ریڈیو کے عالمی دن پر ”پرانے پاکستان“ کے بوسیدہ شہری کی ریڈیو کتھا


آج کے اس جدید دور میں بلاغ کا کوئی بھی ذریعہ چاہے جتنابھی پرانا کیوں نہ ہو گیا ہواس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہی صورت حال ریڈیو کے بارے میں بھی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمارے نوسٹیلجیا سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، جن میں ایک ریڈیو بھی شامل ہے۔ نجانے کتنی ہی نسلوں کا ریڈیو سے نوسٹیلجیا وابستہ ہے۔ جدید ابلاغ کی ہوشربا سہولیات میسر ہونے کے باوجود ریڈیو سماعت کرنے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔

ان سطور میں یہ زمین زاد ریڈیو کے حوالے سے اپنے بچپن کے رومانس کو آپ سے شیئرکرنا چاہے گا۔ ریڈیو کو ہمارے گھر میں خاص اہمیت حاصل تھی۔ ہمارا گھر شہر کے ان گنے چنے گھرانوں میں شامل تھا جہاں ڈاک خانہ سے ریڈیو کا لائسنس بنوانے کو فخر اور قانون پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اباجی (رسول بخش نسیم) اس سلسلے میں کوئی تساہل نہیں برتا کرتے تھے۔ اس دور میں ہمارا گھر کچا تھا۔ کچے آنگن میں کنواری مٹی کی روح پرور باس میں بسا ایک چھوٹا سا گھرجہاں سرشام ہی صحن میں چھڑکاؤ کرکے چارپائیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی میز پر لکڑی کے ڈبے کا ریڈیو رکھ دیا جاتاجو دن کو ابو کے کمرے میں میز پر دھرا رہتا۔

اس دور میں ایف ایم ریڈیو کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا۔ ریڈیو ملتان اور ریڈیو بہاول پور کے دوش پر نشر ہونے والے اپنے پسندیدہ پروگراموں میں خطوط کے ذریعے پسندیدہ گانوں کی فرمائش کی جاتی اور جب اپنا مطلوبہ پروگرام آن ایئر ہوتا تو ہم سب بہن بھائی میزبان کے کنج لب سے اپنا نام سننے کے لئے ریڈیو سیٹ کے گرد جمع ہوتے۔

اس دور میں ریڈیو کے ڈرامے نے اپنے سامعین کو سحر میں لے رکھا تھا، جو ہماری تہذیبی زندگی اور بڑی حد تک عمومی شائستگی کا مظہر ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، ساجد حسن درانی، محمد نقی، مظہر کلیم خان، محمد اجمل ملک اور شمشیر حیدر ہاشمی اپنی خوبصورت آوازوں اور خوبصورت باتوں کے باعث اب تک ہمارے دل و دماغ میں ہمکتے ہیں۔ ابو جی استاد رمضان حسین خان، عاشق حسین خان کی جوڑی کے علاوہ جمیل پروانہ اور نصیر مستانہ کی جوڑی، قمر اقبال، حسینہ ممتاز اور گل بہار بانوکی جانستاں آوازوں کے عاشق تھے جو اس وقت ریڈیو کے دوش پر دن میں کئی بار گونجا کرتی تھیں۔

ان سب کی مدھ بھری آواز میں سرود رفتہ کی الوہی مہک لئے لازوال گیتوں کا سحر اب بھی ہمیں عروضی زمانوں سے باہر لے جاتا ہے اور اداس کر دیتا ہے۔ ’‘ تلقین شاہ ”، ’جمہور دی آواز“، ”سوجھل سویل“، ”پاسبان“، ”صدائے جرس“، اتم کھیتی اور ”آپ کی فرمائش“ جیسے سدابہار پروگرام اب تک سماعتوں میں گونج رہے ہیں۔ 1992 ء کے تباہ کن سیلاب کے دنوں میں جب موضع سرکی تحصیل علی پور میں دریائے سندھ اور چناب کے سنگم پر واقع ہمارا گاؤں ٹبہ برڑہ چاروں اطراف خوفناک سیلابی پانی میں گھر گیا تھا اور کئی دن تک اس کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع رہا۔

یہ ریڈیو ہی تھا جو ہمیں پل پل کی خبریں اور حالات حاضرہ سے آگاہی دیتا رہا۔ آزاد کشمیر ریڈیو کے پروگرام ”صدائے وطن“، آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس سے پرانے گیتوں کاپروگرام ”تعمیل ارشاد“ اور ریڈیو سیلون سے گونجنے والے سدابہار نغمے کیسے فراموش کیے جا سکتے ہیں؟ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا کہ ریڈیو کو سینے پر دھرے اور رات گئے نشر ہونے والے سدابہار گیتوں کے پروگرام کو سماعت کرتے ہی ہم نیند کی وادیوں میں چلے جاتے۔ ریڈیو پاکستان کے خبرنامہ کی پرانی سگنیچر ٹیون اور بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین کی مخصوص ٹیون کے ساتھ اساطیری براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی گونجنے والی طلسمی آواز کون بھول سکتا ہے؟

ریڈیو کا سنہری دور وہ تھاجب ریڈیو حقیقی معنوں میں تقریباً ہر خاندان کا فرداور دوست ہوا کرتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ریڈیو پر پروگرام کرنے والے فنکار اور صداکار سامعین میں بہت مقبول ہوا کرتے تھے اور ہر ریڈیو اسٹیشن کو روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں خطوط موصول ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو ایک استاد اور رہنما کی طرح لوگوں کی تربیت کیا کرتا تھا اورسامعین ریڈیو کے ذریعے دی جانے والی تربیت پر ایک طالب علم کی طرح عمل کیا کرتے تھے۔

ریڈیو نے عوام کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو تفریح کا بھی سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ پاکستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے گلوکار، موسیقار، سازکار، شاعر اور مصنفین ریڈیو پاکستان کے ساتھ وابستہ رہے اور یوں ملک میں ثقافتی ترقی اور فکری ہم آہنگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ وہ سامعین جو ریڈیوپر کرکٹ کمنٹریز سنا کرتے تھے، وہ اب تک عمر قریشی اور جمشید مارکر کو نہیں بھولے ہوں گے۔

عمر قریشی کے انداز کو کرکٹ کمنٹری میں معیار تسلیم کیا گیا۔ اسی طرح اگر ہاکی کے کھیل کی کمنٹری کی بات کی جائے تو ایس ایم نقی کو اردو کمنٹری کا باوا کہنا بے جا نہ ہوگا۔ یہ واحد اردو کمنٹیٹر ہیں جنہیں پاکستان میں ہاکی کے سنہرے دور کے دوران قومی ہاکی ٹیم تک رسائی حاصل تھی۔ ان دنوں مرد خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگرام زیادہ سنتے تھے اور خواتین ڈرامہ اور موسیقی کے پروگرام جبکہ نوجوان سکول براڈکاسٹ اور بچوں کی دنیا زیادہ ذوق وشوق سے سنتے تھے۔ بڑی تعداد میں لوگ مباحثوں، تقریری مقابلوں اورمشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ ریڈیو نے پاکستان میں فلم اور آرٹ کو فروغ دینے والے ادارے کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔ ٹی وی اور فلم کے اکثر مقبول فنکاروں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا۔

ریڈیو ابلاغ کا سستا ترین اور آسان ذریعہ ہے۔ ٹیلی ویژن کے مقابلے میں اس کی رسائی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر بغیر کسی خرچ کے ریڈیو کی نشریات سے حظ اٹھا سکتا ہے۔ یعنی یہ ایسا میڈیم ہے جسے ہم سامعین کے لئے مفت کہہ سکتے ہیں، ۔ یہ وہی ریڈیو ہے جو عشروں تک ہماری ذہنی وفکری تربیت کرتا رہا ہے۔ یہ وہی ریڈیو ہے جس نے بڑے بڑے فن کار متعارف کرائے۔ یہ وہی ریڈیو ہے جو اپنے پہلے ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار علی بخاری کی قیادت میں ایک اعلیٰ درجے کا ادارہ بن کر ابھرا، مگر آج کے اس عہد زیاں کار میں جب پیسے ہی کو ایمان کا درجہ سمجھ لیا گیا ہے تو صحافت کی طرح ریڈیو کی دنیا میں بھی پروفیشنلز پیچھے رہ گئے اور مارکیٹنگ کے لوگ سامنے آ گئے جنہوں نے راتوں رات میڈیا کی انڈسٹری قائم کرکے کھمبیوں کی طرح ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کر لئے۔

کیسا اور کس معیار کا پروگرام چل رہا ہے، اس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ٹی وی چینلز کے کسی نازیبا پروگرام پر ایکشن لے بھی لیا جاتا ہے مگر ریڈیو کی طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیتا۔ پاکستان میں اَن گنت ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز قائم ہیں تاہم ان میں سے کوئی چینل بھی دوسرے سے مختلف نہیں، ایک بھیڑچال ہے اور سب اسی میں مگن۔ کوئی بھی چینل لگا لیجیے۔ وہی ایک طرح کے مکالمے، ایک جیسے پروگرام آپ کی سماعتوں سے ٹکرائیں گے۔ رات کے شوز میں بے ہودگی عروج پر ہوتی ہے۔ اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں کہ جب مقصد ہی کمرشل ازم قرار پایا ہو تو وہاں اخلاقی و تہذیبی اقدار کی کیا حیثیت۔

مستقبل کی پرواہ سے بے نیاز ہو کر ہم رفتہ رفتہ اپنی روایات کو دفن کر رہے ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ وہ کیسی نسل ہو گی جو ہمارے بعد آرہی ہے اور اسے ہم کیا دے رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ خاندانوں کے درمیان وہ محبت اور خلوس جس کا سبب ریڈیو بنتا تھا اب متروک ہو چکا ہے۔ شایدریڈیو کی طرح اب ہماری روایات بھی نام نہاد جدیدیت کے کوڑے دان میں دفن ہو چکی ہیں۔ اب ہم نہیں جانتے کہ بیٹی کس گانے پر اپنے مستقبل کے تانے بن رہی ہے اور بیٹا کس کی تربیت میں نشوونما پا رہا ہے۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ریڈیو ختم ہو گیا یا ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ جو کام ریڈیو پاکستان کرتا تھا بہت سے مختلف ادارے وہی کام انتہائی شدومد کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن کمرشل ازم کا ایک مسئلہ پیسہ بنانا بھی ہوتا ہے۔ براڈکاسٹنگ کے دوران سامعین کو اپنی طرف مائل رکھنے کی تگ ودو نے پروگراموں کے معیار کو اس حد تک گرادیا ہے اب فحش گوئی اور سرحدپار سے درآمدی موسیقی جس میں جذبات کو ابھارنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔

اس تواتر کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں کہ اب گننا بھی ممکن نہیں رہا۔ یہ بحث تو ایک طرف ہے کہ ہمارا موسیقار اور ڈرامہ نگار اس تمام دوڑدھوپ میں بے روزگار ہو کر رہ گیا ہے اور رہی سہی کسر ہمارے حکومتی افلاطونوں نے ریڈیوپاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے سنٹرل پروڈکشن یونٹ کو مقفل کرکے اورکہنہ سال فنکاروں اور صداکاروں پر ریڈیوپاکستان کے دروازے بند کرکے پوری کر دی ہے۔

ہرسال 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اس تصور کی بنیاد پر منایا جاتا ہے کہ ریڈیو ہی وہ ذریعہ ابلاغ ہے جو فرد کے اندر شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر قوموں کے درمیان رابطے کا وسیلہ ہے اورایک ایسا ذریعہ ہے جو بیک وقت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ آواز کی اس دنیا میں ہوا میں رقصاں الفاظ ہماری سماعتوں سے ٹکراتے ہیں اور جاوداں ہو جاتے ہیں۔ دائمی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔

اتنا اہم میڈیم، جس کی آوازگھر گھر گونجتی ہے، ہمارے یہاں بری طرح نظرانداز کیا جا رہاہے۔ عالمی یوم ریڈیو ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف ایک روز کے لئے ہی سہی، اپنے خاندان کے ساتھ انہی روایات کا مزہ دوبالا کریں جنہیں ہم نے چکاچوند اور تیز رفتار ترقی کی نذر کردیا ہے اور ریڈیو کو وہ اہمیت دیں جس کا یہ مستحق ہے۔

Facebook Comments HS