بے اولاد اور تنہا عورت: خطرے کی گھنٹی یا ایک نئی زندگی کا سنہری موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 217
  •  

حال ہی میں ‌ ایک مضمون نظر سے گزرا جس کو بنت جمیلہ نے لکھا ہے۔ اس مضمون میں ‌ انہوں ‌ نے ان خواتین کی زندگی کی طرف توجہ دلائی ہے جن کو ہم سب جانتے ہیں۔ ہم میں ‌ سے کون نہیں ہوگا جس کے ساتھ پڑھنے والی اسٹوڈنٹس، پڑوسی یا رشتہ داروں ‌ میں ‌ ایسی خواتین نہ ہوں جن کی شادی نہیں ‌ ہوئی، بچے نہیں ‌ ہوئے یا ان کی شادی ہوکر طلاق ہوگئی اور وہ ادھیڑ عمر میں ‌ بچوں ‌ کی طرح‌ اپنے بھائیوں ‌ کے گھروں میں ‌، اپنے ماں باپ کے گھروں ‌ میں ‌ ڈر سہم کر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں جہاں ‌ ان کے اٹھنے بیٹھنے، چلنے پھرنے، لوگوں ‌ سے ملنے جلنے یا باہر آنے جانے پر کڑی پابندیاں ‌ ہیں۔ یہ زندگیاں ‌ واقعی افسوس کے لائق ہیں۔ آج ہم ان کے تاریخی اسباب پر غور کریں ‌ گے، حالیہ واقعات کا ذکر ہوگا اور کچھ مستقبل میں ‌ تبدیلی لانے پر بات بھی ہوگی۔

ہم جانتے ہیں کہ پدرسری معاشرے میں ‌ خواتین خود ایک مکمل انسان نہیں ‌ سمجھی جاتیں ‌ بلکہ وہ ہر عمر اور زندگی کے دور میں ‌ بچوں ‌ کی حیثیت رکھتی ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے ایک آدمی کی ضرورت ہو۔ کیا یہ ایک سچائی ہے؟ نہیں! سماجی لحاظ سے کچھ ممالک میں ‌ ایسا ہے لیکن سائنسی اور انسانی حقوق کے لحاظ سے ایک نارمل زندگی گذارنے کے لیے کچھ بھی ایسا نہیں ‌ ہے جس کے لیے ایک خاتون کو ایک آدمی کی گارڈین شپ کی ضرورت ہو۔

بلوغت کی سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہر بالغ انسان اپنا خود گارڈین ہوتا ہے۔ ایک بالغ انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ سب انسان معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ایک پیچیدہ تانے بانے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انسان سب برابر ہیں۔ کسی کالے کو کسی گورے پر، کسی مرد کو کسی خاتون پر یا ایک یورپی کو کسی افریقی سے برتر درجہ نہیں ‌ دیا جاسکتا۔ ہر انسان کو اپنی زندگی میں ‌ تعلیم، صحت اور ایک محفوظ ماحول میں ملازمت کا برابر اور مکمل حق حاصل ہے۔

خواتین مکمل انسان ہیں۔ ان کو سب سے پہلے خود کو یہ یقین دلانا باقی ہے۔ ایک سنگل بغیر بچوں ‌ کی خاتون کی حیثیت سے آپ کی نئی زندگی اس وقت ہی شروع ہوگی جس دن آپ کو یہ سمجھ آجائے گی کہ یہ آپ کی واحد زندگی ہے۔ یہ 2019 ہے۔ جنوبی ایشیاء میں ‌ آج بھی ودھوا آشرم ہیں جہاں ‌ بیوہ خواتین کو سفید ساڑھی پہنا کر ان کا سر منڈوا کر آشرم بھیج دیا جاتا ہے چاہے ان کی عمر شادی کے وقت صرف آٹھ سال ہی ہو۔ ایسا کیوں ‌ ہے؟ ایسا معاشی وجوہات کی بنیاد پر ہے۔ اپنے ذہن میں ‌ سے خود کو بیچاری، مسکین، کمزور اور اکیلی سمجھنے کے بجائے اپنی طاقت کو گلے لگانا ہوگا۔

اس کہانی میں ‌ ان خاتون کی عمر چالیس سال سے کچھ اوپر بتائی گئی ہے۔ 18 سال کا بچہ بالغ ہوجاتا ہے جس کو ووٹ ڈالنے کا حق مل جاتا ہے اور وہ قانونی کانٹریکٹ سائن کرسکتا ہے اور اپنے جرائم کی سزا ایک بالغ کی حیثیت سے وصول کرتا ہے۔ ایک چالیس سال کی خاتون کے لیے اب یہ وقت آگیا کہ وہ خود کو 18 سال کا سمجھ لیں۔ یہ خاتون اپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط ازدواجی زندگی میں بے اولاد رہیں۔ ہر انسان کے بچے نہیں ہوتے۔

خود کو مکمل انسان سمجھنے کے لیے ضروری نہیں ‌ ہوتا کہ اس کا دارومدار بچے پیدا کرنے کی صلاحیت پر مبنی ہے۔ کتنے لوگ مختلف سنڈرومز کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جن کے کبھی بچے نہیں ‌ ہوں ‌ گے۔ اگر کسی کے لیے بچے بہت ہی اہم ہیں تو وہ گود بھی لے سکتے ہیں۔ کراچی کی سڑکوں ‌ پر دس لاکھ بچے بے گھر ہیں۔ بچیاں ‌ طوائف بنتی ہیں اور بچے گوند سونگھ کر مر جاتے ہیں۔ ان کا نام حریم فرض کیا گیا ہے۔ حریم آپ خوش قسمتی سے تعلیم یافتہ ہیں اور برسر روزگار ہیں۔

حریم جس شہر میں مقیم ہیں وہاں ان کے قریبی عزیز اور بہن بھائی موجود نہیں۔ حریم کے رشتہ داروں میں اس شہر میں فقط ایک رشتہ دار خاتون اپنے کنبہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ اس بات کو بھی اپنی خوش قسمتی جانیے۔ دیسی رشتہ دار سلگتی لکڑیوں ‌ کی طرح‌ ہوتے ہیں جو دور سے دھواں ‌ دیتی ہیں اور قریب آکر آگ میں ‌ بھڑک جاتی ہیں۔ دیسی رشتہ دار مشکل وقت میں ‌ غائب اور نصیحت دینے میں ‌ سب سے آگے ہوتے ہیں۔ امیر اور طاقت ور رشتہ داروں ‌ کے یہ قریبی رشتہ دار اور غریب اور کمزور رشتہ داروں ‌ کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں۔

حریم اکیلی نہیں ‌ ہیں اور نہ ہی ان کو خود کو اکیلا سمجھنا چاہیے۔ ہزاروں ‌ اور لاکھوں ‌ خواتین انہی حالات کا سامنا کررہی ہیں۔ حریم کو مبارک باد پیش کی جاتی ہے کہ انہوں ‌ نے اپنے رہنے کے لئے جگہ کرائے پر لے لی ہے۔ میرا بیٹا جو اب 19 سال کا ہے وہ بھی اپنے لیے کرائے پر اپارٹمنٹ ڈھونڈ رہا ہے۔ اپنے ماں ‌ باپ کے گھر کو چھوڑ کر اپنے بل بوتے پر رہنے سے یہ سمجھ میں ‌ آتا ہے کہ بل کیسے ادا کرنے ہیں اور اپنے گھر کو خود کیسے چلانا ہے۔

یہ بلوغت کی ٹریننگ کا اہم حصہ ہے۔ حریم کا سب سے بڑا مسئلہ نئے سرے سے، اپنی نئی حیثیت میں تعلقات بنانا اور پہلے سے موجود تعلقات کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔ انسان ایک سماجی جانور ہے اور انسانوں کو دوسرے انسانوں کی ضرورت ہے۔ ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش اور ضرورت یہ ہے کہ اس کو دوسرے انسان قبول کریں۔ ہم اپنی زندگی میں ‌ کبھی بھی سب انسانوں کو خوش نہیں ‌ کرسکتے۔ جو بھی انسان ناکامی دیکھنا چاہتا ہو وہ کوشش کرکے دیکھے کہ اپنے اردگرد تمام انسانوں ‌ کو خوش کرے۔

ہمارے کلینک سے ہر مریض خوش واپس نہیں ‌ جاتا۔ ہمارے خود بہت سارے رشتہ دار ہیں اور ان میں ‌ سے کچھ نے ایسی فرمائشیں ‌ کیں ‌ کہ صاف جواب دینا پڑا۔ ایک آنٹی نے کہا کہ میں ‌ حج پر جارہی ہوں، تم مجھے لیٹر لکھ دو کہ مجھے فلو ویکسین لگی ہوئی ہے۔ میں ‌ نے ان سے کہا کہ آپ فلو ویکسین لگوا لیں یہ آپ کے لیے اور آپ کے گرد دیگر حاجیوں ‌ کی صحت کے لیے بہتر ہے۔ فون رکھ کر میں ‌ نے یہ بھی سوچا کہ کاش ان آنٹی کو حج کی روح کی سمجھ ہوتی۔

معاشی طور پر خود کفیل ہونا ہر انسان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ آج کی پیچیدہ اور مشکل دنیا میں ‌ اپنی اولاد کو اس سطح پر پہنچا دینا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس بات پر بھی حریم کو مبارک باد ملنی چاہیے۔ پاکستان اور ہندوستان غریب ممالک ہیں اور ان میں ‌ بہت سارے ایسے قوانین ہیں جو خواتین کے ساتھ تعصب کرتے ہیں ‌ اور ان کے حقوق سلب کرنے میں ‌ حصہ دار ہیں۔ لیکن پھر بھی میں ‌ یہ سمجھتی ہوں ‌ کہ وہ سعودی عرب سے بہتر ہیں۔

کم از کم وہاں اس طرح‌ باقاعدہ گارڈین شپ کا نظام نہیں ‌ ہے۔ اس کا فائدہ اٹھائیں۔ حریم نے طلاق کے بعد اپنے دوستوں ‌ اور رشتہ داروں ‌ کے دائرے میں ‌ سماجی تنہائی محسوس کی جو کہ کسی بھی انسان کے لیے ایک صدمے کی بات ہے۔ دل کا دروازہ اندر سے کھلتا ہے اور ہم صرف دستک دے سکتے ہیں۔ کسی کو بھی زبردستی دوست نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کی نئی زندگی ان پرانے دوستوں ‌ کے لیے ناقابل قبول ہے تو یہ الوداع کہنے کا لمحہ ہے۔ ایک سچا دوست زندگی کے ہر موڑ پر آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ یہ نئے دوست بنانے کا وقت ہے۔ آئے ول بی یور فرینڈ!

کیا آپ نے گیم آف تھرون سیریز دیکھی ہے؟ اس میں ‌ لینسٹر بونے کا کردار بادشاہ کے باسٹرڈ سے کہتا ہے کہ اپنی کمزوری کو ڈھال کی طرح‌ پہن کر چلو تاکہ اس سے کوئی تمہیں ‌ نقصان نہ پہنچا سکے۔ جس بات سے لوگ سب سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں وہ ہی سب سے پہلے اجنبیوں ‌ کے آگے رکھتے ہیں تاکہ ان کو فوراً پتا چل جائے کہ یہ تعلق آگے بڑھے گا یا یہاں سے ہی ختم ہوجائے گا۔ اس کے لیے امریکہ میں ‌ ایک لطیفہ ہے کہ بار میں پہنچتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ کون ملحد ہے اور کون یہودی کیونکہ وہ پہلے پانچ منٹ میں ‌ خود ہی یہ بتا دیتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 217
  •