ہیروں کی مالا۔ گائی ڈی موپاساں کی ایک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شارلٹ اتنی خوبصورت تھی کہ ہر کوئی کہتا اس کو تو کسی محل میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہ ایک سبزی فروش کے گھر پیدا ہوئی جہاں اس کی قسمت پر غربت کی مہر لگ چکی تھی۔

بڑھتی جوانی نے شارلٹ کو اپنی خوبصورتی اورغربت کا شدید ا حساس دلایا۔ وہ کتنی کتنی دیر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے حسن کو سراہتی۔ پھر اپنی بد قسمتی پراس کی آنکھیں آنسووں سے نم ہو جاتیں۔ وہ تصور میں اس شہزادے کا انتظار کرتی جس کے بارے میں اس نے کہانیوں میں پڑھا تھا۔ لیکن یہ سب خواب دھرے رہ گئے جب اس کی شادی محکمہ تعلیم کے ایک کلرک سے ہو گئی۔

الگزینڈر چاہتا تھا کہ شارلٹ کو ہر آسائش ملے۔ اس نے ایک لڑکی ملازم رکھ لی تھی جو ہر روز آ کر برتن دھوتی، کھانا پکاتی، اور باہر کے کام کاج کر تی۔

شارلٹ اب پچیس سال کی ہو چکی تھی۔ اسے احساس تھا کہ اس کی زندگی غربت میں ضائع ہورہی ہے۔ وہ اونچی سوسائٹی کا حصہ بننا چاہتی تھی لیکن مجبور تھی۔

شارلٹ کی واحد دوست سکول کی ایک سہیلی جین تھی جس کی شادی ایک امیر گھرانے میں ہوئی اور جو مادام جیرارڈ کی حیثیت سے سوشل حلقوں میں بہت مقبول تھی۔

ایک دن الگزینڈر بہت خوش خوش دفتر سے لوٹا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا جو اس نے شارلٹ کو تھما دیا۔

شارلٹ نے اکتاہٹ سے اسے ڈریسر پر رکھ دیا۔

”کم سے کم اسے دیکھ تو لو۔ یہ وزیر تعلیم کی طرف سے ایک ڈانس پارٹی کا دعوت نامہ ہے۔ کلرکوں میں بس مجھے ہی ملا۔ بڑی مشکل سے“۔

شارلٹ نے اداسی سے کہا۔ ”میرے پاس پہننے کے لئے کوئی بھی مناسب کپڑے نہیں ہیں۔ کیسے جا سکتی ہوں“

”نیا ڈریس کتنے میں آ جائے گا؟ “ الگزینڈر نے پوچھا۔

۔ ”چار سو فرینک سے کم میں تو نہیں آ سکتا“

وہ شانزے لیزے کی ایک دکان پر گئے جہاں شارلٹ نے ایک بہت خوبصورت ڈریس منتخب کیا۔

دونوں خوش خوش گھر لوٹے۔ شارلٹ نے دوبارہ ڈریس پہنا۔ دونوں ڈریسر کے آئینے کے سامنے کھڑے تھے۔ الگزینڈر نے دیکھا کہ شارلٹ اپنے آپ کو دیکھ کر خوش ہونے کی بجائے اداس نظر آ رہی ہے۔

الگزینڈر نے جھنجھلا کر پوچھا۔ ”ابھی تو بہت خوش تھیں۔ اچانک کیا ہو گیا؟ “

”وہاں اونچے خاندانوں کی بیگمات ہوں گی جو ہیرے جواہرات سے لدی ہوں گی اور میرے پاس ایک بھی زیور نہیں جو میں اس ڈریس کے ساتھ پہن سکوں میری کتنی تضحیک ہو گی؟ “

”تم بالوں میں پھول لگا کر جا سکتی ہو۔ بہت اچھے لگیں گے“۔

الگزینڈر نے مشورہ دیا۔

”نہیں الگزینڈر۔ تم یہ دعوت نامہ اپنے دفتر کے کسی اور کلرک کو دے دو“۔

”اب تو چار سوفرینک کا ڈریس بھی خرید لیا۔ اب تو جانا ہی ہو گا۔ کیا ہو سکتا ہے؟ اوہ، ا یسا کرو وہ جو تمھاری سہیلی ہے نا، جین، تم اس سے کوئی زیور ادھار مانگ لو“

شارلٹ کو یہ خیال پسند آیا۔ ابھی پارٹی میں دو ہفتے باقی تھے۔ اگلے دن شارلٹ اپنی سہیلی کے پاس گئی۔ جین نے زیورات کے کئی ڈبے شارلٹ کے سامنے رکھ دیے۔ شارلٹ نے انہیں پہن کر دیکھا مگر کوئی پسند نہیں آیا۔

” یہ سب پہت خوبصورت ہیں مگربات بن نہیں رہی۔ تمہارے پاس اور کچھ ہے؟ “

جین نے دراز سے ایک اور ڈبہ نکالا۔ سنہرے ڈبے کے اندر سیاہ مخمل کی گدی پر جگمگاتے ہیروں کی ایک بہت خوبصورت مالا رکھی تھی۔

”میں پارٹی کے لئے یہ ہار ادھار لے لوں۔ صرف ایک رات کے لئے؟ “

”کیوں نہیں، ضرور لو۔ اپنی پیاری سہیلی کے لئے میں اتنا بھی نہیں کر سکتی؟ “

شارلٹ نے جین کو گلے لگا کر کہا کہ وہ یہ احسان کبھی نہیں بھولے گی۔

پارٹی کی رات شارلٹ انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ اعلی افسران کی بیگمات اسے حسد اور ان کے شوہر اسے ہوس اور حسرت سے دیکھ رہے تھے۔ وزیر تعلیم تک اس کے ساتھ رقص میں شریک ہوا۔

ساری رات موسیقی، رقص، اور مشروبات کے دور چلے۔ صبح چار بجے کے قریب پارٹی اختتام کو پہنچی۔

وہ بہت دیر تک کپکپاتی سردی میں کرائے کی گاڑی ڈھونڈتے رہے۔ مشکل سے ایک پھٹیچر سی گھوڑا گاڑی ملی اور وہ صبح چھ بجے گھر پہنچے۔

الگزینڈر کا تھکن سے برا حال تھا۔ وہ صوفے پر ہی سو گیا۔ لیکن شارلٹ پارٹی کے نشے میں ڈریسر کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی خوبصورتی کو سراہنے میں مصروف ہو گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ ہیروں کی مالا نے اس کے حسن کو کیسے چار چاند لگا دیے تھے۔

اچانک ایک جگر چیر دینے والی ہولناک چیخ نے الگزینڈر کو جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ وہ بھاگا ہوا کمرے میں آیا جہاں شارلٹ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا گلا پکڑا ہوا تھا۔ اس کی رنگت بالکل زرد پڑ چکی تھی۔

”کیا ہواشارلٹ۔ تم نے اپنا گلا کیوں دبوچا۔ “

ابھی اس کا فقرہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ اس پر صورت حال آشکارا ہو گئی۔ شارلٹ کے گلے سے ہار غائب تھا۔

”اچھی طرح دیکھو، کیا پتہ کوٹ کے پھٹے ہوئے استر میں گر گیا ہو؟ “

”دیکھا ہے میں نے، ہر جگہ دیکھا“۔

”تم نے کرائے کی گاڑی کا نمبر دیکھا تھا؟

”نہیں“

”اب کیا کریں؟ “

الگزینڈر دوبارہ کپڑے بدل کر پیدل ڈانس ہال کی طرف چل دیا۔ وہ ہرقدم پر دیکھ رہا تھا کہ شاید ہار وہیں پڑا مل جائے۔ ۔ وہ کرائے کی گاڑیوں کے دفتر میں گیا۔ پولیس کو رپورٹ لکھائی۔ اخبار میں اشتہار دیا۔ مگر سب لا حاصل۔

جب شام گئے ناکام گھر لوٹا تو لگتا تھا کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہے۔ اسی تلاش میں تین دن گزر گئے۔

بلآخر شارلٹ نے جین کو پیغام بھجوا یاکہ ہار کا کندہ ٹوٹ گیا تھا، اس کو جوہری کے پاس مرمت کے لئے چھوڑا ہے، ہفتے دس دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔

خالی ڈبے پر جوہری کا نام لکھا تھا۔ دونوں جوہری کی دکان پر پہنچے مگراس کے ریکارڈ میں ایسے ہار کی فروخت کا اندراج نہیں تھا۔ انہیں ایک اور دکان پر ہو بہو ویسا ہی ہیروں کا ایک ہار نظر آیا۔ ہار کی قیمت بتیس ہزار فرینک تھی۔

الگزینڈر نے تنخواہ سے اٹھارہ ہزار فرینک پنشن فنڈ کے لئے بچائے تھے۔ باقی چودہ ہزار کے لئے اس نے گھر کی کئی چیزیں بیچیں۔ دوستوں، رشتے داروں اور کام پر ساتھیوں سے ادھار مانگا۔ قرضوں کے کاروباری بوڑھے سود خوروں کے سٹامپ پیپر پر دستخط کر کے اپنی پوری زندگی ان کے ہاتھ گروی رکھوا دی۔ رقم جمع کی اور جوہری سے ہار خریدلیا۔ شارلٹ ہار لے کر مادام جیرارڈ کے گھر پہنچی۔ جین نے ہار کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ڈبہ کھول کر تک نہیں دیکھا۔

الگزینڈر کو اب قرضوں کی ادائگی کرنا تھی۔ سب سے پہلے تو ملازمہ کو فارغ کیا۔ پھر اس نے دفتر کے کام کے ساتھ دکانوں پر بک کیپنگ شروع کر دی۔

شارلٹ کہاں تو نچلے متوسط طبقے کو منہ نہیں لگاتی تھی ا ور کہاں اب یہ نوبت آ گئی تھی کہ اسے خود گھریلو ملازمت کرنی پڑی۔ وہ گھر کے سارے کام خودکرتی۔ سودا سلف کے لئے دکانداروں سے پیسے پیسے پر لڑتی۔ اس کے چہرے پر غربت کے زیاں کار آثار نمایاں ہو گئے تھے۔ اس کے خد و خال بگڑ گئے تھے۔ چہرے پر حسن اور معصومیت کی بجائے ایک کرختگی برسنے لگی تھی اور گفتگو میں ایک بازاری پن آ گیا تھا۔

اس واقعے کو اب دس سال گزر چکے تھے۔ آج اتوار کا دن تھا۔ ہفتے بھر کی مشقت کے بعدشارلٹ گھر سے تازہ ہوا کھانے کے لئے نکلی اور شانزے لیزے کے فٹ پاتھ پر چل رہی تھی کہ اسے ایک جانا پہچانا سا چہرہ نظر آیا۔ ایک متمول خاتون پیاری سی بچی کے ساتھ پارک کی سمت جا رہی تھی۔ شارلٹ کو اچانک احساس ہوا کہ یہ تو مادام جیرارڈ تھیں جو ابھی تک ویسی ہی خوبصورت تھی جیسی دس سال پہلے۔

”جین“ شارلٹ نے مادام جیرارڈ کو آواز دی۔ جین نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے سے حیرت اور خفگی نمایاں تھی کہ ایک نچلے طبقے کی عورت اسے نام لے کر مخاطب کرنے کی جرات کیسے کر رہی ہے۔

مادام، میرا خیال ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ”“ جین نے بڑی شائستگی سے کہا۔ ”میں آپ کو پہچانی نہیں

”میں شارلٹ ہوں جین۔ تمھاری پرانی سہیلی“

”اوہ شارلٹ، تم کس قدر بدل گئی ہو۔ اگر تم نہ بتاتیں میں تو بالکل نہ پہچان پاتی۔ کتنی مدت ہو گئی ہے ہمیں ملے ہوئے؟ کیا حال ہے تمھارا؟ زندگی کیسی گزر رہی ہے؟ الگزینڈر کیسا ہے؟ “ شارلٹ نے بڑی گرم جوشی سے پوچھا۔

”ہاں بہت مدت ہو گئی۔ ہم اس دوران کافی سخت حالات سے گزرے۔ تمہیں گمان تک نہیں ہو گا کہ یہ سختیاں ہم پر تمہاری وجہ سے بیتیں۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب حالات ٹھیک ہیں“

”میری وجہ سے“؟ جین نے انتہائی حیرت سے کہا۔ ”میں نے کیا کیا شارلٹ؟ مجھ سے کیا خطا ہوئ؟ “

”“ تمھیں یاد ہے میں نے تم سے ایک ہار ادھار مانگا تھا؟

”ہاں، بڑی اچھی طرح سے“

”وہ ہار مجھ سے گم ہو گیا تھا“۔

۔ ”یہ کیسے ممکن ہے؟ تم نے تو وہ ہار مجھے لوٹا دیا تھا“

”جو ہار میں تمھارے پاس واپس لائی تھی وہ وہ نہیں تھا جو تم نے مجھے دیا تھا۔ تمھارا ہار گم ہو گیا تھا۔ اس جیسا بتیس ہزار فرینک کا ہار خریدنے کے لئے ہمیں قرض لینا پڑا۔ اور پچھلے دس سال سے ہم وہی قرض اتاررہے تھے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اسی سال وہ ساراقرض ادا ہو گیا ہے۔ اب حالات ٹھیک ہیں۔ اب ہم قرض سے آزاد ہیں“۔ یہ کہ۔ ”اب ہم قرض سے آزاد ہیں“ کر شارلٹ مسکرائی اور سر اٹھا کر بڑے فخر اور معصومییت سے مادام جیرارڈ کو دیکھا اور دو بارہ کہا

جین کو جیسے ایک دھچکہ سا لگا۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے بھر آئیں۔ اس نے بڑھ کر شارلٹ کو گلے لگایا اور کہا۔

”میری پیاری معصوم سہیلی۔ تمہیں کس کس دکھ سے گزرنا پڑا۔ صرف میری وجہ سے۔ مگر میرا ہار تو نقلی تھا۔ اس کی قیمت تو صرف تین سو فرینک تھی“۔

اختتام۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •