شمیم بھائی نے عمران خان کو کیا وارننگ دی؟
کوئی بھی بلاگ شروع کرنے سے پہلے سوچتا ہوں کہ اپنی یادوں کو کسی بڑے آدمی سے جوڑ دوں تا کہ چھاپنے والے پر یہ بوجھ نہ بنے کہ مجھ جیسے عام آدمی کی کہانیوں میں کوئی کیوں دلچسپی لے گا لیکن مجھے بڑے لوگ نظر ہی عام اور غیر معروف لوگوں میں آتے ہیں۔ اب تک زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے خوبصورت حصہ ریلوے کی برٹ کالونی لاہور میں گزارا۔ یہاں کرکٹر محمد یوسف جو اس وقت یوسف یوحنا تھے بھولے شری کانت کے ہاتھوں پٹے کیونکہ ایک لاگت بازی کے میچ میں رن آؤٹ ہو گئے تھے جسے بھولا جی نے جان بوجھ کر رن آؤٹ ہونے پر محمول کیا لیکن بات صرف رن آؤٹ ہونے کی نہیں تھی۔
دراصل محمد یوسف ( یوسف یوحنا ) کے خلاف بھولا جی کو خار تھی کہ جب ان کی محبوبہ بوگی روڈ سے گزرتی ہے تو محمد یوسف منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتا ہے اور ذومعنی فقرے کستا ہے مثلاً، ”حاجی تیریاں اکھاں نئیں تلواراں نیں تلواراں“۔ بھولا جی نے رن آؤٹ کا بہانہ بنا کر اپنی محبوبہ کی ہتک کا بدلہ لے لیا۔ کیوں نہ لیتے وہ بھرے گھر کی دیوار پھلانگ کر بھولا جی کے ساتھ ان کے بستر میں گھس جاتی تھی اور یہی ادا بھولا جی کو بہت پسند تھی۔
لمبے عرصہ تک بھولا جی ہر اس شخص کا ”گٹہ“ توڑ دیا کرتے تھے جس کا ان کی محبوبہ کے لیے رشتہ آتا تھا۔ پھر یہ مشہور ہو گیا کہ اگر گٹے تڑوانے ہیں تو ملکہ ( بھولے کی محبوبہ ) کے لیے رشتہ بھیج دو۔ آپ سمجھتے ہوں گے کہ بھولا جی بہت غصیلے تھے۔ ہر گز نہیں۔ بھولا جی بہت ٹھنڈے مزاج کے گٹھو سے گول مول آدمی تھے اور دوسروں کی نفسیات کا جلد مطالعہ کر لیتے تھے۔ واپڈا میں ملازم تھے اور رات کی ڈیوٹی ہوتی تھی اور اکثر بھولا جی دو ڈیوٹیاں کر رہے ہوتے تھے۔ اب یہ نہ پوچھئے گا دوسری کون سی۔ ظاہر ہے واپڈا کی۔
برٹ کی سب سے مشہور شخصیت ہیں شمیم بھائی۔ منحنی سے، گول گول اردو سپیکنگ باریک آواز والے شمیم بھائی۔ کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق اور بلا کے جھوٹے۔ بہت اجلے ہوئے اور تہذیب یافتہ انسان تھے (بل کہ ہیں اور اللہ انہیں لمبی زندگی دے ) لیکن جھوٹ صرف کرکٹ میں بولا کرتے تھے اور بولنے سے پہلے آگاہ کر دیتے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ بھی ویسا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کرکٹ کے علاوہ زندگی میں نہایت کھرے، سچے اور ایماندار۔
مہذب وہ کرکٹ میچ کے دوران بھی رہتے تھے۔ میں کبھی کپتان ہوتا تو باہر سے اپنی ٹیم کو گرمانے کے لیے کہا کرتا، ”مارو ماں۔ ۔ ۔ نوں“ جس سے ان کی ٹیم کا مورال بہت گرتا۔ شمیم بھائی بے چارے تو اونچا بولنے یا گالم گلوچ کے عادی ہی نہ تھے، بڑا کسمساتے اور کوشش کرتے کہ کسی پنجابی کو ٹیم میں جگہ دے دیں لیکن پنجابیوں کو شمیم بھائی سے یہ گلہ تھا کہ وہ اردو بولنے والوں کے ساتھ جانبداری کرتے ہیں۔ اس شکوہ کا کبھی برملا اظہار تو کسی نے نہ کیا لیکن ذہن میں کہیں یہ سوچ موجود تھی حالانکہ برٹ میں بہت سے دوسرے اردو سپیکنگ بھی تھے جو شمیم بھائی کی ٹیم کی بجائے دوسری ٹیموں کو ترجیح دیتے تھے۔
ان کے محتاط ہونے کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ جم خانہ میں عمران خان باولنگ کر رہے ہیں اور شمیم بھائی امپائر ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے زندگی میں کبھی نو بال نہیں کی۔ اس دن پاؤں کریز کے بہت قریب گر رہا تھا اور احتمال تھا کہ نو بال ہو سکتی ہے۔ شمیم بھائی نے وارننگ دے ڈالی کہ، ”خان صاحب! پاؤں ذرا آگے گیا تو نو بال دے دوں گا“ جس پر خان صاحب نے بڑے یقین سے کہا، ”آ گے نہیں جائے گا“ اور نہیں گیا۔
شمیم بھائی زندگی کے پہلے چالیس برس ریلوے کالونی سے باہر نہیں گئے۔ رہائش، ملازمت، کلب، کارسن گراؤنڈ، سکول اور قبرستان سب وہیں تھے۔ شمیم بھائی حادثاتی طور پر میٹرک کر گئے تھے۔ دراصل وہ ہر مضمون میں طاق تھے ماسوائے ریاضی کے اور ریاضی میں اتنے برے تھے کہ ریاضی کا پرچہ ہی دینے نہیں گئے۔ ڈاکیے کا انتظار کرتے رہے اور ایک دن ان کی غیر موجودگی میں ڈاکیا مولوی صاحب ( ان کے والد صاحب جن سے وہ بہت ڈرتے تھے ) کو ان کا رزلٹ کارڈ دے گیا۔
شمیم بھائی گھر پہنچے تو مولوی صاحب جلیبیاں لے کر بیٹھے تھے۔ پوچھنے پر علم ہوا کہ نتیجہ آ گیا ہے۔ شمیم بھائی سمجھ گئے کہ آج سر بازار رسوائی ہو گی لیکن رزلٹ کارڈ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ تینتیس نمبر لے کر پاس ہو گئے تھے۔ دراصل لاہور بورڈ والے یہ سمجھے کہ شاید ان سے پرچہ گم ہو گیا ہے اور باقی مضامین میں کارکردگی دیکھتے ہوئے انہوں نے شمیم بھائی کو پاس کر دیا۔ اسی رزلٹ کارڈ پر شمیم بھائی آج تک ریلوے میں نوکری کر رہے ہیں۔ ان کے صاحب زادے بھی ہمارے ساتھ ہی کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور ایک دن میچ کے دوران انہوں نے گیند اپنے ابا کے نازک اعضا پر دے ماری۔ شمیم بھائی تڑپ اٹھے، ”بیٹا یوں بدلہ لو گے اپنی پیدائش کا“ اور تمام دن تکلیف کے ساتھ کھیلتے رہے۔
ہر شام میچ کے بعد پوچھتے کہ ان کی پرفارمنس کیسی تھی۔ کسی نے بھی اچھی کہہ دیا تو انعام کے طلبگار ہوتے اور انعام ان کا یہ تھا کہ اوندھے لیٹ کر کہتے، ”وہ بھاری پتھر میری پشت پر رکھ دو“۔ وہاں ایک بھاری سا پتھر ہمیشہ موجود ہوتا جو وکٹ بنانے کے لیے ضروری تھا۔ کرکٹ سے عشق کا عالم یہ تھا کہ ایک دن نیٹ پریکٹس پر آئے تو چہک نہیں رہے تھے۔ بے دلی سے ایک طرف کھڑے تھے۔ وجہ پوچھی تو پہلے ٹالتے رہے اور جب ہم نے ”عزت افزائی“ شروع کی کہ یہاں آم خریدنے آئے ہو اگر کھیلنا نہیں ہے۔ آج تک تو آپ نے ایسا نہیں کیا۔ کیا موت پر گئی ہے تو کہنے لگے، ”مولوی صاحب چلے گئے“۔
” اس کتھے چلے گئے۔ سدھی طرح دس شمیم بھائی“۔ شمیم بھائی رونے لگے۔ وہ عمر میں ہم سب سے بڑے تھے اور انہیں ہم نے ہمیشہ ہنستے ہی دیکھا تھا۔ کسی نے کہا خدانخواستہ مولوی صاحب اس جہان سے تو نہیں چلے گئے اور شمیم بھائی نے روتے روتے اثبات میں سر ہلا دیا۔ ہم لوگوں نے اس دن نیٹ پریکٹس بند کی اور شمیم بھائی کے ساتھ چل دیے۔
سیدھے بازو سے گیند نہیں پھینک سکتے تھے اور اس لئے ”وٹا“ کراتے تھے۔ ہر میچ میں یم انہیں باولنگ کروانے کی سپیشل اجازت دیتے تھے۔ میرا گھر سکیم کے تحت جب نواز شریف کی حکومت میں کارسن کرکٹ گراؤنڈ کو کھودنے کا فیصلہ ہوا تو شمیم بھائی ڈٹ گئے، ”نوکری چھوڑ دوں گا، دنیا چھوڑ دوں گا لیکن کارسن کو کچھ نہیں ہونے دوں گا“۔ سب مذاق اڑاتے کہ اتنا آپ نے اپنے بچوں کا خیال کیا ہوتا تو آج بہت کچھ کما چکے ہوتے لیکن شمیم بھائی توکل کرنے والے آدمی تھے۔ کبھی کسی بچے کے لیے نہ سفارش ڈھونڈی نہ مال کمانے کا سوچا۔
خیر لالہ امرناتھ، عمران خان، وسیم اکرم، محسن کمال، نذیر جونیئر جیسے لوگوں کا حوالہ دیا کہ وہ یہاں میچ کھیلنے آتے رہے ہیں اور یوں بیوروکریسی کی زد سے کارسن کو بچایا۔ کارسن کرکٹ گراؤنڈ علامہ اقبال کے گھر جاوید منزل کے پیچھے بوگی روڈ پر ہے اور علامہ صاحب شام کے وقت ٹہلنے کے لئے یہاں آیا کرتے تھے۔ شمیم بھائی جیسے سادہ اور میٹھے لوگ جہاں ہوتے ہیں محبت ہی بکھیرتے ہیں۔


