حقوق کی تحریک پر غداری کی تہمت نہ دھری جائے
سیکورٹی ادارے اپنے ان شبہات کو ثابت کرنے کے لئے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں لائے اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے نے غیر ملک کا آلہ کار بننے کے الزام میں پی ٹی ایم کے کسی لیڈر کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی اختیار اور کنٹرول استعمال کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں اور احتجاج کو میڈیا میں رپورٹ کرنے کی حوصلہ شکنی دیکھنے میں آئی ہے۔ ملک کے سیاست دان اور سول حکومت کے نمائیندے بھی اس معاملہ پر زبان کھولنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ 2 فروری کو لورا لائی میں پی ٹی ایم کے رہنما اور استاد و شاعر ارمان لونی کی پولیس تشدد میں ہلاکت کے بعد پی ٹی ایم نے ملک بھر میں احتجاج کیا تو اس خبر کی ترسیل تو نہیں ہوسکی لیکن پولیس نے متعدد شہروں میں پی ٹی ایم کی حمایت میں مظاہرہ کرنے پر لوگوں کو گرفتار کرنا ضروری سمجھا۔ اب ملتان سے خبر آئی ہے کہ پی ٹی ایم کی حمایت کرنے پر دو بھائیوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ارمان لونی کی ہلاکت کی تحقیقات کا اعلان ضرور کیا تھا لیکن باقی تحقیقات کی طرح اس معاملہ میں بھی ہنوز کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ وزیر اعظم سمیت ملک کے کسی لیڈر کو اس سانحہ پر تشویش ظاہر کرنے یا ایک ایسے واقعہ کی اصل حقیقت سامنے لانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ملک کے لاکھوں پشتون شدید بے چینی اور غم و غصہ محسوس کررہے ہیں۔ البتہ جب افغان صدر نے ایک ٹویٹ میں اس تحریک کی حمایت کی تو وزیر خارجہ نے اس کا تند و تیز جواب دینا ضروری سمجھا۔ اور ملک کے متعدد تبصرہ نگاروں نے اشرف غنی کے ٹویٹ کو ان کی سیاسی بدحواسی اور طالبان کی طرف سے افغان حکومت کو نظر انداز کرنے کا رد عمل قرار دیا۔
ملک کی سول یا عسکری قیادت اب تک اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے کہ اگر نوجوانوں کا ایک گروہ مقبولیت حاصل کررہا ہے، اس کے مطالبات بھی جائز ہیں اور وہ قانون کے مطابق ہی لائحہ عمل بنانے کا اعلان کرتے ہیں تو پھر اس گروہ کی سرگرمیوں کو روکنے، ان کی تشہیر میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، اس کے بارے میں شبہات کو ہوا دینے، پر امن احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنے اور مقدمے قائم کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جارہی ہے۔ اگر پی ٹی ایم نے قانون شکنی کی ہے تو ملک کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی عدالت سے متعلقہ شخص کو سزا دلوائی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک منظم اور مقبول تحریک و تنظیم کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی حکمت عملی سے فاصلے اور ناراضی بڑھنے کا امکان ہے۔ پی ٹی ایم کی حمایت پر مقدمات قائم کرتے ہوئے غداری یا بغاوت کی دفعات شامل کرنے سے تو یہی قیاس ہوگا کی ملک کی حکومت اور دیگر ادارے صورت حال کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام ہورہے ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ سیاسی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم ہے۔ ملک کے اداروں اور حکام کو اس کا اسی طور سے احترام کرنا چاہیے۔ یہ ممکن ہے کہ اس تنظیم سے وابستہ بعض لوگ جذبات میں اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کا ارتکاب کریں لیکن اس قسم کے وقتی جذباتی نعروں کی بنیاد پر ایک گروہ کے خلاف ملک دشمنی کا تاثر قائم کرنے سے کسی قومی مفاد کا تحفظ نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی ان نوجوانوں کو جعلی طریقہ سے دبا کر کوئی خاص کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی مختصر تاریخ میں اس قسم کا ہر ہتھکنڈا ناکام رہا ہے۔
بغاوت کا الزام لگا کر فاصلہ پیدا کرنا اور جائز تحریک کو دشمن کی آلہ کار کہنا، بداعتمادی کو فروغ دینے اور مفاہمت کا راستہ مسدود کرنے کا سبب بنے گا۔ حکومت اور اداروں کو پی ٹی ایم کو اجنبی اور ناپسندیدہ قرار دینے کی درپردہ پالیسی اختیار کرنے کی بجائے ا س تحریک کی قیادت کے ساتھ کھلے دل و دماغ کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ ملک سے محبت پر کسی ایک فرد یا ادارے کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی۔ اس ملک کے سب شہری محب وطن ہیں۔ قومی مفاد کی تشریح ملک کی پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔ اور اس مفاد کے خلاف کام کرنے والوں سے قانون کے تحت کام کرنے والے ادارے عدالتوں کے تعاون سے نمٹنے کے مجاز ہیں۔
غداری اور ملک دشمنی کی غیر واضح اصطلاحات مہلک ہیں۔ ماضی کی طرح اب بھی حب الوطنی پر اجارہ داری قائم کرنے سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

