ممی کو غصہ کیوں آتا ہے؟
ممی کی ڈائری کے پچھلے ورق نے کچھ ایسے سوال اٹھائے کہ جن کے جواب میرے خیال میں ازحد ضروری تھے خصوصاً اس ادراک کے ساتھ کہ باپ بھی نئیے نئے ہوتے ہیں، تھوڑے سے جذباتی، تھوڑے سے لاپرواہ محض اپنے نئے نویلے استحقاق اور رعب کے طلسم میں جکڑے ہوئے جو اپنی ساری آئیڈیل ازم کی توقعات گھر بیوی اور بچوں سے رکھتے اور انتہائی روایتی انداز سے سارے روایتی مسائل کو روایتی طریقوں سے حل کر کے غیر روایتی رزلٹ چاہتے ہیں۔ بیوی اور بچوں کے ساتھ رویے باپوں، بھائیوں اور معاشرے کے ہزاروں مردوں جیسے رکھتے ہیں مگر اپنے بچوں کو دنیا کے سب سے اعلی و ارفع اور بہتریں عادات، مزاج اور تربیت کے ساتھ پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی فصل کانٹوں کی بو کر توقع گلابوں کی کرتے ہیں۔
کسی نے کہا جب بچے انتہائی چھوٹے ہوں کہ اپنا نام تک ڈھنگ سے سمجھ نہ سکیں تو ماؤں کا ان پر چیخ چلا کر ان کو ڈرانا اور مارنا کیا ایک صحیح فعل ہے؟ بالکل نہیں! سو فی صد نہیں! مگر کوئی ماں ”یہ ذہن میں رکھیے کہ ماں!“، ماں سے زیادہ اس بچے سے پیار صرف خدا کر سکتا ہے، باپ بھی نہیں، اگر ننھے بچے پر چیخ چلا رہی ہے تو ایسا کیوں کر رہی ہے؟ کیا اس کا دماغ چل گیا ہے؟ اور دماغ چل گیا ہے تو کچھ چیزوں کا ادراک بہت ضروری ہے کہ آخر اس کا دماغ کیوں چل گیا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ گھر میں ساس، سسر، نند بھاوج دیور جیسے رشتوں کا ہجوم ہو اور نئی ممی ان کی تابعداری کرتے تھک جاتی ہو، الجھ جاتی ہو؟
کہیں آپ کے گھر کا ہر رشتہ نئی ممی کی توجہ اور خدمات تو طلب نہیں کرتا، پانی چائے مانگنے سے کپڑے دھونے استری کرنے تک؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ایک بے دام خدمت گار بن چکی ہو اور سارے گھر کا غصہ صرف اپنے بچوں پر نکال سکتی ہو؟ اوہ اچھا تو آپ کے گھر کی نئی ممی اکیلے گھر پر راج کرتی ہیں۔ تو:
جب آپ ایک اکیلی عورت کے سہارے دن بھر کے لئے ننھے ایک یا دو بچے چھوڑ کر دن بھر کے لئے نوکری یا کاروبار پر چلے جاتے ہیں تو کیا کوئی ملازم، ملازمہ، اس کی مدد کے لئے چھوڑ کر جاتے ہیں؟ تا کہ جب ایک ننھے بچے کی ضرورتیں جو چوبیس گھنٹے کے لئے ایک ماں کو مصروف رکھنے کے لئے کافی ہوتی ہیں، سے وہ تھک جائے تو وہ کچھ دیر سستا سکے؟
اور جب وہ تھک جائے تو کوی اٹھ کر اسے پانی یا چائے کا کپ بنا کر دے سکے؟
کیا گھر میں اس ممی کے علاؤہ کوئی ایسا ہے کہ اگر گھر میں موجود ننھے بچے یا بچوں کی اکیلی ماں کو منہ دھونے، واش روم جانے یا نہانے کی حاجت ہو تو کوئی اس کے پیچھے بچوں کا دھیان رکھ سکے؟ کہیں وہ بنیادی ضروریات کی خاطر بھی سارا دن تکلیف میں گزارا تو نہیں کرتی؟ یا کوئی ملازم/ملازمہ اس لئے کہ ماں صرف بچوں کو سنبھالے اور ملازم یا ملازمہ آپ کا بستر، کمبل، کمرہ، فرنیچر، فرش چولہے، برتن اور کپڑے صاف کر سکے، دھوئے، سکھائے اور اگلے دن کے لئے تیار کر کے رکھ سکے؟ یا صرف اتنا ہی کہ ان تمام کاموں کے دوران وہ آپ کے یا آپ کی فیملی کے لئے کھانا ہی بنا سکے؟ یا اور کچھ نہیں تو ان تمام کاموں کے دوران صرف بچے کے پاس بیٹھ کر اس کا دھیان ہی رکھ سکے تا کہ ممی پوری توجہ سے کم سے کم گھر کے کام کاج ہی نپٹا سکے؟ نہیں؟
کچھ اور آگے بڑھ کر سوچیں! کیا آپ کے آس پاس ہمسایہ میں آپ کی بیوی سے ملنے جلنے والی کوئی فیملی ہے، جو کچھ دیر کے لئے اس سے کچھ دیر خوش گپیاں کر کے اس کا مزاج دھیما کر سکے اور اس کی تھکاوٹ کو اتارنے میں مدد کر سکے؟ کیا اس کی کوئی سہیلی یا بہن، ماں اس سے روزانہ کے رابطے میں ہے جو اسی تسلی دے سکے اور اسے یاد دلاتی رہے کہ کوئی بات نہیں ہمارا بھی یہی حال ہے، یا صرف یہی بتا سکے کہ کسی مشکل کی صورت میں اسے کرنا کیا ہے، روتے بچے کو چپ کیسے کروانا ہے، کیسے اس کا پیٹ ٹھیک ہو گا، کیسے وہ سکون سے سوئے گا؟
کہیں آپ پردیس میں تو نہیں جہاں آپ کے آس پاس کسی دوسرے کلچر کے اور دوسری زبان بولنے والے لوگ رہتے ہوں جن کے بیچ آپ کی بیوی بچوں کے ساتھ بے تحاشا سماجی تنہائی کا شکار ہو؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ کئی کئی دن وہ کسی سے بات کرنے کو، کسی کی نصیحت یا تسلی سننے کو ترس جاتی ہو؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے پاس گھر سے باہر دوست احباب نہ ہونے کے ساتھ ساتھ گھر میں واٹس اپ، سکائپ اور سوشل میڈیا تک نہ ہو؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ کسی کو کئی دنوں سے یہ بتانے کو ترس چکی ہو کہ وہ تھک چکی ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بہت عرصے سے کسی بہن، سہیلی یا ماں تک کو یہ تک نہ بتا سکی ہو کہ کتنے عرصے سے اس نے گپ شپ نہیں لگایی، وہ ہنسی تک نہیں، اور اپنے ہی پیارے بچوں کو سنبھال سنبھال وہ سانس تک سکون سے لینے کو ترس چکی ہے؟
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


