ویلنٹائن ڈے پر ڈبل سواری اور موبائل سروس بند کی جائے
آپ اگر اب ہماری مانند نوجوان نہیں رہے اور شادی بھی کر بیٹھے ہیں تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں میں بے حیائی پھیلتی جا رہی ہے۔ انہیں کوئی شرم و حیا ہی نہیں رہی۔ کبھی طرح طرح کے سوانگ بھر کر ہیلووین منانے لگتے ہیں کبھی کرسمس میں سانتا کلاز بنے پھر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب ہماری تہذیب نہیں لیکن پھر بھی طوعاً و کرہاً گوارا تھا۔ لیکن جس طرح یہ ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا ہے اس نے تو ہمارے زمانے کے بے حیائی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
ہماری روایت تو صرف جنازوں اور مزاروں پر پھول ڈالنے کی ہے۔ کسی عزیز رشتے دار سے ملنا ہو تو ہم اسے پھل از قسم امرود اور تربوز پیش کرتے ہیں۔ یہ پھول دینے کا کیا مطلب ہوا؟ چلو اگر دینے بھی تھے تو پرائے لڑکے لڑکیوں کو پھول دینے کی کیا تک؟ زیادہ بڑا ستم یہ ہے کہ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بعض لڑکیاں یہ پھول قبول بھی کر لیتی ہیں اور ہم جل کڑھ کر رہ جاتے ہیں۔
اگر یہ لڑکے لڑکیاں تمام سال ایک ہی مخلوط کالج یونیورسٹی میں پڑھتے بھی ہیں تو اساتذہ کی کڑی نگاہوں کے باعث ایک دوسرے سے اتنے دور رہتے ہیں کہ سال بھر بات نہیں کر پاتے۔ لیکن یہ 14 فروری ایسا منحوس دن ہے کہ اساتذہ کی نظر چوک چوک جاتی ہے۔ لڑکے لڑکیاں نہ صرف ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں بلکہ بعض تو ادھر ادھر گھومنے بھی نکل جاتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں تو بہت احتیاط ہوا کرتی تھی مگر اب بیشتر بوائز کالجوں میں لڑکیاں بھی پڑھنے لگی ہیں۔
جو بوائز یا گرلز کالج خود کو ابھی تک مخلوط تعلیم کی اس خرافات سے بچائے ہوئے ہیں ادھر ایک دوسری مصیبت نازل ہوتی ہے۔ بھٹکے ہوئے لڑکوں کی ٹولیاں اپنی اپنی موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر گرلز کالج کے باہر ڈیوٹی دینے لگتے ہیں۔ پوچھو تو کہتے ہیں کہ یوم حیا منا رہے ہیں۔ اب بھلا کتنی لڑکیوں کا نام حیا ہوتا ہے جو ان کا دن ہی منا لیا جائے؟
پھر موبائل فون بھی ایک بڑی مصیبت ہیں۔ عام دنوں میں تو یہ بہکی ہوئی جوانیاں محض چوبیس گھنٹے ہی ایک دوسرے سے میسیجنگ میں لگی رہتی ہیں مگر ویلنٹائن ڈے پر تو اس سے بھی زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔ نہ ان کو دین کا ہوش نہ دنیا کا۔ ہر وقت نوٹس ایکسچینج کرتے رہتے ہیں۔ اور اسی پر وہ سیر و تفریح کا پروگرام بھی بنا لیتے ہیں۔
اگر یہ گاڑی پر بھی اکٹھے سیر و تفریح کرنے نکلیں تو درمیان میں کچھ فاصلہ ہوتا ہے لیکن موٹرسائیکل پر تو ایسی صورت میں ہمارے مرشد عطاری صاحب کا دیا ہوا مدنی تکیہ بھی فیل ہو جائے گا۔ اسے ڈیزائن کرتے ہوئے ویلنٹائن دے کو پیش نظر نہیں رکھا گیا تھا۔ وہ صرف مردانہ تحفظ باہمی کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ہم جیسے نیک طینت بزرگ چاہے جتنا بھی اس فسق و فجور کو روکیں مگر معاملہ کچھ یوں ہے کہ ”عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ / کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے“۔ اب آپ کا کیا خیال ہے کہ ہیر نے اپنے ابا سے پوچھ کر رانجھے سے عشق کیا تھا یا سوہنی نے اپنی امی سے اجازت لی تھی کہ مہینوال سے چکر چلا لوں۔ یہ کارروائیں تو چپ چپیتے ہی ہوا کرتی ہیں اور بزرگوں کو ان کی کانوں کان خبر نہیں ہونے دی جاتی۔
اب تک آپ بنیادی مسائل سے آگاہ ہو چکے ہوں گے۔ یعنی نوجوانوں کا اپنے بزرگوں کو بے وقوف بنانا، ویلنٹائن ڈے پر سکولوں کالجوں کا کھلنا، لڑکے لڑکیوں کے پاس موبائل ہونا جس کا اس دن بے محابہ استعمال کیا جاتا ہے، اور تیسرے نمبر پر موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کا ہونا۔
ان تمام دل جلانے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے ہم تجویز کرتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے پر بھی ویسے ہی موبائل سروس بند کی جائے جیسے دوسرے ان دیگر دنوں پر کی جاتی ہے جن سے ہم دہشت زدہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام حساس دنوں پر تو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کرتے ہوئے خواتین کو استثنا دیا جاتا ہے، مگر ویلنٹائن ڈے پر ان کی خاص طور پر پکڑ ہونی چاہیے۔ تیسری سفارش یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر تمام سکول کالج بند کیے جائیں۔ بلکہ سکول کالج کیا اب تو دفاتر میں بھی مخلوط ماحول ہوتا ہے۔ ہم جہاں بھی جائیں ہماری تو نظریں ادھر چپک چپک جاتی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے پر دفاتر میں بھی چھٹی ہونی چاہیے۔
جس نے بھی عشق محبت کرنا ہے گھر بیٹھ کر اپنی شرعی منکوحہ سے کرے۔ اس کا نہ بل آتا ہے نہ پیٹرول اور پھولوں کا خرچہ سر پر پڑتا ہے۔ نیز اکٹھے خوش ہوتے دیکھ کر محروم لوگ جلتے کڑھتے بھی نہیں۔ جہاں تک بزرگوں کو بے وقوف بنانے والا معاملہ ہے، اس کا نہ کوئی حل ملا ہے نہ ملے گا۔ میر تقی میر فرما گئے ہیں ”جو ترسا بچہ ہے سو پیر مغاں ہے / ہے بس شاہد حال رنگ شکستہ“۔


