آزاد محبت کی کہانی: افلاطون سے سلیکون تک
2016 میں حقوق نسواں کے موضوع پر کتاب لکھنے والی معروف جرمن مصنفہ مارگریٹے سٹوکووسکی کے مطابق مرد اور عورتکے مابین سماجی، ثقافتی اور جنسی حقوق میں مساوات کو یقینی بنانے کے لیے اب بھی بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نصف صدی قبل آنے والے جنسی انقلاب کے باعث پانچ عشرے پہلے اور آج کی صورت حال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
”آزاد محبت“ کے اس بازار میں سیکس سیلز یعنی جنس بِکتی ہے کا نظریہ مقبول عام ہے۔ ماہرین کے مطابق جنسی تشہیر دماغ کے ان حصوں کو فعال کرتی ہے، جو جذبات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ فیشن کی دنیا کی کچھ ڈرامائی تصاویر میں الکوحل سے لے کر پرفیوم تک ایسی بے پناہ مصنوعات کے اشتہارت شامل ہیں، جن میں عورت کو شہوت اور خواہش کی ایک شے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اسی جرمنی کے شہر ڈورٹمنڈ میں ایک ایسا قحبہ خانہ بھی ہے جسے بروڈول کا نام دیا گیاہے۔ جہاں مردوں، عورتوں اور جوڑوں کو ان کی جنسی تسکین کے لیے سلیکون (silicone ) سے بنائی گئی گڑیاں مہیا کی جاتی ہیں۔ اس کی مالکہ کا کہنا ہے کہ کئی گاہک سماجی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور لوگوں سے بات چیت کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان کے لیے جذبات سے عاری سیکس ڈولز باعث رغبت ہیں۔ ایویلین شوارز نے ٹی وی پر جاپانی سیکس ڈولز سے متعلق ایک رپورٹ دیکھی تو انہیں لگا کہ غیر ملکی عورتوں کے مقابلے میں سیکس ڈولز پر مشتمل قحبہ خانہ زیادہ بہتر کاروبار کر پائے گا۔
یہ سیکسی ڈولز دکھنے میں خوبصورت ہیں، بیمار بھی نہیں ہوتیں اور بغیر کسی شکایت کے ہر طرح کی خدمات پیش کر تی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بے زبان بھی ہیں اور جذبات سے عاری بھی۔ جسم فروش عورت کے پاس آنے والے گاہکوں کو مختلف خدمات کے حصول کے لیے پیشگی گفتگو کرنا پڑتی ہے جب کہ سلیکون کی بنی ہوئی یہ گڑیا بغیر کسی بحث کے مردوں کی خواہشات پوری کرکے ان کی انا کی تسکین کرتی ہے۔ اس طرح ان گڑیوں کے جذبات کا خیال رکھے بغیر مرد گاہگ جتنا چاہیں انا پرست ہو سکتے ہیں۔
اس قحبہ خانے کا رخ کرنے والوں میں مرد و زن کے علاوہ ایسے جوڑے بھی ہوتے ہیں جو خطرناک جنسی رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے گاہگوں کے لیے بی ڈی ایس ایم کمرہ بھی موجود ہے، جس کا مقصدکسی خاتون کے ساتھ پر تشدد ہونے کی بجائے گڑیا کے ساتھ ایسا کرنا بہتر ہے۔ اس قحبہ خانے میں آنے والوں گاہکوں میں سے ستر فیصد دوبارہ لوٹ کر ضرور آتے ہیں، جس کی وجہ گڑیوں کے ساتھ ان کا جذباتی لگاؤ ہے۔ قحبہ خانے کی مالکہ کے مطابق انہیں اس کاروبار کے اخلاقی ہونے سے متعلق کوئی تحفظات نہیں ہیں۔
یہ تو بس کھلونوں کی مانند ہیں جن کے چہروں کے خدوخال تک بچگانہ ہیں۔ چین سے درآمد کی گئی چار گڑیوں سے قائم کردہ قحبہ خانے میں زبردست طلب کے سبب اب یہاں سلیکون کی بارہ سیکس ڈولز ہیں جن میں سے ایک مرد گڑیا بھی ہے۔ ہر گاہک کے بعد گڑیوں کی مکمل صفائی کر کے انہیں ہر طرح کے جراثیموں سے پاک کیا جاتا ہے۔
بروڈول ایسا پہلا قحبہ خانہ نہیں، جہاں سلیکون کی گڑیاں رکھی گئی ہیں۔ جاپان میں ایسے درجنوں کاروبار ہیں اور حالیہ کچھ عرصے کے دوران ہسپانوی شہر بارسلونا اور جرمن دارالحکومت برلن میں بھی ایسے قحبہ خانے کھولے جا چکے ہیں۔ صدیوں کا سفر طے ہونے کے بعد بھی بالآخر ثابت یہی ہوا کہ 347 قبل مسیح کا فلسفی عورت سے بچ سکا، نہ 2019 کا کامیاب انسان۔ بلکہ اب تو یہی عورت ہر کامیابی کی کنجی ہے اور ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت، آج کا سب سے بڑا فلسفہ۔


