حج کے بعد دیگر سبسڈی بھی ختم کر دی جائے


موجودہ حکومت نے عوام کی سہولت کے لئے دی گئی مختلف اداروں کی سبسڈی ختم کر دی ہے جیسے میٹرو اور حج سبسڈی وغیرہ شامل ہے۔ ان کو ختم کرنے سے ملکی حالات تو پھر بھی بہتر نہیں ہوئے اب جب سبسڈی ختم ہی کر دی ہے تو پھر تمام اداروں کی سبسڈی ختم کر دی جائے اس سے شاید ادارے کچھ منافع بھی دیں دے۔ جس واپڈا سرفہرست ہے۔ واپڈا کے تمام ملازمین کے لئے بجلی مفت ہے ایک تو بھاری تنخواہیں لیتے ہیں اوپر سے بجلی بھی مفت اور اپنا کام بھی ٹھیک طرح نہیں کرتے ملک میں اربوں روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے وہ قابو نہیں کر سکتے اور جو مفت بجلی ملتی ہے اس کا غلط فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔

دوسرا سوئی گیس ہے ملک کے بیشتر علاقوں میں گیس نہیں ہوتی اور ان کے ملازمین مفت گیس کے مزے لے رہے ہیں غریب عوام گیس کا بل ادا نہیں کر سکتی اور یہ لوگ مفت کے مزے لے رہے ہیں اور مہینے کے آخر میں بھاری تنخواہیں بھی لے رہے ہیں۔ پھر پی آئی اے کو دیکھ لے ادارہ خسارے میں جا رہا ہے اور ان ملازمین پانچ روپے میں ایسا کھانا کھا رہے ہیں جو کہ فائیو سٹار ہوٹل میں ملتا ہے وہ بھی ہزاروں روپے میں پھر کہتے ہیں پی آئی اے خسارے میں جا رہی ہے ایسے تو خسارے میں جائے گاجب مٹن پانچ روپے کا ہو گا۔

اور ایسے ہی وی آئی پی کھانے درجن سے زیادہ پکتے ہیں اس چیز کا بھی ختم کرنا چاہیے اب بات کرتے ہیں بڑے مگرمچھوں کا پالیمنٹ میں بیٹھ کر صرف گالیاں اور لوٹ مار کے علاوہ ان کا کوئی اور کام نہیں ہے لاکھوں میں تنجواہیں لیتے ہیں اور کاکردگی صفر ہے ان کے لئے کھانا مٹن دس روپے پلیٹ اور مچھلی بیس روپے کی ہے ادھر غریب عوام کو دو وقت کی روٹی بھی اچھی طرہ نہیں ملتی۔ لہذا ان کی یہ عیاشیاں بھی ختم ہونی چاہیے۔ ہر چیز کا بوجھ عوام پہ ڈال کر پھر کہتے ہیں برداشت کریں اور تنقید کرنے پہ کہتے ہیں ہمیں کام کرنے دیں۔ پاکستان میں اور محکمے بھی ہیں ان کے ملازمین بھی ہیں ان کے لئے تو کوئی سبسڈی نہیں پھر یہ واپڈا اور سوئی گیس والوں کو کیوں؟ سارا بوجھ عوام پہ ڈال دیں گے تو ملک ایسے کیسے چلے گا؟

Facebook Comments HS