’نئے بنگلہ دیش‘ کی باتیں اور آئی ایم ایف سے ملاقاتیں


جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر تحریک انصاف کا یہ ایجنڈا ہو بھی تو بھی حکومت میں ہوتے ہوئے وہ ایسا کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ کام ملکی قوانین کے مطابق متعلقہ ادارے ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ حکومتی اور سیاسی لیڈروں کے بیان البتہ اداروں کی شفافیت کو مشکوک بناتے ہیں اور ایک جرم کی تحقیقات سیاسی انتقام کی صورت اختیار کرنے لگتی ہیں۔

اسی طرح تحریک انصاف کی پوری قیادت کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ قانون و انصاف کے عالمگیر اصول کی بنیاد پر کوئی بھی شخص اس وقت تک بے گناہ ہے جب تک اس کے خلاف جرم ثابت نہ ہوجائے اور مجاز عدالتی نظام میں اسے سزا نہ دے دی جائے۔ بطور وزیر اعظم عمران خان کو یقین ہونا چاہیے کہ ملک کی عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے اپنا کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی کارکردگی وزیر اعظم کے ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا اور این آر او نہیں دیا جائے گا‘ قسم کے بیانات کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے بیانات اس سیاسی بنیاد کو کمزور کرتے ہیں جس پر کھڑے ہو کر عمران خان اہم فیصلے اور ملک کی قیادت کرنے کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ یہ فیصلے کیے بغیر نہ قرض لینے کی ضرورت کم ہو گی اور نہ ملکی معیشت کی بحالی کا کام شروع ہو سکے گا۔

حکومت کی بے چینی اور اس کے عہدیداروں کے جذباتی بیانات سیاسی استحکام کی بجائے انتشار اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے رویوں سے خود اعتمادی کی کمی بھی چھلکنے لگی ہے۔ اب عمران خان وزیر اعظم کے علاوہ تحریک انصاف کے چئیرمین کے طور پر بھی یہ سمجھنا ہے کہ یہ بے یقینی ان کی سیاست اور ملکی نظام کے لئے کن اندیشوں کا سبب بن سکتی ہے۔ انہیں یہ اندیشے ان سیاسی مخالفین کی طرف سے لاحق نہیں ہیں جن کا نام لے کر وہ اپنی تقریروں کو دھؤاں دار بناتے ہیں بلکہ ان حلقوں کی طرف سے ہوں گے جن کے ساتھ ایک پیج پر چھے ماہ گزارنے کے بعد اب اس ہم آہنگی اور یک جہتی کی قیمت ادا کرنے کا تقاضہ کیا جارہا ہے۔

سول ملٹری یک جہتی کے زعم میں تحریک انصاف کی قیادت نے دانستہ یا ناسمجھی میں اٹھا رویں ترمیم کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے ہیں، صوبائی خود مختاری کے اصول کا مضحکہ اڑایا ہے اور پشتون تحفظ موومنٹ جیسی بنیادی انسانی حقوق کی علاقائی تنظیموں کو نظر اندز کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ حکومت نے اس اشتراک کو قائم رکھنے کے لئے سیاسی نظام کی بحث کو نئی زندگی دی ہے، بنیادی آزادیوں کا گلا گھونٹا ہے، میڈیا کے حالات کار مشکلکیے ہیں اور آزاد رائے کے اظہار کو قومی جرم بنا کر صحافیوں اور استادوں کی گرفتاری کی روایت کا آغاز کیا ہے۔ حکومت کے یہ سارے اقدامات موجودہ سیاسی جمہوری نظام کو جاری رکھنے اور پارلیمنٹ کو با اختیار بنانے کے اصول کے خلاف ہیں۔ اسی لئے صوبوں سے وسائل چرانے کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں اور آصف زرادری ’ایک نئے بنگلہ دیش کے امکان‘ کے بارے میں متنبہ کررہے ہیں۔

ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو ملک کے مالی وسائل میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ اضافہ نہ ہوجائے مرکز ہو یا فوج، انہیں دوسروں کے حصے پر نگاہیں جمانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ورنہ افتراق پیدا ہو گا اور صوبائی خود مختاری اور حق پر حملہ کی صدائیں بلند ہوں گی۔ اسی طرح اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے مباحث کو چنگاری دکھانے کی بجائے وزیر اعظم کو قومی اسمبلی میں خود اعلان کرنا چاہیے کہ 1973 کا آئین حتمی ہے اور اس ملک میں پارلیمانی نظام حکومت ہی قائم رہے گا۔

 ملک کو دستیاب وسائل اور ان پر مختلف شعبوں کے تصرف پر کھلے دل سے بحث کی جائے جس میں دفاعی اخراجات بھی شامل ہیں۔ دفاع پر مصارف کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کی مثال دینے کا رویہ ترک کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کی کل قومی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان کی قیادت، فوج اور عوام کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 22 کروڑ آبادی اور کل 40 ارب ڈالر آمدنی کا حامل ملک اپنے سے پانچ گنا آبادی اور دس گنا وسائل والے ملک سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس ’مسابقت‘ کے لئے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا پڑے گا یا آمدنی میں اسی رفتار سے اضافہ کرنا ہوگا۔

موجودہ مالی سال میں دفاعی اخراجات کو 1100 ارب روپے سے بڑھا کر 1676 ارب روپے کرنے کی وجہ خواہ کوئی بھی ہو لیکن حکومت اس معاملہ پر پارلیمنٹ، سیاسی اپوزیشن یا عوام کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی ہے۔ قرضے لے کر خسارہ پورا کرنے والی حکومت کے پاس دفاعی بجٹ میں پچاس فیصد اضافہ کا کوئی سیاسی، معاشی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ لیکن اس کوتاہ اندیشی پر پردہ ڈالنے کے لئے قومی جذبات کو ابھارنے اور ملک میں قومی وسائل کی تقسیم کے مسلمہ اصول سے رو گردانی کی باتیں کی جارہی ہیں۔ یہ حکمت عملی تحریک انصاف کی حکومت کا عرصہ حیات تو تنگ کرے گی لیکن ملک کے مستقبل پر بھی گہرے سائے کا سبب بنے گی۔

آصف زرداری نے اسی سنگین صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیان کو مقدمات کے پھندے سے نجات پانے کی کوشش یا سیاسی ہتھکنڈا قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali