اصلی بیچاری تو نگہت تھی
پوری زندگی پریشانیوں اور بیماریوں سے لڑتے گزر گئی ایسا لگتا تھا زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں لیکن اب میں اپنی اولاد کے لیے جیوں گا بہت شکریہ شگفتہ بہت شکریہ۔ تم نے جینے کا مقصد دے دیا۔ یہ خبر سننے کو تو میرے کان ہی ترس گئے تھے شگفتہ میں آج بہت خوش ہوں۔ لوگ سچ کہتے ہیں ”اے اللہ تیرے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں“
جمیل میری ایک خواہش ہے شادی کے اتنے سال بعد اللہ نے ہمیں اولاد جیسی نعمت دینے کا فیصلہ اگر کر ہی لیا ہے اگر ہماری قسمت جاگ ہی گئی ہے تو میں یہ اولاد اپنی پھوپھی کے گھر پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے میں وہاں رہوں۔ مجھے ڈر لگتا ہے جمیل بہت سارے زنانہ مسائل ہوتے ہیں آئے دن چیک اپ کے لیے ہسپتال جانا پڑتا ہے یہاں میرا خیال کوئی نہیں رکھ پائے گا ویسے بھی تمھاری بھابیاں مجھے پسند نہیں کرتیں جب ڈاکٹر ڈلیوری کی تاریخ بتا دیتا ہے تو ایک حاملہ عورت کے ساتھ تیمار داری کو ایک عورت ہی ہونی چاہیے میں چاہتی ہوں جب ہمارا بچہ پیدا ہو تو میری پھوپھی پاس ہو میں کسی قسم کا کوئی بھی رسک نہیں لینا چاہتی میں اس قیمتی پھول کو تمھاری امیدوں کے گلشن میں پروان چڑھاؤں گی بس تھوڑا سا میرا ساتھ دو جمیل اور میں جو کہوں میری بات بس مان لینا اسی میں ہماری اور ہمارے آنے والے بچے کی بہتری ہے۔
جمیل آپ اپنا خیال رکھیں اور مجھے اجازت دیں کہ میں جاؤں اور ہمارا بچہ لے کر جلد گھر واپس آجاؤں۔ جمیل کے پاس ہاں کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اپنے باپ بننے کی خبر سن کر جمیل اتنا خوش تھا کہ کچھ بھی کر گزرتا۔ جمیل نے شگفتہ کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا شگفتہ خود کو تنہا ء مت سمجھنا بے شک میں بیمار ہوں مگر تمھارے لیے اپنی اولاد کے لیے میں ان بیماریوں سے بھی لڑوں گا اور ایک خاوند ایک باپ ہونے کی تمام ذمہ داریاں بھی نبھاؤں گا اللہ تمھیں بھی ہمت دے اور ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے آمین۔ اگر ضرورت پڑے تو میں بھی وہاں رہ لوں گا۔ شگفتہ نے کہا نہیں نہیں آپ وہاں مرغیوں کے ڈربے جتنے گھر میں کیسے رہیں گے۔ بس کچھ دن کی ہی تو بات ہے۔ میں ڈلیوری کے فوراً بعد ہمارے بچے کو لے کر واپس آجاؤں گی۔
جیسے ہی ڈاکٹر نے شگفتہ کی پھوپھی کو بچے کی ڈلیوری کی تاریخ بتائی شگفتہ کے پھوپھا نے ہسپتال میں دو کمرے لے لیے اور شگفتہ بھی ہسپتال میں داخل ہوگئی۔ ایک ہی دن شگفتہ کا رسولی کا آپریشن ہوا اور شگفتہ کی پھوپھی کے گھر پیاری سی مگر نصیبوں جلی بیٹی نے جنم لیا۔ شگفتہ کی پھوپھی بے ہوش تھی جب اس کے پھوپھا نے اپنی بیٹی اٹھا کر شگفتہ کے ساتھ لیٹا دی۔
ڈاکٹر نے جمیل کو جواب دے دیا تھا آٹھ سال کی نگہت اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ہسپتال کے بیڈ کے سرہانے بیٹھی اپنے ابو کا سر دبا رہی تھی اور جمیل انتہائی مایوس نظروں سے معصوم سی نگہت کے منہ کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے کوئی مسافر آنکھوں میں منزل کے خواب سجائے ڈھلتی شام کے سورج کو الوداع کہہ رہا ہو۔ اچانگ ڈاکٹر نے آکر شگفتہ سے کہا کہ آپ اپنے مریض کو گھر لے جائیں تاکہ اپنے زندگی کے باقی دن یہ اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکے۔ ہسپتال سے واپس آکر جمیل نے اپنی تمام جائیداد نگہت کے نام کروادی اور چند ہی دنوں میں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ نگہت جمیل کی میت سے لپٹ لپٹ کر زاروقطار رو رہی تھی نگہت تو سچ مچ خود کو آج یتیم سمجھ رہی تھی۔ شگفتہ اور اس کے پھوپھا اپنے مقصد میں کامیاب ہونے جارہے تھے۔
اب کبھی کبھی شگفتہ کا پھوپھا نگہت سے ملنے آتا بڑا پیار جتاتا لیکن نگہت کبھی بھی اسے ان نظروں سے نہ دیکھتی جن کی امید شگفتہ اور اس کے پھوپھا کو تھی۔ ایک دو بار شگفتہ کا پھوپھا نگہت کو اپنے گھر لے گیا تاکہ دوسرے بہن بھائیوں کے ساتھ گھل مل سکے مگر نگہت نے ایک رات بھی اس گھر میں رہنا پسند نہ کیا وہ ہر وقت اپنے ابا جمیل کو یاد کرتی رہتی روتی رہتی۔
سب سے بڑئی بات جس ماحول میں نگہت نے آنکھیں کھولی تھیں اس کے لیے شگفتہ کے پھوپھا کے گھر کے ماحول کو تسلیم کرنا اس تعفن ذدہ ماحول میں ڈھلنا انتہائی مشکل تھا نگہت کو گندا رہنے والے بچوں سے کوفت ہوتی تھی اسے اس گھر سے بدبو آتی تھی اسے اپنی اصلی ماں کے ہاتھوں کے دھلے برتن پسند نہیں تھے۔ نگہت غریب میلے کچیلے بچوں کو کبھی بھی اپنا تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی۔ جمیل کے بہن بھائیوں سے شگفتہ نے نگہت کو کبھی ملنے نہ دیا اور شگفتہ کے رشتے داروں کو نگہت نے کبھی قبول نہ کیا۔
وقت کا بے لگام گھوڑا اپنی رفتار سے بھاگتا رہا اور نگہت تقریباً بارہ سال کی ہوگی جب ایک دن نگہت سکول گئی ہوئی تھی شگفتہ کو ہارٹ اٹیک ہوا شگفتہ دوسری ہچکی بھی نہ لے سکی اور خالق حقیقی سے جاملی۔ اب نگہت اپنے حقیقی ماں باپ کے زندہ ہونے کے باوجود یتیم ہوگئی حقیقی بہن بھائیوں کے ہونے کے باوجود نگہت لاوارث ہوگئی تھی۔ نگہت کے سب رشتے سلامت تھے مگر نگہت تو جمیل کی بیٹی تھی جو مر چکا تھا شگفتہ کی بیٹی تھی جو مر چکی تھی۔ نگہت کے ایک ماں باپ لالچ کی موت اور دوسرے ماں باپ حقیقی موت مر چکے تھے۔ نگہت بیچاری اب اصلی بیچاری تھی۔

