ارشاد رانجھانی کے قتل کی ایف آئی آر


جس وقت کراچی میں اک دیہاتی نوجوان ارشاد رانجھانی کے سرعام قتل کے گھونج سندھ اسمبلی میں وزیر اعلی سندھ کے آواز میں سنی جارہی تھی اسی وقت ہزاروں لوگ شاہراہ فیصل پر کارساز کے قریب اس جگھ پر امن احتجاج کر رہے تھے، جہاں مشرف دور میں نامعلوم شہری لوگوں نے اپنا پرتشدد احتجاج رکارڈ کرواتے بیسیوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

یہ اتنا پر امن احتجاج کرنے والے لوگ کون تھے، کہاں سے آئے تھے، کس کے کہنے پر آئے تھے، اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو حیران کن حقائق سامنے آتے ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ اس احتجاج کی کال کسی بھی سیاسی جماعت نے نہیں دی تھی۔ اور نہ ہی کسی غیر سیاسی جماعت نے، نہ کسی سردار وڈیرے نے بندے بھیجے تھے، نہ ہی کسی سرمایہ دار نے سرمایہ لگایا تھا، کسی سرکاری ادارے کی گاڑی لوگوں کو اکٹھا کرنے پر متعین نہ تھی۔ احتجاج میں شامل لوگوں کے لئے آخر میں کسی نے بھی ”سندھی بریانی“ یا ”بمبئی بریانی“ کے پیکٹ تقسیم نہیں کیے تھے نہ ہی پیسوں والے لفافے۔

پھر بھی یہ کیسے ممکن ہوا؟ اک دیہاتی نوجوان کے بیچ چوراہے پر بیہیمانہ قتل پر اتنے بڑے احتجاج میں سندھ کی تمام سیاسی، قومپرست، مذہبی، سماجی، مزدور، ہاری، عورت اور طلبہ تنظیموں نے شرکت کر ڈالی، اور کسی نے اس احتجاج کو کریڈٹ لینے کی کوشش بھی نہ کی، ہر اک اپنی پارٹی کی بجائے دوسری تنظیم کو خراج تحسین پیش کرنے میں جٹا ہوا تھا۔

ملیر میں بھینسوں کے باڑے میں کام کرنے والے اک نوجوان سے علاقے کے یو سی چیئرمین بن کر ارب پتی بننے تک کی لمبی داستان لئے اور ایک ہی وقت میں مسلم لیگ، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ روابط رکھنے، جائز ناجائز کام کرنے، طاقتور لوگوں کے لئے زمینوں پر قبضے کرنے اور جلسوں میں سرمایہ لگانے والے رحیم شاہ کے خلاف بالآخر قتل کا کیس درج ہوگیا۔ ایف آئی آر نمبر 105 / 19 داخل کرنے کے بعد رحیم شاہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اور واقعے میں کام آنے والی اس کی گاڑی بھی تھانے میں بند کردی گئی ہے۔

دیہاتی نوجوان اور سماجی کارکن خالد رانجھانی کے قتل کے حوالے سے نامور کالم نگار وسعت اللہ خان نے لکھا ہے کہ ”سوال یہ ہے کہ کیا ابتدائی طبی امداد اس کا حق نہیں تھا؟ کیا مجھے یا ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر میں سمجھوں کہ آپ میرے لئے خطرہ ہیں تو میں آپ کو گولی مار دوں اور ہسپتال بھی لے جانے نہ دوں تاکہ روڈ پر تڑپ تڑپ کر آپ مر جاؤ۔ کیا ہر کسی کو licence to kill دینا صحیح ہے؟ تو پھر آئین و قانون کس کھیت کی مولی ہیں۔ قوانین کیوں بنائے گئے ہیں؟

دوسری بات اگر ارشاد واقعی ڈکیت تھا تو بقول رحیم شاہ کہ وہ جس بینک سے پیسے نکلوا کے باہر آیا اور ارشاد اس کے پیچھے تھا تو اس بینک کے سی سی ٹی کیمرہ میں دیکھ کہ پتا لگایا جا سکتا ہے کہ آیا ارشاد واقعی اس وقت وہاں موجود تھا یا نہیں؟ کراچی میں اکثر جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ تو ان کیمروں کا استعمال کر کے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا ارشاد رحیم شاہ کی گاڑی کے پیچھے تھا یا وہ اپنے رستے سے جا رہا تھا؟ اور رہی بات ارشاد کے خلاف ایف آئی آرز کی تو خود رحیم شاہ کے خلاف کئی ایف آئی آرز درج ہیں تو وہ کیونکر پارسا نکلا؟ ”

بہرحال قاتل گرفتار کیا گیا اور ایف آر بھی داخل ہوگئی یہ سب اس احتجاج کے بعد ممکن ہوا جس میں ایک ہی وقت میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ، پی ٹی آئی، سندھ عوامی تحریک، سندھ یونائیٹڈ پارٹی، جیئے سندھ قومی محاذ، جیئے سندھ تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھ نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، سندھ ڈیموکریٹک پارٹی، مسلم لیگ (پ) ، عوامی راج تحریک، جیئے سندھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، سندھی شاگرد تحریک، یوتھ ایکشن کمیٹی سمیت کئی پارٹیوں کے عہدیدار اور کارکنوں سمیت عام غیر سیاسی سوچ رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے۔

یہ بات درست ہے کہ ان تمام پارٹیوں کے زیادہ تر سندھی بولنے والے لوگ شامل تھے، اردو بولنے والے اکثر لوگ اور چند اردو نیوز چینلز نے اپنی روایات کو برقرار رکھا اور ایسے احتجاج میں شامل نہیں ہوئے جن میں ان کا کوئی سیاسی یا غیر سیاسی فائدہ نہ ہو۔ اس احتجاج دھرنے اور تحریک میں پیپلز پارٹی کے سید ناصر شاہ اور سعید غنی سمیت، جئے سندھ قومی محاذ کے سابق چیئرمین شہید بشیر احمد قریشی کے فرزند اور موجودہ چیئرمین سنان قریشی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی سمیت کئی رہنما شامل تھے۔

سوشل میڈیا کے دم پر اکٹھے ہونے والے اتنے سارے لوگوں کے سامنے جب سنان قریشی اور قادر مگسی آکر کھڑے ہوگئے تو معاملات قابو میں آگئے۔ کہتے ہیں کراچی کی تاریخ کا یہ واحد احتجاج تھا جو جذباتی طور سخت غصے میں تھا مگر اپنے اعصابی طور پر اتنا قابو میں کہ اک بھی شیشہ نہیں ٹوٹا، کوئی گولی نہیں چلی، کسی کو گالی نہیں دی گئی، کسی ایمبولینس کو نہیں روکا گیا، کسی کے خلاف نعرے بازی بھی نہیں ہوئی۔

سنان قریشی اور قادر مگسی سمیت سینکڑوں شخصیات صرف احتجاج کرنے کے بعد جذباتی تقاریر کرکے واپس نہیں گئے مگر جلسہ گاہ سے سیدھے شاہ لطیف تھانے پہنچے اور اس دیہاتی نوجوان کے قاتل رحیم شاہ کے خلاف خود ایف آء آر درج کروائی۔ وہاں پر سندھ کے سماجی رہنما اور کارکن بھی اس وقت تک موجود رہے جب تک ان کو ایف آئی آر نمبر 105 / 19 کی کاپی فراہم کی گئی، سوشل میڈیا پر کروڑوں لوگ پورا دن آن لائین رہے اور صورتحال کا بغور جائزہ لیتے رہے۔

یہ سب کچھ کیا تھا، اور کیسے ممکن ہوا، اس سوال کا جواب سندھ کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ذوالفقار قادری اور خلیل چانڈیو نے دیا کہ ”سندھ کے لوگ بنیادی طور پر پر امن لوگ اور مہمان نواز ہیں، پانچ ہزار سال کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سندھ کے حکمرانوں اور عوام نے کبھی بھی اپنے پڑوسیوں کی سرحدوں اور وسائل پر کبھی نہ حملہ کیا ہے نہ ہی قبضہ، یہاں تک کے پاکستان بنانے کی دعویدار سندھ اسمبلی نے بھی کبھی پاکستان بننے کے بعد دوسرے صوبوں کے وسائل پر نظر نہیں رکھی۔

اس وقت بھی سندھ کے لوگ صرف اپنے حقوق اور اس دھرتی پر امن اور آشتی کی بات کرتے ہیں۔ سیاسی وابستگیاں رکھنے والے لوگوں کو بھی کہنا ہے کہ“ اس وقت سندھ واحد صوبہ ہے جو 18 ویں ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے تمام صوبوں کی اپنی خودمختاری اور حقوق کی بات کرتے ہوئے دوسری اکائیوں کے مفادات کی سیاسی جنگ لڑ رہا ہے۔ ”

سندھ میں اک نیا خیال پنپ رہا ہے کہ اس طرف پیپلز پارٹی اس وقت آصف علی زرداری ڈاکٹرائین پر کام کر رہی ہے دوسری طرف سائیں جی ایم سید اور بشیر احمد قریشی جیسے قوم پرست رہنماؤں کے بعد سندھ میں قوم پرست تحاریک بھی کمزور ہو گئی ہیں، ایم کیو ایم کو پورے سندھ میں شہری مفادات اور اقتدار میں حصے کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا، تیسری طرف پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی سندھ میں انتہائی کمزور سرگرمیوں کے سبب اصل عوامی لیڈرشپ کا فقدان ہورہا ہے، اور اس خال کو سندھ کے دانشور طبقے نے سنبھالا ہے۔ کارساز کا یہ احتجاج اصل میں دانشور طبقے کی کال پر ہوا جس میں سیاسی رہنماؤں کی شرکت اس لئے بھی لازم تھی کہ ان کے پاس اور کوئی اور بھی نہیں تھا۔

کارساز پر سب سے پہلے پہنچنے والے لاڑکانہ کے نوجوان محمد علی جانیگانی نے سوشل میڈیا پر اپنے پہلی اپڈیٹ میں لکھا تھا ”دیکھو میں پہنچ گیا ہوں، خود آیا ہوں، اپنے دل اور ضمیر کی آواز پر اپنے دارالحکومت کراچی کی مالکی کرنے آیا ہوں اور کسی کا انتظار نہیں کر رہا۔ کوئی انتظار میں نہ رہے سب کے سب نکلو اور پہنچ جاؤ۔ “ دو گھنٹوں کے بعد جب وہاں جم غفیر جمع ہوگیا اور سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولاجی اینڈ ٹراسپلانٹیشن (SIUT) میں داخل سماجی کارکن اپنی ڈائلاسز کروانے کے بعد سیدھا کارساز پہنچا تو سیکڑوں لوگ دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ مرد، عورتیں، بچے اور بچیاں شام تک احتجاج کرتے رہے اور کسی نے بھی قاتل رحیم شاہ کو پٹھان اور مقتول خالد رانجھانی کو سندھی نوجوان نہیں کہا، قومیت کی آگ نہ بڑھائی، بولی اور زبان کا چرچا نہیں کیا، سیاسی پارٹیوں اور سرکار اداروں پر طعنہ زنی نہیں کی بس اک مطالبہ کیا کہ سندھ کے دھرتی دھنوں کو ایسے بے موت نہ مارا جائے۔ اپنی دھرتی پر اس کے بچوں کو جینے کا حق دیا جائے۔

اگر سندھ سرکار اس سلسلے میں قانون کی پاسداری کرتے ہوئے عدلیہ کو کیس بھیجتی ہے اور عدالت کوئی عدل و انصاف کرتی ہے تو یہ ایف آر نمبر 105 / 19 سندھ میں اک بہتر سیاسی مزاج اور روش کو جنم دیگی اور اگر دوسری کئی سماجی عدم انصافیوں کے ساتھ رانجھانی کے قتل کے ساتھ بھی عدل نہیں ہوتا تو پاکستان کھپے والا نعرہ لگانے والے آصف علی زرداری کے حالیہ بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ پاکستان میں اک اور بنگلادیش بننے

Facebook Comments HS