ممی کو غصہ کیوں آتا ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ کبھی گھڑی دیکھتی وہ چولہے کی طرف بھاگتی ہو، کبھی بچے کو دیکھنے کمرے کی طرف؟ کبھی ہانڈی جلتی چھوڑ کر نیپی بدلنے جاتی ہو اور کبھی فیڈ کرواتے چھوڑ کر آپ کے لئے روٹی پکانے اٹھتی ہو؟ چونکہ آپ نے صبح سویرے منہ اندھیرے ان کے لئے رزق کمانے نکلنا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ رات میں گھڑی گھڑی اٹھ کر بچے کو فیڈ کرواتی ہو، نیپیاں بدلتی ہو اور کئی کئی دن تک کچھ گھنٹے بھی سکون سے سو نہ پاتی ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ تمام ہی مسائل اس کو لاحق ہوں اور وہ مسلسل اس جسمانی اور اعصابی تھکاوٹ کا شکار ہو کر، الجھ کر بچے پر چلا اٹھتی ہوں، کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلسل رہنے والا اعصابی اور جسمانی دباؤ کی وجہ سے وہ مایگرین، بلڈ پریشر یا ایسے ہی کسی عارضے میں دھنستی جاتی ہو؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ آفس سے تھکے ہارے آ کر آپ بھی اس کی طرف محبت اور توجہ سے دیکھے بغیر چپ چاپ ٹی وی کے سامنے لیٹ جاتے ہوں کیونکہ آپ تھک چکے ہیں اور اب کچھ گھنٹوں کا ٹی وی یا فیس بک یا ٹویٹر آپ کا بنیادی حق ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ کئی کئی دن بیوی آپ سے کچھ خوبصورت سننے کو ترستی ہو؟ اور جب بولتے ہوں تو کہتے ہوں نمک کتنا تیز ہے، سالن کتنا کچا ہے یا یہ کہ بچوں سے بولنے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں دنیا جہان کی چیزوں میں دلچسپی لینے کے بعد نئی ممی کے مسائل میں اور ان کے حل میں یا نئی ممی کی شخصیت میں آپ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہو؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے چہرے پر ایک سختی جمتی جا رہی ہو؟ کہیں اس کے چہرے پر سے لاف لائن دھندلانے تو نہیں لگی؟
میں نے کتنی ممیز دیکھیں جو کبھی کبھار جب مامیز گیٹ ٹوگیدر میں نکلتی ہیں تو ان کی مسکراہٹ بھی بے ساختہ نہیں ہوتی، ان کے چہروں میں بھی لچک نہیں ہوتی، تیوریوں کو چڑھے رہنے کی عادت ہو جاتی ہے، چہرے مسکرانے سے ڈرنے لگتے ہیں۔ میں نے بہت دیکھے ہیں ایسی ممیز کے چہرے، کہیں آپ کے گھر میں موجود ممی کا چہرہ بھی ایسا تو نہیں ہو گیا؟
نئے نئے ابا تو گھر سے باہر نوکری یا کاروبار کے جھمیلوں میں گم ہوتے ہیں چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کسی کو دیکھتے ہوں گے، کسی سے بات کرتے ہوں گے، کبھی غصہ کرتے کبھی ہاتھ پر ہاتھ پھینک کر قہقہہ بھی لگاتے ہوں گے، دن بھر میں ہزار طرح کا مزاج بدلتا ہو گا۔ مگر وہ اکیلے گھر میں راج کرنے والی ننھے بچے کے ساتھ موجود الگ تھلگ رہنے والی اکیلی ممی جس مزاج سے اٹھتی ہو گی تنہائی کی وجہ سے شام تک شاید اسی کو جھیلتی ہوگی؟ ہو سکتا ہے اس سے بات کر کے، اس کا مزاج بدلنے والا کوئی رشتہ اسے آس پاس نہ ملتا ہو؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ممی کو تو آپ سمجھا دیتے ہوں کہ بس اتنی ہی تنخواہ ہے میری، اسمگلنگ میں نہیں کرتا، ہیرے میں نہیں بیچتا، چناچہ ملازم افورڈ نہیں کر سکتا، میڈ سروس لے نہیں سکتا، مگر اتنی سے تنخواہ میں بچے آپ کو بھی نوابوں والے چاہیں ہوں؟
کہیں ساری توقعات اور خواہشات، تربیت اور کمپرومائز کا بوجھ آپ نے بھی بیوی پر تو نہیں لاد رکھا؟ کہیں بچے کی نیپی بدلتے، اسے اٹھاتے، روزانہ شام کو گھنٹہ بھر کے لئے اسے باہر لے جاتے آپ کی بھی مردانگی پر حرف تو نہیں آ جاتا؟
اور اگر ان میں سے کچھ عوامل یا پھر اکثر کیسز میں یہ سارے ہی عوامل آپ کی زندگی میں موجود ہیں تو میں آپ کو بتاتی ہوں کہ آپ کے گھر موجود ممی کا دماغ کیوں چل گیا ہے۔ آپ نے ایک انسان کے اوپر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ لاد رکھا ہے، اتنا کہ وہ ہوش وحواس میں کچھ بھی سنبھال نہیں پاتا۔ بات بات پر پھر چڑتی ہے ممی، اور بات بات پر چڑنے والی تھکی ہاری ممی بچوں کی نفسیات کی پرواہ کرنے کے قابل ہی کہاں رہتی ہے۔ یہ نفسیاتی حفاظتیں تو خوبصورت ملبوسات پہن کر تخت پر بٹھائی جانے والی ملکاؤں کے اسلوب ہیں۔ ماسی سکینہ کی طرح چکراتی ہوی ادھر سے ادھر بھاگتی ممی سے آپ کیا نوابی توقعات باندھے بیٹھے ہیں۔ پہلے تو اسے ملکہ بنا کر تمام سہولتیں فراہم کیجیے پھر اس سے پوچھیں کہ اب تربیت کیوں نہیں ہوتی۔
دوسری بات یہ کہ چھوٹے سے ننھے بچے کو مارنا ایک غلط فعل ہے، ایک غلطی ہے جو آپ کی تھکی ہاری بیوی سے لاحق ہو رہی ہے۔ اس کو سدھارنے میں اس کی مدد کیجئے۔ دوسری غلطی آپ اس ممی کو اس کے بچوں کے سامنے ڈانٹ کر کر رہے ہیں۔ تربیت کے لئے دو لوگ چاہیں، بگاڑنے کے لئے ہمیشہ ایک کافی ہوتا ہے۔ آپ کو یہ سمجھنا ہو گا کہ آپ اس تربیت کے لئے ساتھ ہیں اور یہ معرکہ آپ دونوں نے ملکر باہمی تعاون سے مشورے اور اتفاق سے پورا کرنا ہے، ایک دوسرے کے مخالف جا کر، ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ کر، پچھاڑ کر آپ اپنا ہی نقصان کریں گے۔
ایسے مواقع پر بچوں کے سامنے بیوی پر چلانا آپ کی تربیت میں سب سے اہم خلل ثابت ہو گا۔ آپ کے بچے یہ جان جائیں گے کہ آپ دو مخالف پارٹیاں ہیں اور وہ ساری عمر آپ دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر سکیں گے، آپ کی کبھی کسی ضروری نصحیت کو بھی سیریس نہیں لیں گے کیونکہ آپ کے گھر کا دوسرا اہم فرد اسے ویٹو کر چکا ہے، اور ساری عمر اس وہم میں مبتلا رہیں گے کہ ان پر بے تحاشا ظلم کیا گیا کیونکہ ماں کی ڈانٹ ڈپٹ کی یہ تشریح اکثر بچوں کے لئے ان کے باپ یا ساتھ رہنے والے رشتہ دار ہی کرتے ہیں۔
۔ بچوں کو گھیرنے کے لئے آپ کو چار ہاتھ چاہیں۔ یاد رکھیں بچوں کی تربیت میں خرابی آپ کا سانجھا نقصان ہے جس کی قیمت ممی اور پاپا دونوں کو ہی بھرنی پڑے گی۔ تو اس بات کو آج ہی جانیں اور صلح اور محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں، ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھیں ان کو وقت دیں۔ ممی سے یہ غلطی ہو تو صبر کا مظاہرہ کریں۔ اور تنہائی میں اسے سمجھائیں۔ اس سے بات کریں، پھر چاہے چیخیں چلائیں مگر بچوں کے سامنے ہمیشہ ایک دوسرے کو ٹوکنے اور تنقید کرنے سے بعض رہیں۔
ورنہ یہ چھوٹا سا انا کا جھگڑا ہمیشہ کے لئے ممی اور پاپا کے لئے اک سزا اور پچھتاوا بن سکتا ہے۔ ان لوگوں سے عبرت لینا سیکھیں جنہوں نے دوسروں سے سبق نہیں سیکھا۔ ہاں اور اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ ہمارے سارے معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے، ساری عورتیں یہ کام کرتی ہیں، اور ساتھ بچے بھی پالتی ہیں، تو پھر بے فکر رہیے سارے معاشرے جیسے بچے آپ کے بھی پل جائیں گے ویسے ہی جیسے باقی سب کے پلتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا!

