر نہ سکتے تھے تو آپ کے بڑے ہونے سے کیا فائدہ ؟
بابا! میں تو پہلے یہاں تھی بھی نہیں لیکن آپ تو یہیں تھے۔اگر آپ میرے لئے اس معاشرے سے لڑ نہ سکتے تھے تو مجھے جگنوؤں کے دیس سے یہاں بے دیس کیوں کیا ؟
اگر آپ مجھے رہنے کو محفوظ گھر ، سفر کے لیے محفوظ سواری ، تعلیم کے لیے محفوظ سکول ، انصاف کے لئے محفوظ سماج اور آزادی کے لیے محفوظ ریا ست نہ دے سکتے تھے تو مجھے کیوں جنم دیا ؟
بابا! میں تَو کسی اور کو نہیں جانتی۔ مجھے تو یہی لگتا ہے کہ اصل دہشت گرد آپ ہی ہو۔

