سعودی شاہی دورہ: اسلام آباد قید خانہ کیوں بن رہا ہے؟
یہ وہی ترسیلات ہیں جن کا ذکر وزیراعظم عمران خان بڑے فخر سے کرتے ہیں اور جن میں اضافہ کے لئے تحریک انصاف کی حکومت متعدد اقدامات کا اعلان کرتی رہتی ہے۔ اگر حکومت مختلف ملکوں سے پاکستانی تارکین وطن کی بہبود، حفاظت اور عزت و وقار کے لئے بات چیت نہیں کرے گی اور اس معاملہ کو سعودی عرب کے ولی عہد سے مذاکرات میں ایجنڈے پر سر فہرست نہیں رکھا جائے گا تو بیرون ملک مقیم یہ پاکستانی کیوں کر اپنے ملک اور حکومت پر اعتبار کریں گے؟
گزشتہ برس کے شروع میں انسانی حقوق کی دو تنظیموں نے سعودی عرب میں پاکستانی تارکین وطن کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کی تھی جس میں وہاں پر پاکستانی کارکنوں کو درپیش مشکلات اور ناگفتہ بہ حالات کار کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی جیلوں میں گزشتہ برس کے شروع تک 2795 پاکستانی مختلف جرائم کے الزام میں قید تھے لیکن انہیں بنیادی قانونی امداد اور منصفانہ عدالتی کارروائی کا استحقاق نہیں ملتا۔ 2014 سے 2017 کے دوران 66 پاکستانیوں کو موت کی سزا دی گئی اور تلوار سے ان کی گردن اڑا کر اس سزا پر عمل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بیشتر معاملات میں ملزمان کوغیر شفاف عدالتی عمل کے ذریعے سزا دی جاتی ہے۔ اسی طرح انہیں جیلوں میں بھی متعصبانہ رویوں اور ابتر حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایم بی ایس کی دھوم دھام سے اسلام آباد آمد اور ان کے استقبال اور سیکورٹی کی پر جوش باتوں کے شور میں شاید ان ہزاروں قیدیوں کی حالت زار پر بات کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جائے گی۔
کسی بھی دوسرے ملک سے آنے والی کسی بھی اہم شخصیت کو خوش آمدید کہنا اور اس کی حفاظت کا مناسب بند وبست کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے۔ لیکن ایم بی ایس کی آمد پر جس طرح اسلام آباد میں سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے معاملات سعودی سیکورٹی حکام کے حوالے کرنے کی خبریں دی گئی ہیں، وہ پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے علاوہ اس کے قومی وقار اور مفاد کے بھی خلاف ہے۔ پاکستان دعوے سے کہتا ہے کہ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے جیتی ہے۔
لیکن ایک مہمان کی آمد پر اس کی سیکورٹی فورسز پر یہ بھروسہ نہیں کیا جارہا کہ وہ مہمان کی حفاظت کرنے اور اس کا خیال رکھنے کے قابل ہیں۔ اسی طرح ملکوں کے درمیان سربراہان کے دورے ہوتے رہتے ہیں لیکن کوئی بھی ملک ایسے موقع پر سول آزادیوں کو محدود نہیں کرتا۔ حکومت نے ایم بی ایس کی آمد پر جیسے اسلام آباد کے آٹھ بڑے ہوٹلوں کو اپنی تمام تر بکنگ منسوخ کرنے اور کسی بھی مہمان کے لئے اپنے دروازے بند کرنے کا حکم دیا ہے، وہ اس ملک میں آزاد کاروبار کرنے اور گھومنے پھرنے اور قیام کی آزادی پر روک لگانے کے مترادف ہے۔
عمران خان اور ان کی حکومت پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ سعودی عرب اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو وہ صرف پاکستانی حکومت کی خواہش یا ضرورت کو دیکھ کر ایسا فیصلہ نہیں کرے گا۔ تیل کی عالمی منڈیوں میں کم ہوتی ضرورت اور ترقی یافتہ ملکوں میں انرجی کے ماحولیات دوست ذرائع کی ترویج کی وجہ آئندہ دہائی میں مشرق وسطیٰ کے تیل کی مانگ کم ہوجائے گی۔ اس لئے دیگر ملکوں کی طرح سعودی عرب کو بھی متبادل منڈیوں کی ضرورت ہوگی۔
اس حوالے سے سعودی عرب کی نگاہیں پاکستان کے علاوہ بھارت اور چین کی منڈیوں پر بھی ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی آئل ریفائننری لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان بھی خاص وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر صرف پاکستان کا دورہ کرنے نہیں آرہے بلکہ وہ اس کے بعد بھارت، چین اور انڈونیشیا بھی جائیں گے۔
پاکستان اور اس کی منڈی میں سعودی عرب کی دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں۔ پاکستان کو بھی یہ حساب کرنا چاہیے کہ اسے سعودی سرمایہ کاری یا اشتراک سے کیا فائدہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں اسے کون سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کی ایک مثال تو قطر کا رویہ ہے جس نے وزیر اعظم کی درخواست کے باوجود گیس کے نرخ کم کرنے یا ان کی ادائیگی میں رعایت دینے سے گریز کیا ہے۔ سعودی عرب، آئل ریفائنری کی صورت میں گوادر میں ایران کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ جائے گا۔ پاکستانی حکومت کو یہ سوچنا ہے کہ اس اقدام سے ایران، پاکستان سے کتنا دور چلا جائے گا۔
یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب کaے وسائل اور سرپرستی سے بننے والی اسلامی فوج کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف سعودی ولی عہد کے دورہ سے کئی روز پہلے ہی پاکستان پہنچ چکے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ اس لئے یہ سمجھنا سادہ لوحی ہوگی کہ سعودی ولی عہد اس دورہ کے دوران پاکستان سے مزید عسکری تعاون کی بات نہیں کریں گے۔ عوام کو ان معاملات سے بے خبر رکھنے کا سرکاری رویہ نئے پاکستان کے علمبرداروں کو زیب نہیں دیتا۔
پاکستان کو سعودی مہمان سے معاملات طے کرتے ہوئے اپنے ملک کی اہمیت اور ضرورت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان اس خطے کا اہم ملک ہے اور اس کی حکمت عملی مشرق وسطیٰ کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہ پاکستانی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کا لوہا کس طرح منواتی ہے۔



