دفاع پچاس فیصد مہنگا لیکن این آر او غداری ہے!


اگر ملک کے قرضوں کے حجم سے ہی کسی قوم کے لیڈروں کے جرائم کو ماپنا بنیادی اصول وضع ہوجائے تو حساب دان تو یہ بھی گن کر بتائے گا کہ عمران خان نے پورے جتن سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے پانچ ماہ میں 9 ارب ڈالر قرض لیا ہے جو تقریباً 1300 ارب روپے بنتے ہیں۔ تحریک انصاف کے بزرجمہر ہی بتادیں کہ ان میں سے کتنی دولت کس کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی ہے اور قوم پر 30 ہزار ارب روپے کی بجائے اب جو 31 ہزار 300 روپے کا بوجھ ہے، اسے کیوں کر اور کون ادا کرے گا۔ اگر قرض لینے اور قومی بجٹ خسارہ پورا کرنے کی یہ رفتار جاری رہی اور تحریک انصاف کی حکومت نے قرض لینے کی موجودہ روش برقرار رکھی تو اس حکومت کی روانگی تک ملک کا مجموعی قرض 40 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرجائے گا۔

قومی خسارہ کا ذکر کرتے ہوئے این آر او کے ذکر سے اپنی خامیوں کو چھپانا اور ملکی ترقی کے لئے حاصل کیے گئے قرضوں کو سیاسی مخالفین کی بدعنوانی کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں سیکریٹری خزانہ نے موجودہ مالی سال میں دفاعی اخراجات کی مد میں مختص کردہ 1100 ارب روپے کی بجائے 1676 ارب روپے کے اعداد و شمار پیش کیے اور مالی بحران میں گھری ہوئی حکومت کی جبیں پر شکن تک نہ آئی۔ دفاعی بجٹ میں مالی سال مکمل ہونے سے پہلے ہی پچاس فیصد اضافہ ایک انہونی سے کم نہیں ہے لیکن خود مختاری اور شفافیت کے نعرے لگاتے وزیر اعظم اس حوالے سے ایک لفظ تک کہنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

تحریک انصاف کے لیڈر وسائل پر وفاقی حکومت کی دسترس بڑھانے کے لئے صوبوں کے حق پر تو نقب لگانا چاہتے ہیں لیکن قومی خسارہ کم کرنے کے لئے دفاعی اخراجات میں ہوشربا اضافہ کرتے ہوئے اف تک نہیں کرتے۔ وزیر اعظم کو جواب دینا چاہیے کہ ان کی حکومت کے نمائندے جب ملکی آئین اور این ایف سی ایوارڈ میں طے شدہ اصول کو مسترد کرتے ہوئے صوبوں کے مالی وسائل پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور وفاقی حکومت کے لئے وسائل میں زیادہ حصہ مانگتے ہیں تو کیا وہ یہ وسائل فوج کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ جیسا کہ موجودہ حکومت کے انتظام میں حالیہ بجٹ کے دوران کیا جارہا ہے۔

ملک کے اقتصادی مسائل حل کرنے کے لئے آبادی کنٹرول کرنے اور غیر پیداواری اخرجات کم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ یہ غیر پیداواری اخراجات وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں نیلام کرکے کم نہیں ہوں گے بلکہ کوئی بھی ہوشمند معیشت دان دفاع پر صرف ہونے والے وسائل محدود کرنے کا مشورہ دے گا۔ اس ملک کو جب ایٹمی طاقت بنانے کے جوش میں مالی دباؤ میں لایا گیا تھا تو یہی بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کے مقابلے میں رکاوٹ (Deterrent) کا کام کرے گی۔

اس طرح دفاع پر اپنی بساط سے زیادہ وسائل صرف کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اب زور شور سے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ بھارت کے دفاعی اخراجات میں ہوشربا اضافہ کے بعد ملکی دفاع کے لئے زیادہ وسائل فراہم کرنا لازم ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ معاشی مشکلات اور بحران کے باوجود دفاعی بجٹ میں اچانک پچاس فیصد اضافہ کرتے ہوئے حکومت، قوم کو اعتماد میں لینا بھی ضروری خیال نہیں کرتی۔

دفاعی اخراجات میں اس اچانک اضافہ کی خبر اور اس میں مزید اضافہ کی نوید کو ماضی قریب میں رونما ہونے والے سیاسی منظر نامہ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں فیض آباد دھرنے میں عسکری اداروں کا کردار، تحریک لبیک کا اچانک قوت پکڑنا اور پھر غبارے سے ہوا کی طرح غائب ہوجانا اور جولائی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی نمایاں واقعات ہیں۔ قوم کو اس سوال کا جواب چاہیے کہ کیا یہ اہتمام قومی وسائل میں عسکری اداروں کا حصہ بڑھانے کے لئے کیا گیا تھا؟

ملک کا دفاع پاکستان کے ہر باشندے کے لئے اہم ہے لیکن یہ کوئی ایسا مقدس موضوع نہیں ہے جس پر بات کرنا یا رائے دینا ملک دشمنی قرار دیا جائے۔ اس ملک میں مالی حیثیت سے زیادہ وسائل مسلح افواج کو دیے جارہے ہیں لیکن اس موضوع پر گفتگو کی بجائے مباحث کو این آر او اور غیر ملکی قرضوں تک محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا اسے وزیر اعظم کی سادہ لوحی اور دیانت داری کا مظاہرہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے؟

 وزیر اعظم این آر او کو قوم سے غداری قرار دیتے ہیں لیکن دفاعی اخراجات میں اضافہ پر زبان کھولنے پر قادر نہیں ہیں۔ بتایا جائے کہ یہ دیانت داری اور حب الوطنی کی کون سی قسم ہے؟

 

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali