جھن جھن کٹورہ اور سکہ شاہی نظام

اٹھارہویں صدی میں اردو تاریخ نگاری کی ابتداء فارسی تاریخ نگاری کے زوال کا آغاز بھی ہے یعنی فارسی میں تاریخ نگاری کا یہ سلسلہ مغل سلطنت کے خاتمے کے بعد تقریباً ختم ہوگیا۔ 1857 کے بعد جو تاریخیں لکھی گئیں وہ عموماً فارسی کی بجائے اردو میں لکھی گئیں۔ یہ ایک ایسا عہد ہے…

Read more

گرفتارِ غم و درد و جنونم

شکر ہے میں ہزارہ نہیں جو ہردو چار ماہ بعد بے موت مارے جاتے ہیں اور پھر اپنے پیاروں کے جنازے بیچ چوراہوں پر رکھ کر سینہ کوبی اور ماتم کرتے ہیں۔ نومولودوں کو یخ بستہ سردی میں لے کر اس قوم کی نفسیات سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ شہرت کا بھوکا میڈیا مسلسل بھونکتا ہے اور ایک ہڈی ملتے ہی چوں چوں کرتا خاموشی کے ساتھ کسی بل میں دبک کر اپنا پیٹ سہلانے لگتا ہے۔ کوئی وزیر مشیر آتا ہے، مذاکرات ہوتے ہیں، چند وعدوں اور یقین دہانیوں کے بعد ریاست کے خلاف نعرے لگاتے مرد وزن اچھے بچے بن کر اپنے اپنے ویران اور اجڑے گھروں کے کونے کھدروں میں سسکتے بلکتے ادھ موئے خواب اوڑھے سوجاتے ہیں۔

Read more

حکومت مخالف بات چل نکلی ہے

2018 کا الیکشن تھا۔ برسراقتدار وزیراعظم کذب بیانی اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت نا اہل ہوچکا تھا، اس کی پوری سیاسی جماعت زیر عتاب تھی، احتساب کا نعرہ مستانہ سب کو اپنا دیوانہ بنا چکا تھا اور پھر جانے اللہ کے کس نیک بندے کی دعاؤں کے طفیل ڈاکوؤں، چوروں اور لٹیروں سے پاکستانی…

Read more

یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے

بھٹوکا اقتدار ختم ہوا ہے، دورنہیں۔ وہ ایک نام نہیں، نظریہ تھا جس کی بقاء کے لئے نہ صرف اس نے تختہ دار کو سرفراز کیا بلکہ اس کے پورے خاندان نے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں، یہاں تک کہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کردی گئی۔ ذوالفقار علی…

Read more

انڈہ مرغی دیتی ہے یا بکری؟

ایک چھوٹے سے طالب علم نے کلاس روم میں خوشی خوشی داخل ہوتے ہوئے کہا، ماسٹر جی آج میری بکری نے انڈا دیا ہے۔ ماسٹرجی نے گھور کے دیکھا۔ اس نے پھر کہا، ماسٹرجی آج میری بکری نے دو انڈے دیے۔ ماسٹرجی غصہ سے پاگل ہوگئے۔ بکری کہیں انڈا دیتی ہے، انڈا تومرغی دیتی ہے۔…

Read more

بھارتی حساس حلقوں کے کاروباری معاملات

میں نے اپنے پیٹ کو ہزاروں دلیلیں دیں لیکن یہ نہ مانا، تنگ آکر اس پر ہاتھ پھیرا تو پتہ چلا کہ میرے پیٹ کے تو کان ہی نہیں، یہ بے چارہ کیسے سنتا۔ میری بے بسی بڑھتی گئی، مجھے لگا یہ امن اور جنگوں کا کاروبار بھی سب کا سب پاپی پیٹ کا گورکھ…

Read more

نئے رزمیہ کی تیاری

خالی جیبوں، خالی ہاتھوں اور خالی ذہنوں کے ساتھ یہ چند کنگلے اور سرپھرے صحافی نما انسان، اپنے تئیں سچ کا علم اٹھائے پچھلیکئی دنوں سے پریس کلبوں کے باہرپُرامن دھرنے دیے بیٹھے ہیں۔ گلے گلے پھاڑ پھاڑ کرتقریریں جھاڑتے، نعرے لگاتے، سینہ کوبی کرتے، سر پیٹتے اپنے آپ کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھنے کے جنون میں مبتلاہیں۔ دن چڑھے فٹ پاتھوں پر آ کر دھما چوکڑی کرتے اورشام ڈھلے خالی دامن جھاڑ، اپنے اپنے ویران اورفاقہ زدہ گھروں کو ناکام و نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں۔

ان احتجاجیوں کا مطالبہ ہے کہ آزادی اظہار پر قدغن، اخبارات اور میڈیا چینلز سے سینکڑوں کارکنوں کی جبری برطرفیوں، نامعلوم گمشدگیوں اور سخت ترین سنسرشپ کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈی چوک میں قریباً ایک سو بیس دنوں کے پرتشدد دھرنے سے لے کر فیض آباد اور پھر لاہور کے چئیرنگ کراس دھرنے کی لائیو نشریات دکھانے والے یہ بے چارے کم علم صحافی اس حقیقت سے ہی بے خبرہیں کہ کسی بھی پرُامن احتجاج کے ذریعہ آج تک کون اپنا  حق حاصل کر پایا۔

Read more

آزاد محبت کی کہانی: افلاطون سے سلیکون تک

347 قبل مسیح کا عظیم یونانی فلسفی افلاطون پیدائشی امیر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ ایتھنز میں دی اکیڈمی کے نام سے قائم کیاجانے والا سکول آج بھی یورپ کی سب سے پہلے یونیورسٹی تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی عظیم فلسفی نے اپنے ہونہار شاگرد ارسطو کو نصیحت کی کہ اگر تم دنیا میں کسی…

Read more

روحی بانو: میرا خدا اور زمانہ

میرا خدا کہتاہے، زمانے کو برا نہ کہو، اس لئے کہمیں ہی زمانہ ہوں۔ توکیا میں خدا کا گنہگارہوجا ؤں، یہ کہہ کر کہ میری ممدوح روحی بانو خود نہیں مری بلکہ اسے اس ظالم زمانے نے اپنی روایتی بے حسی اور ناقدری کے پے درپے کچکوکے دے دے کر مار دیا۔ آہستہ آہستہ اپنے چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کے انجکشنوں میں سستی شہرت کا زہر بھر بھر کر اس کی رگوں میں اتارا گیا۔

وہی زمانہ جس نے گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرتی ایک معصوم طالبہ کو کلاس روم سے اٹھا کر پاکستان ٹیلی ویژن کی راہداریوں تک پہنچایا اور پھر اس مصنوعی رنگین غباروں جیسی ناپائیدار مگر خوشنما دنیا میں یک و تنہا چھوڑ دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب طلعت حسین، عابدعلی، فردوس جمال، عظمیٰ گیلانی اور خالدہ ریاست جیسے بڑے بڑے فنکاروں کا طوطی بول رہا تھا، لیکن ان کے سامنے جب سانولی سلونی، غلافی آنکھوں اور چھریرے بدن والی ایک نوخیر لڑکی ڈائیلاگ بولتی، سٹیپ اٹھاتی اپنی انوکھی اور البیلی اداکاری کرتی تو بہت سے بت دھڑام سے اوندھے منہ زمین پر آٰن گرتے۔

Read more

روحی بانو، میرا خدا اور زمانہ

میرا خدا کہتا ہے، زمانے کو برا نہ کہو، اس لئے کہ میں ہی زمانہ ہوں۔۔۔ تو کیا میں خدا کا گنہگارہو جاﺅں، یہ کہہ کر کہ میری ممدوح روحی بانو خود نہیں مری بلکہ اسے اس ظالم زمانے نے اپنی روایتی بے حسی اور ناقدری کے پے درپے کچکوکے دے دے کر مار دیا۔…

Read more