’نئے بنگلہ دیش‘ کی باتیں اور آئی ایم ایف سے ملاقاتیں


دفاعی بجٹ میں پچاس فیصد اضافہ کی خبر عام ہونے کے ایک روز بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’ان کی ہمارے ساتھ لڑائی پاکستان کے وسائل کے سوال پر ہے۔ یہ صرف سندھ کے وسائل کا سوال نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے وسائل کا معاملہ ہے۔ اسی لئے اٹھارویں ترمیم ختم کرکے صوبائی خودمختاری پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔ ٹنڈو آدم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ’ہم پاکستان میں نیا بنگلہ دیش بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔  پاکستان ’انہوں‘ نے نہیں بنایا تھا بلکہ قائد اعظم نے سیاسی مکالمہ کے ذریعے اس کی راہ ہموار کی تھی‘۔

ملک کی ایک اہم اور دوسرے بڑے صوبے میں حکومت کرنے والے پارٹی کے معاون چئیرمین اور قومی اسمبلی کے رکن کی باتوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان میں سے اگر مقدمات کا سامنا کرنے کے سبب پیدا ہونے والے غم وغصہ کو فلٹر بھی کردیاجائے تو بھی وسائل پر طاقت ور حلقوں کی اجارہ داری کی بات اور ملکی دولت کی تقسیم پر اختلافات کا اشارہ، نہایت سنگین اور تشویشناک صورت حال سامنے لاتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز ننکانہ صاحب میں درخت اگانے کی حوصلہ افزائی کرنے والی ایک تقریب میں سیاسی غم و غصہ سے بھری تقریر کرنے کے بعد اب حکومتوں کی عالمی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے دوبئی پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے پہلی ہی فرصت میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینے لاگاردے سے ملاقات کی ہے۔ اور پاکستان کے لئے امدادی پیکیج پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ یہ وہی عالمی مالیاتی فنڈ ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم اور ان کے وزیر خزانہ تسلسل سے یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ کوئی مالیاتی پیکیج لینے کے لئے ’قومی خود مختاری اور عوام دشمن اصلاحات‘ پر سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

تاہم عمران خان بھی چھے ماہ کے لگ بھگ وزیر اعظم رہنے کے بعد یہ سمجھنے لگے ہوں گے کہ ’خود مختاری‘ کو ئی جامع اصطلاح نہیں ہے۔ یہ کسی بھی قوم و ملک کے حالات، معاشی صلاحیت، سیاسی ضرورت اور سفارتی حیثیت کے مطابق اپنی شکل اور ہئیت بدلتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک چین معاشی راہداری کے خلاف دھؤاں دار بیان دینے والے عمران خان اب اسے قوم کے لئے آب حیات سمجھتے ہیں اور قرضوں کو خیرات کہنے اور پاکستانی حکومت کے سربراہ کے طور پر کبھی اس خیرات کے لئے جھولی نہ پھیلانے کا دعویٰ کرنے کے باوجود، حکومت سنبھالنے کے بعد سے وہی جھولی مسلسل عمران خان کے ہاتھ میں ہے اور وہ بڑے اعزاز کے ساتھ اس کے ’بھرے جانے‘ کو اپنی حکومت کی شاندار سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

سیاسی لیڈر اقتدار میں رہتے ہوئے اس کی حدود سے آگاہ ہونے لگتے ہیں تاہم اپنی حکمت، تحمل اور بصیرت سے اپنا اختیار بحال کرنے اور بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ آئی ایم ایف کی سربراہ نے بھی آج کی ملاقات میں وزیر اعظم کو بتایا ہے کہ ’پاکستان فیصلہ کن پالیسیوں اور مؤثر اقتصادی اصلاحات کے ذریعے اپنی معیشت کی پھلنے پھولنے کی صلاحیت کو بحال کرسکتا ہے‘۔ اس ملاقات کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہؤا تاہم وزیراعظم عمران خان کی کرسٹینے لاگاردے سے ملاقات اس بات کا اشارہ ضرورہے کہ حکومت کے دعوؤں کے باوجود پاکستان ابھی تک معاشی گرداب سے باہر نہیں نکلا ہے اور اسے بدستور آئی ایم ایف سے پیکیج لے کر معاشی مشکلات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

لاگاردے نے جس سیاسی بصیرت اور معاشی اصلاحات کی طرف اشارہ کیا ہے، اس کا ذکر ملک کے تمام باشعور حلقے اور ماہرین بھی مختلف انداز میں کرتے رہے ہیں۔ تاہم نیا پاکستان اور نئی سیاسی روایت قائم کرنے کی دھن میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں تک یہ صائب مشورہ پہنچ نہیں سکا۔ البتہ جب آئی ایم ایف جیسے طاقت ور مالی ادارے کی سربراہ اور ایک مغربی ملک کی شہری کی طرف سے عمران خان کو وہی بات کہی گئی ہوگی تو شاید انہیں اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ کیوں کہ عمران خان ملک میں مدینہ ریاست قائم کرنے کا سیاسی نعرہ ضرور بلند کرتے ہیں تاہم ان کے دل و دماغ پر مغربی تعلیم و تربیت کی چھاپ ہے اور وہ مغربی ممالک کو ہی ’آئیڈیل جمہوریتیں‘ قرار دیتے ہوئے اپنی تقریروں کو رنگین بناتے رہے ہیں۔

خبروں کے مطابق جن فیصلہ کن سیاسی اقدامات کی طرف کرسٹینے لاگاردے نے اشارہ کیا ہے، اسی کا ایک پہلو آصف زرادری نے ٹنڈو آدم میں کی گئی تقریر میں واضح کیا ہے۔ ان باتوں سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ سیاست میں مناسب وقت پر درست فیصلے کرنے کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر کسی مصلحت یاغلطی کی وجہ سے کوئی سیاست دان بروقت صحیح فیصلہ کرنے میں ناکام رہے تو اس کے پاس سانپ کے نکلنے کے بعد لکیر پیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا لیکن ایسی سینہ کوبی سے نہ تو کسی سیاسی پارٹی کی تقدیر تبدیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی ملک و قوم کا کوئی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسی لئے لیڈروں سے تقریروں کی بجائے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کی امید کی جاتی ہے۔

عمران خان بلا شبہ ملک سے بد عنوانی ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ مسلسل اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ان کی سیاسی تقریروں کے بغیر یہ کام پایہ تکمیل نہیں پہنچ سکتا۔ حالانکہ ان کے سب سے بڑے سیاسی مخالف نواز شریف جیل میں بند ہیں اور شہباز شریف نیب کی حراست میں ہیں۔ اسی طرح آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے اہم لیڈروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ تاہم یہ کام اسی صورت میں سیاسی تعصب سے پاک سمجھا جائے گا اگر وزیر اعظم اور ان کے ساتھی یہ تاثر دینے سے گریز کریں گے کہ ان کا مشن سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali