وہ تین وجوہات جب محبت کافی نہیں ہوتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 275
  •  

محبت کائنات کا سب سے عظیم اور طاقت ور جذبہ ہے۔ 14 فروری پر اس سال پھر محبت کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس ویلنٹائن ڈے پر ہم اس بات پر غور کریں ‌ گے کہ کیا محبت سب کچھ ہے؟ کیا کسی بھی رشتے یا تعلق کی کامیابی اور سالمیت کا دارومدار صرف محبت پر ہوسکتا ہے؟ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر محبت ہوتے ہوئے بھی محبوب سے قطع تعلق ضروری ہوجاتا ہے؟

پہلی وجہ: جب آپ اپنی زندگیوں ‌ میں ‌ مختلف چیزیں چاہتے ہیں۔ ہم میں ‌ سے ہر شخص دنیا کے پیچیدہ تانے بانے کا حصہ ہے۔ ہم سب اپنے اردگرد افراد اور علاقوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر رشتے اور تعلق میں ‌ دونوں ‌ فریق کچھ دیتے ہیں اور کچھ لیتے ہیں۔ تالی دو ہاتھوں ‌ سے بجتی ہے اور ٹینگو کرنے کے لیے دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں ‌ کچھ بھی مستقل نہیں۔ تجربات انسانوں ‌ کو وقت کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں۔ اپنے ماحول کے مطابق بدلنا انفرادی سرواؤل کے لیے اہم بھی ہے۔ بلی جول کے گانے ڈونٹ گو چینجنگ! یہاں ‌ مجھے یاد آگیا جس کا ترجمہ کچھ یوں ‌ ہے۔

تم خود کو نہ بدلو صرف مجھے خوش کرنے کے لیے
تم نے پہلے سے ہی مجھے کبھی مایوس نہیں ‌ کیا

یہ مت سمجھنا کہ تم اتنی جانی پہچانی ہو
کہ میں ‌ اب تمہیں ‌ نہیں ‌ دیکھتا

میں ‌ مشکل وقتوں ‌ میں ‌ ساتھ نہیں ‌ چھوڑوں ‌ گا
ہم اتنا آگے یونہی نہیں ‌ آسکتے تھے

اچھے وقت کا سامنا کیا تو برے کا بھی کروں ‌ گا
میں ‌ تمہیں ‌ ایسے ہی چاہتا ہوں ‌ جیسی تم ہو

کسی نئے فیشن کی کوشش مت کرنا
اپنے بالوں ‌ کا رنگ مت بدلنا

میری ان کہی چاہت ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے
چاہے بظاہر یوں ‌ نہ لگے

مجھے ہوشیار گفتگو کی کوئی خواہش نہیں
اتنی محنت میں ‌ کرنا ہی نہیں ‌ چاہتا

میں ‌ بس یہ چاہتا ہوں ‌ کہ کسی سے بات کرسکوں
میں ‌ تمہیں ‌ ایسے ہی چاہتا ہوں ‌ جیسی تم ہو

ایک ڈاکٹر صاحب نہیں ‌ چاہتے تھے کہ ان کے کبھی بچے ہوں لیکن ان کی گرل فرینڈ چاہتی تھیں ‌ کہ ان کے بچے ہوں۔ یہ ایک بہت بڑا فرق تھا جس کی وجہ سے وہ ساتھ نہیں ‌ چل سکتے تھے۔ جب انہوں ‌ نے ڈیٹنگ شروع کی تھی تو ان خاتون کا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحب وقت کے ساتھ اپنے خیالات بدل لیں ‌ گے۔ یہ ایک عام غلطی ہے جو کافی لوگ کرتے ہیں۔ آپ کسی کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ‌ بدل سکتے۔ ایک امریکی خاتون ڈاکٹر کو اپنے کلینک کے بعد سماجی اور تعلیمی میدان میں ‌ کام کرنے کا شوق تھا لیکن ان کے منگیتر کو صرف ٹی وی دیکھنے میں ‌ دلچسپی تھی۔ ان خاتون کو لگتا تھا کہ یہ آدمی ان کا وقت ضائع کررہا ہے جبکہ ان صاحب کا یہ اصرار تھا کہ یہ لیڈی ڈاکٹر سماجی کاموں ‌ میں ‌ وقت برباد کررہی ہیں، ان کی کوششوں ‌ سے دنیا کبھی بہتر نہیں ہوسکے گی۔

وہ کہتے رہتے تھے کہ دنیا کو اس کے حال پر چھوڑو بس اپنی زندگی انجوائے کرو۔ ان خاتون نے کہا کہ میں ‌ نے اپنی زندگی کے بہت سارے سال خود کو تعلیم اور تربیت دینے پر خرچ کیے اور یہ میرا فرض‌ بنتا ہے کہ معاشرے کی فلاح و بہبود میں ‌ حصہ بٹاؤں۔ وہ زندگیوں ‌ سے بہت مختلف توقعات رکھتے تھے اس لیے ان کا رشتہ کچھ عرصے چلنے کے بعد ختم ہوگیا۔

محبت کافی نہ ہونے کی دوسری وجہ: جب دو افراد کی ذاتی اخلاقیات مختلف ہوں تو ان کا ساتھ میں ‌ چلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس بات کا تعلقات کے شروع میں ‌ اندازہ نہیں ‌ ہوتا کیونکہ اس وقت جوڑے ہنی مون فیز سے گزر رہے ہوتے ہیں ‌ جہاں ‌ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تکلیف دہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ اگر ایک انسان آزاد خیال ہواور دوسرا قدامت پسند تو ان کے درمیان اختلافات جنم لیتے ہیں۔ ایک آزاد خیال لبرل انسان کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اس کے دوست اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا پر نظر بالکل مختلف ہوتی ہے جس کو وہ لوگ نہیں ‌ سمجھ سکتے جو ان کے برابر کی تعلیم اور تجربہ نہ رکھتے ہوں۔

ایک میاں بیوی ساتھ میں ‌ مووی دیکھ رہے تھے۔ اس مووی میں ‌ ایک شہزادی کا شوہر جنک لڑنے دور دراز علاقے میں ‌ تعینات تھا جہاں ‌ وہ دوسری اقوام کا خون خرابہ کرنے میں ‌ مشغول تھے۔ اس کی غیر موجودگی میں ‌ شہزادی ایک عیسائی پادری کی محبت میں ‌ گرفتار ہوجاتی ہے اور جب تک اس کا شوہر واپس آیا تو وہ حمل سے تھی۔ اس کا بچہ پیدا ہوتے ہی اس کے شوہر کے حکم پر سپاہی اس کو گھسیٹ کر باہر لائے اور ایک کھمبے سے باندھ دیا۔

وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ بچہ کس کا ہے؟ انہوں ‌ نے چاقو سے شہزادی کا ایک کان کاٹا اور کہا کہ یسوع مسیح‌ کے حکم کے مطابق یہ سزا دی جارہی ہے۔ شہزادی کے چہرے پر خون بہنے لگا، اس نے چلا کر کہا کہ یسوع مسیح‌ نے ایسا کچھ حکم نہیں دیا اور بتا دیا کہ یہ عیسائی پادری کا بچہ ہے۔ یہ ڈرامائی سین دیکھ کر خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ شہزادی کو عیسائی پادری کے ساتھ معاشقہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ان کے شوہر شاعر تھے، وہ بولے کہ جنگ اور محبت میں ‌ سب جائز ہے۔ یہ سن کر ان کی بیگم سخت ناراض ‌ہوئیں ‌ اور ان کو ایک بداخلاق انسان کہا جو اپنے بچوں ‌ کی تربیت کرنے کے لائق نہیں ‌ ہے۔ ان صاحب نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی کہ بیگم میں ‌ نے تو آپ کے علاوہ کسی کو حاملہ نہیں ‌ کیا، اس مووی کا ہماری زندگی سے کیا تعلق ہے؟ لیکن وہ ایسا نہیں ‌ سوچتی تھیں۔

ان خاتون کو لگتا تھا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شوہر کے لباس، ان کی چیک بک، ٹیکسٹ میسجز اور ڈائری میں ‌ لکھے ہوئے نوٹس اور شاعری پر کڑی نظر رکھیں ‌ اور ان کو سدھار کر رکھنے کے لیے ہر روز تنقید فراہم کریں۔ یہ صاحب کافی پھونک پھونک کر قدم رکھتے لیکن ان کی بیگم کو روزانہ کریدنے سے کچھ ایسا مل ہی جاتا تھا جس پر ان کی کلاس لگائی جائے۔ جس رشتے میں ‌ ایک انسان کو دوسرے انسان کو خوش رکھنے کے لیے ہر لمحہ خود کو سنسر کرنا پڑے تو وہ بھی ایک ایسا موقع ہوتا ہے جہاں محبت کافی نہیں ہوتی۔

وہ تیسری وجہ جب محبت کافی نہیں ‌ ہوتی یہ ہے کہ آپ یا آپ کے ساتھی خوش نہیں ‌ ہیں۔ زندگی ایک مرتبہ ہی ملتی ہے۔ جب فریقین ایک رشتے کو اپنا سو فیصد دے چکے ہوں اور وہ آگے بڑھتا دکھائی نہ دیتا ہو تب بھی راستے جدا کرنے کا وقت ہوتا ہے۔ جب میں ‌ یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں ‌ اینڈوکرائن کی فیلوشپ کررہی تھی تو وی اے یعنی ویٹیرن افیرز ہسپتال میں ‌ ایک صاحب باقاعدگی سے علاج کروانے آتے تھے۔ انہوں ‌ نے اپنی زندگی کے بارے میں ‌ بتایا کہ جب وہ ایک امریکی فوجی کی حیثیت سے ویت نام میں ‌ جنگ لڑنے گئے تو وہاں ‌ ان کی ان خاتون سے ملاقات ہوئی جو بعد میں ان کی پہلی بیوی بنیں۔

وہ ایک انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں ان کے پاس کبھی کبھار کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ‌ ہوتا تھا۔ جب یہ لوگ ملے اور انہوں ‌ نے شادی کرلی تو امریکہ منتقل ہوگئے۔ دونوں ‌ میاں ‌ بیوی نے کام کرنا شروع کیا، ایک اچھے پڑوس میں ‌ خوبصورت مکان خریدا اور اپنے دو بچے ساتھ میں ‌ پالنا شروع کیے۔ ان خاتون کی زندگی بالکل بدل چکی تھی۔ ایک چھوٹے سے گاؤں ‌ کے ٹوٹے پھوٹے غریب گھر سے وہ ایک امریکی مڈل کلاس زندگی گذارنے کے لائق ہوگئیں ‌ جہاں ‌ ان کو دنیا کی ہر سہولت حاصل تھی۔

لیکن وہ خوش نہیں ‌ تھیں۔ ہر چیز میں ‌ ان کو خامی اور کمی دکھائی دیتی تھی۔ ان کے شوہر نے ہر ممکن کوشش کی کہ اپنی بیگم کو کسی طرح‌ خوش رکھیں۔ شادی کی بیسویں ‌ سالگرہ پر انہوں ‌ نے شہر سے باہر ایک خوبصورت اسپا ریزورٹ میں ‌ کمرہ بک کرایا۔ اس ریزورٹ میں ‌ آسٹریلیا سے ہر روز جہاز میں ‌ تازہ گائے کا گوشت لایا جاتا تھا اور باغیچوں ‌ میں ‌ سے تازہ پھلوں ‌ کا جوس پیش کیا جاتا تھا۔ وہ جگہ ایک جنت کی طرح‌ خوبصورت تھی۔

اس تمام ویک اینڈ پر ان صاحب نے شدید ڈپریشن محسوس کیا کیونکہ ان کی بیگم کو ویٹر، باغ میں ‌ مچھروں، کھانے کے درجہ حرارت سے لے کر موسم اور ٹریفک تک پر شکایت تھی۔ انہوں نے اپنے شوہر کی نئی گاڑی میں ‌ بھی خامیاں بتائیں اور ایک مرتبہ بھی شکریہ نہیں کہا کہ ان کے شوہر نے اتنے پیسے اور وقت خرچ کرکے ان کے لیے اتنا کچھ کیا۔ راستے میں ‌ واپس آتے ہوئے وہ بالکل خاموش تھے۔ انہوں ‌ نے کہا کہ میرے ذہن میں ‌ صرف یہ سوال گردش کررہا تھا کہ کیا میں ‌ اپنی واحد زندگی کے آنے والے بیس سال بھی اسی طرح گزارنا پسند کروں ‌ گا جیسے کہ پچھلے گزرے ہیں؟

اس شام گھر پہنچ کر انہوں ‌ نے ایک سوٹ کیس نکالا اور اس میں ‌ اپنی بنیادی ضروریات کا سامان ڈالا اور گھر سے نکلتے ہوئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کے کچھ عرصے بعد انہوں ‌ نے دوسری شادی کرلی اور اب اپنی زندگی میں ‌ خوش ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ بدحالی اور مشکل حالات میں خوش رہنا مشکل ہے لیکن بنیادی ضروریات پوری ہوجانے کے بعد خوشی انسان کے اندر سے آتی ہے۔ جو لوگ اپنی زندگی میں ‌ خوش نہیں ہوتے، آپ ان کے لیے کچھ بھی ایسا کرنے میں ‌ کامیاب نہیں ہوپائیں گے جس سے ان کو خوش کیا جاسکے۔

اس مضمون کا اختتام پال سائمن کے گانے ففٹی ویز ٹو لیو یور لور یعنی اپنے محبوب کو چھوڑنے کے پچاس طریقوں ‌ کے ترجمے پر کریں ‌ گے۔

مسئلہ سارا تمہارے دماغ میں ‌ ہے اس نے مجھ سے کہا
جواب آسان ہے اگر تم منطقی طریقے سے سوچو

میں ‌ تمہاری آزادی کی کوشش میں تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں
اپنے محبوب کو چھوڑنے کے یقیناً پچاس طریقے تو ہوں ‌ گے

وہ بولی کہ ٹانگ اڑانا میری عادت تو نہیں
اور امید ہے کہ میری بات کا غلط مطلب نہیں ‌ لیا جائے گا

لیکن پھر بھی میں اپنی بات دہراؤں گی
اپنے محبوب کو چھوڑنے کے یقیناً پچاس طریقے تو ہوں ‌ گے

جیک، تم بس پچھلے دروازے سے کھسک کر نکل جاؤ
ایک نیا منصوبہ بناؤ

رائے تمہیں جھجھکنے کی کوئی ضرورت نہیں
بس خود کو آزاد کرلو

بس پر چڑھ جاؤ، گس
کچھ زیادہ بحث کی ضرورت نہیں

بس چابی چھوڑ جاؤ
اور خود کو آزاد کرلو

وہ بولی تمہیں اتنی تکلیف میں ‌ دیکھ کر مجھے غم ہوتا ہے
کاش میں ‌ ایسا کچھ کرسکوں ‌ جس سے تم پھر سے مسکرانے لگو

میں نے کہا آپ کی عنایت ہے اور کیا آپ پھر سے سمجھائیں گی؟
ان پچاس طریقوں کے بارے میں

وہ بولی کہ چلو آج سو جاتے ہیں
مجھے یقین ہے کہ صبح میں ‌ تمہیں روشنی دکھائی دینے لگے گی

اور جب اس نے مجھے چوما تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ٹھیک تھی
اپنے محبوب کو چھوڑنے کے یقیناً پچاس طریقے تو ہوں ‌ گے

اپنے محبوب کو چھوڑنے کے پچاس طریقے
جیک، تم بس پچھلے دروازے سے کھسک کر نکل جاؤ

ایک نیا منصوبہ بناؤ
رائے تمہیں جھجھکنے کی کوئی ضرورت نہیں

بس خود کو آزاد کرلو
بس پر چڑھ جاؤ، گس

کچھ زیادہ بحث کی ضرورت نہیں
بس چابی چھوڑ جاؤ
اور خود کو آزاد کرلو

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 275
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں