سسی، سوہنی اور ہیر کا ویلنٹائن


آج ویلنٹائن کا خوبصورت دن ہے، دنیا بھر میں محبوب آج تحفوں کا باہم تبادلہ کریں گے۔ ہمارے پاکستان میں حیا کی احیا کے لئے حیا ڈے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ تعلیمی اداروں میں سسٹر ڈے منایا جائے گا۔ فیس بک پر مغربی تہوار کے خلاف اسلامی فتوے جاری کیے جا رہے ہیں۔ ویلنٹائن واقعتاً اک مغربی تہوار ہے اس کا ہماری تاریخ سے کوئی تعلق نہیں، شیریں فرہاد، سسی پنوں، سوہنی ماہیوال، ہیر رانجھا یہ سب یورپ، امریکا اور افریقہ کے رہنے والے تھے۔ ٹرکوں اور رکشوں پر رومانوی اشعار ہمارے ہاں نہیں بلکہ آسٹریلیا، اور روس میں لکھے ہوتے ہیں۔

ہم محبت کے اظہار میں گونگے اور نفرت کے اظہار میں منہ پھٹ لوگ ہیں۔ ہمارے ہاں پھول صرف قبروں، درباروں اور جنازوں لئے مختص ہیں۔ ہم محبت کی شادی کرنے والوں کو زمین میں گاڑ کر غیرت زندہ باد کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں۔ ہمیں صحن میں تار پر بیٹھا چڑیوں کا جوڑا بھی فحاشی کا ارتکاب کرتا نظر آتا ہے۔ ہمارے چوراہوں اور چوکوں پر ٹینک، توپیں محتصر یہ کہ تباہی اور نفرت کے نشان نصب ہیں۔

ہمیں محبت سے ڈر لگتا ہے، ہمیں محبت سے نفرت ہے۔ ہم سارا سال صحت کا، موسم کا، بچوں اور بوڑھوں کا عالمی دن مناتے ہیں۔ مگر ہمیں ان دنوں کی تاریح سے نہ تو کوئی دلچسپی ہوتی نہ ہی کوئی اعتراض! مگر ویلنٹائن ڈے کے مقابل ہمیں حیا ڈے منانا پڑتا ہے۔

گورے نے محبت کو اک دن تک محدود کر کے بڑا ظلم کیا ہے۔ یہ جذبہ محدود کیا ہی نہیں جا سکتا، مگر گورے کا کہنا ہے ویلنٹائن ڈے رکھ کر محبت کو محدود نہیں اس کے لئے وقت کو خاص کیا گیا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے خدا کو ہر لمحہ ہر گھڑی یاد رکھنا مومن لئے لازم ہے اسے کسی صورت بھولا نہیں جا سکتا مگر ہم نماز کی صورت اپنی مصروفیت کو نذر انداز کر کے اس کی یاد کو خاص کرتے ہیں۔

اس سماج کو محبت (لڑکا/لڑکی) کی ضرورت ہی نہیں، یہاں اس کی وکالت کرنا پاگل پن ہے۔ ہمارے ہاں رشتے کرتے وقت دولت، مکان اور خاندان دیکھے جاتے ہیں۔ محبت ان معاشروں کی ضرورت ہے جہاں آزادی اور مرضی کا پیمانہ موجود ہے، وہاں جوڑوں میں پہلے محبت ہوتی ہے، بعد میں جنسی تعلق بنتا ہے۔ ہمارا معاشرہ نسبتاً پاکیزہ ہے۔ یہاں جنسی تعلق پہلے بنتا ہے محبت بعد میں ہوتی ہے۔

یہ ان معاشروں کی ضرورت ہے جہاں لڑکا لڑکی جنہوں نے مستقبل میں جوڑا بننا ہوتا ہے خود اک دوسرے کا انتحاب کرتے ہیں، ملتے ملاتے ہیں، اک دوسرے کو سمجھتے ہیں، محبت کرتے ہیں اور پھر کہیں جا کر اک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نہ کہ ان معاشروں کی جہاں فیصلے قریب المرگ بزرگ، اور چاچا بابا کرتے ہیں۔ جہاں دلہن دولہا اک دوسرے کو شادی کی رات ہی دیکھ کر منہ دکھائی دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS