سعودی شاہی دورہ: اسلام آباد قید خانہ کیوں بن رہا ہے؟
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہفتہ کے روز دو رزہ سرکاری دورہ پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ ان کی حفاظت کے نقطہ نظر سے پورے دارالحکومت کو ’قید خانہ‘ میں تبدیل کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ عملی طور پر سعودی عرب کا حکمران ہونے کے باوجود شہزادہ محمد بن سلمان جو عام طور سے ایم بی ایس کے مخفف سے بھی پہچانے جاتے ہیں، بہر حال اپنے ملک کے سربراہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ حکومت کے سربراہ ہیں۔ ان کی سفارتی حیثیت بہر صورت ایک نائب کی ہے۔
تاہم پاکستان میں سعودی شاہی مہمان کا خیر مقدم کرنے اور ان کے قیام کے دوران سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے جو اطلاعات دی گئی ہیں، وہ عام طور سے کسی اہم سربراہ حکومت یا مملکت کو بھی میسر نہیں آتیں۔ اسلام آباد ریڈ زون کو بند کرنے کے علاوہ اہم شاہراہوں اور مرکزی علاقوں میں جانے والے راستوں کو سیل کردیا جائے گا اور جب تک شہزادہ محمد اسلام آباد میں قیام کریں گے، اس وقت تک عام شہریوں کو اپنے گھروں میں ہی محبوس ہونا پڑے گا۔ کیوں کہ ان دو دنوں میں شہر میں تجارتی یا دیگر کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہو گی۔
اطلاعات کے مطابق جوں ہی سعودی ولی عہد کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوگا، پاک فضائیہ کے طیارے اسے اپنے جلو میں نور خان ائیر بیس تک لائیں گے۔ اس وقت پورے ملک میں فضائی حدود میں کسی بھی قسم کے طیارے کو پرواز کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسلام آباد کے دونوں ہوائی اڈے دو دنوں کے لئے بند رہیں گے اور کوئی مقامی یا عالمی پرواز اسلام آباد سے اڑان نہیں بھر سکے گی۔ پی آئی اے کے علاوہ تمام نجی ائیر لائینز کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے طیارے اسلام آباد کے ہوائی اڈوں سے کل تک دوسرے شہروں کو منتقل کردیں۔ کیوں کہ جس دوران شاہی طیارہ اسلام آباد کے نور خان ائیر بیس پر پارک ہوگا، کوئی دوسرا طیارہ اس ہوائی مستقر کے علاوہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر نہیں ٹھہر سکے گا۔
اسی طرح شہر کے تمام اہم ہوٹلوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان دنوں کے لئے تمام بکنگ منسوخ کردیں۔ یہ ہوٹل شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ آنے والے مہمانوں یا قبل از وقت انتظامات کی نگرانی کے لئے آنے والے عملہ کے استعمال میں رہیں گے۔ حکومت نے شہر کے بڑے ہوٹلوں میں شاہی وفد اور عملہ کے لئے 700 کمرے بک کروائے ہیں۔ خود شہزادہ محمد بن سلمان وزیر اعظم ہاؤس میں ٹھہریں گے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اسلام آباد کے وزیر اعظم ہاؤس میں ایم بی ایس کے قیام کے دوران ان کے ذاتی محافظ سیکورٹی کا انتظام سنبھالیں گے جبکہ پاکستانی سیکورٹی فورسز بھی وہاں موجود رہیں گی۔ اسی طرح ان دو دنوں کے دوران شہزادے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے سعودی انٹیلی جنس اور سیکورٹی حکام انتظامات کی نگرانی کریں گے اور اسلام آباد کے اہم مقامات پر موجود رہیں گے۔ اس طرح یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس ویک اینڈ پر اسلام آباد میں سعودی ولی عہد کے قدم رنجہ فرمانے کی خوشی میں نہ صرف پاکستانی باشندوں اور دارالحکومت کے شہریوں کی نقل و حرکت محدود کردی جائے گی بلکہ شہر کا انتظام بھی خود مختار پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی بجائے سعودی سیکورٹی اور انٹیلی جنس افسروں کے ہاتھ میں ہو گا۔
نئے پاکستان کے نمائندے سعودی مہمان کی دل جوئی کے جوش میں یہ فراموش کرچکے ہیں کہ پاکستان بھی ایک خود مختار ملک ہے اور اس کی افواج اور انٹیلی جنس کے بارے میں یہ خوش گمانی موجود ہے کہ وہ دنیا کی بہترین فورسز میں شامل ہیں۔ لیکن اس ملک کے قریب ترین دوست ملک کا ولی عہد پاکستانی حکومت کے انتظام اور فورسز کی صلاحیت پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
اس طمطراق کے ساتھ پاکستان آنے والے شہزادہ محمد بن سلمان کے قیام کے دوران سرمایہ کاری کے متعدد منصوبوں کے لئے ’مفاہمتی یادداشتوں‘ پر دستخطکیے جائیں گے۔ اس طرح پاکستان کی حکومت امید کررہی ہے کہ سعودی عرب گوادر کے علاقے میں آئل ریفائنری کے منصوبہ پر کام شروع کرے گا جس پر دس ارب ڈالر سرمایہ کاری کا تخمینہ بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکومت سعودی شہزادے سے بعض دوسری مراعات کی بات کرے گی جن میں تجارتی لین دین کے معاملات اور حج زائرین کے لئے الیکٹرانک ویزا کی سہولت کا حصول شامل ہے۔
اس وقت اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی تارکین وطن بھی سعودی عرب کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن کسی سرکاری اعلان یا کسی وزیر کی گفتگو میں اس بات کا اشارہ نہیں دیا گیا کہ شاہی مہمان کی آمد کے موقع پر ان پاکستانی تارکین وطن کو درپیش مسائل حل کرنے اور انہیں کام کا تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ سوشل سیکورٹی کی دیگر سہولتیں دینے کی بات بھی کی جائے گی۔
گزشتہ دو برس کے دوران شہزادہ محمد کی سخت گیر معاشی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو بے یقینی کے علاوہ کام ختم ہوجانے کے بعد ملک سے نکلنے اور متعلقہ کمپنیوں یا اداروں سے اپنے واجبات وصول کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ان لوگوں میں ہزاروں پاکستانی مزدور اور کارکن بھی شامل ہیں۔ تارکین وطن کی خدمات کا اعتراف کرنے والی حکومت سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سعودی شاہی مہمان سے جب اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی بات کررہی ہوگی تو وہ اپنے ان غریب ہم وطنو ں کو بھی یاد رکھے گی جو سال ہا سال سے بیرون ملک سخت گیر حالات میں کام کرکے اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ پاکستان روانہ کرتے ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں




