جموں کشمیر پر کیا گزری؟
ایک دہائی تک بدعنوانی میں ہاتھ رنگنے کے بعد اور اپنے سیاسی مخالفین پر ہر طرح کا ظلم و جور روا رکھنے والے اس ”مرد آہن“ نے اب اچانک نئی دہلی کی ریاست میں براہ راست مداخلت اور انضمامی سیاست کا توڑ کرنے کا ارادہ لے کر اپنے آپ کو کشمیری نیشنلسٹ کہلانا شروع کر دیا۔ اس وجہ سے بخشی بھارتی پارلیمنٹ میں داخلہ حاصل کرنے کا اہل بن سکا۔ وہ پارلیمانی حلقہ سرینگر سے الیکشن جیتنے میں کامیاب رہا۔ حکمران جماعت کانگریس کی ساکھ اس وقت اور بھی زیادہ خراب ہو گئی، جب 1968ء میں شیخ محمد عبداللہ کو مختصر مدت کے لئے قید سے رہائی ملی اور وادی کے طول و عرض میں عوام نے بھرپور خوشیوں کا مظاہرہ کیا۔
شیرکشمیر کا جگہ جگہ والہانہ سواگت کیا گیا اورعوامی جوش و جذبے اور مسرت و شادمانی کے مظاہروں سے وادی میں کانگریس کی جو بھی بنیاد تھی، ہل گئی۔ اپنی رہائی کے فوراً بعد عبداللہ نے 26 جنوری 1968ء کو اننت ناگ میں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے اختلافی نظریئے کا بر ملا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کے آزادی پسندانہ جذبات کو بھارت کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں اور ظالمانہ طور طریقوں سے دبایا نہیں جا سکے گا۔
عبداللہ نے بھارت کو کشمیر میں ریفر نڈم کرانے سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی بھی یاد دلائی تاکہ کشمیری استصواب رائے کا اظہار کر سکیں۔ ہندوستان کی جمہوریت کے تیئں شیخ عبداللہ کی مایوسی کے نتیجے میں سیاسی اور ذاتی نوعیت کی تند مزاجی نے جنم لیا۔ بوس کے مطابق شیر کشمیر نے 1968ء میں مختلف مواقع پر انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا، کہ ہندوستان کے دستور میں قانون کی عملداری، عدلیہ کی آزادی، الیکشن عمل کی ایمانداری کی خوب تر وضاحت کی گئی ہے۔
یہ بات حیران کن نہیں کہ دنیا کے کئی ممالک نے اسی دستور، خصوصاً عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق چپٹر کی نقل اتاری ہے۔ ہمیں کبھی بھی اس حقیقت سے منکر نہیں ہونا چاہیے کہ آئین فقط بنیاد فراہم کرتا ہے اور آئین کو زندگی بخشنے اوراس پر عملدرآمد کرنے کی ذمہ داری متعلقہ اتھارٹیز پر عاد ہوجاتی ہے۔ لیکن کشمیر میں آئین کی کئی دفعات کو کئی لحاظ سے غلط طور پر استعمال کیا گیا ہے اور نصب العین کو مکمل طور فراموش کیا گیا ہے۔
کئی عناصر کو یہ سلسلہ دراز کرنے اور تباہی کو آگے پھیلانے کی آزادی دی گئی ہے۔ مسلح مداخلت، قتل عام، لوٹ اور غارتگری اور سرکاری ظلم و ستم کو دیکھتے ہوئے عبداللہ کی پیش گوئی حرف بحرف صحیح ثابت ہوگئی۔ ان کی عقابی نظروں نے ہندوستان کی جمہور مخالف حکمت عملی کو بجا طور محسوس کیا تھا اور اس طرح سے وہ اپنے آپ کو ہردلعزیز اور دور اندیش رہنما ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ 1971-72ء میں وسیع پیمانے پر رہنماؤں اور محاز رائے شماری کے ممبران کی گرفتاریوں کے بعد انتخابات میں کانگریس نے اپنے لئے بھر پور کامیابی کی حکمت عملی تیار کرلی اور پارلیمنٹ کی چھ میں سے پانچ نشتوں پر قبضہ کیا۔
اور اسی طرح سے 56 اسمبلی حلقوں کو اپنے بس میں کرلیا، جبکہ باقی 17 اسمبلی حلقوں پر دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو کامیاب دکھایا گیا۔ اس سال بی جے پی متنازع سیاسی ماحول میں پہلی مرتبہ اسمبلی ایوان میں میں نظر آگئی اور جموں خطے میں دو سیٹوں پر اس جماعت کا قبضہ ہو گیا۔ الیکشن عمل کا ایک اور قابل ذکر پہلو یہ تھا کہ پاکستان کی حامی مذہبی جماعت، جماعت اسلامی نے وزیر اعلی سید میر قاسم کے ساتھ ایک خاموش سمجھوتے کے تحت اسمبلی کی پانچ نشستوں پر ہاتھ مارا۔
جماعت اسلامی تب تک بھارت کے ساتھ الحاق کو مسلسل طور رد کرتی رہی تھی اور آج بھی بھارت کے زیر انتظام ریا ست جموں کشمیر میں بھارتی آئین کی حدود میں انتخابی سیاست کی کٹر مخالف ہے۔ بخشی غلام محمد بھی سرینگر حلقہ سے پارلیمانی نشست کے لئے الیکشن میں پھر سے حصہ لینے پر تیار ہوگئے اور سرکار کی جانب سے سرپرستی اور حمایت ملنے پر پہلی مرتبہ اپنی کشمیری قومی شناخت کو تیاگ دیا۔ 1971ء کی بھارت پاک جنگ کے بعد ہندوستان کو خطے میں فوجی غلبہ حاصل ہوا اور اب پاکستان بھارت کو چلینج دینے کی حیثیت میں نہیں رہا تھا۔
1972ء میں شملہ سمجھوتہ طے کیا گیا اور اس پر پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دستخط ثبت کر دئے۔ سمجھوتے میں کشمیر مسئلے کو دو ممالک کے درمیان باہمی مذاکرات سے حل کرنے کا اقرار کیا گیا، جنگ بندی لائین کو حقیقی کنٹرول لائین میں تبدیل کر دیا گیا، اقوام متحدہ کے چارٹر کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ضامن بنے رہنے کی حقیقت کا اعادہ کیا گیا اور سابق رجواڑہ ریاست جموں کشمیرکے جھگڑے کو حتمی طور حل کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا (مارگولیو۔ 9991 ء)۔ بھارت میں شملہ سمجھوتے پر عام طور سے اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس کی رو سے ریاست جموں کشمیر پر بھارت کے سرکاری دعوؤں کو بر حق قراردیا گیا۔



