سندھ میں تعلیمی انقلاب کی شروعات
کچھ سال قبل کی الف اعلان اعلان کی رپورٹ کا مطالعہ کررہا تھا، جہاں تعلیمی انڈیکس میں صوبہ سندھ کو آخر میں رکھا گیا تھا، فاٹا، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ سے بھی نیچے دیکھ کر کچھ حیرانی ہوئی، حالانکہ فاٹا میں جنگ کی صورتحال ہے، اسی طرح بلوچستان میں بھی امن و امان کی صورتحال کچھ بہتر نہیں، لیکن ان سب کے باوجود انڈیکس میں سندھ میں تعلیم کی صورتحال کو سب سے نیچے دکھایا گیا ہے۔
صوبہ سندھ میں سابق دور میں صحت کے شعبے میں بہت نمایاں کام ہوا تھا، جس کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں، بچوں اور دل کے امراض کے لئے بہت سارے مراکز بن چکے، این آئی سی وی ڈی کراچی کو ایشیا کا سب سے بڑا سینٹر قرار دیا جارہا، کورنگی، شہید بینظیر آباد (نوابشاھ) میں پاکستان کے سب سے بڑے چائلڈ سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جاچکا، ایشیا کا سب سے بڑا ٹراما سنٹر کراچی میں فنکشنل ہے۔
اب لگ رہا صوبہ سندھ نے ترقی کا رخ تعلیم کی طرف کردیا ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم و کلچر سندھ سید سردار علی شاہ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں جس طرح اور جس انداز میں اپنے محکمہ کے بارے عوام کو آگاہی دی ہے، اگر آپ خرابیوں، کوتاہیوں کو سامنے نہیں لائیں گے، ان پر بحث نہیں کریں گے تب تک آپ اُنہیں درست نہیں کرسکتے، وزیر تعلیم نے کہا کہ اس ملک میں صوبائی یا فیڈرل قوانین موجود ہیں کہیں پر بھی اسکول کی تشریح نہیں کی گئی ہے، جس طرح وفاق ایک فیڈریشن ہے، وفاق میں وزیراعظم ہے اور اس کی کابینہ ہے، اسی طرح صوبہ ہے وہاں چیف ایگزیکٹو وزیراعلیٰ ہے اور وزیراعلی کی کابینہ ہے، لیکن اسکول کی تشریح کہیں بھی نہیں، کیونکہ ہمارا فوکس سکول نہیں رہا، میرے حساب سے سکول کا مطلب کم از چھ کمرے، کیسے ممکن ہے کہ اسکول میں نرسری کا بچہ پانچویں کے بچے کے لئے بنائی گئی بینچ پر بیٹھے؟
کیسے ممکن ہے کہ ایک کمرے میں ایک استاد پانچ کلاسز کو پڑھا سکے؟ اس طرح 39000 پرائمری سکول تو موجود ہیں لیکن صرف 3000 سیکنڈری سکول ہوں؟ پرائمری اور سیکنڈری سکولز میں اتنا فرق سے صاف ظاہر ہے کہ ہم پانچویں تک لازمی تعلیم چاہتے ہیں لیکن سیکنڈری ہمارا فوکس ہی نہیں، وزیر تعلیم نے کہا کہ جب میں نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کو دیکھا تو مجھے لگا کہ محکمہ تعلیم میں سب سے لاپتہ عنصر بچہ ہے، بچہ ہماری ڈسکشن کا حصہ ہی نہیں، ہم نے سب کو باہر نکالنا ہے، اور ہم نے سب سے پہلے بچہ کو داخل کرنا ہے، اس کے لئے اگر مجھے نکلنا ہوا تو نکل جاؤں گا، ہمارا فوکس بچہ ہوگا تب ہے ہم تعلیم پر توجہ دے سکیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ ایک کلاس کے لئے الگ کمرا اور الگ استاد ہو، ہر سکول میں چھوٹا ہی صحیح لیکن سائنس لیب بھی ہونا چاہیے، جہاں بچے تجربات کرسکیں، نرسری کا فرنیچر اور پانچویں کے بچے کا فرنیچر الگ ہونا چاہیے، اساتذہ کی تربیت سب سے اہم معاملہ ہے، اساتذہ کے ٹریننگ سیشن ہونے چاہئیں، اس کے علاوہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔
گاؤں دیہات اور دور دراز علاقوں میں بچیوں کی تعلیم کے لئے ان کی ٹرانسپوٹریشن کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بچیوں کی تعلیم کے حصول میں سب سے اہم مسئلہ دور دراز سکول ہیں، بچیوں کے لئے ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا تجربہ کامیاب رہا ہے، 2010 کے سیلاب نے بہت تباہی مچائی تھی، سابق دور میں یو ایس ایڈ فاؤنڈیشن اور دیگر این جے اوز کے تعاون سے سندھ کے دور دراز علاقوں میں 43 اسکولز موجود ہیں، جن کی نہ صرف اسٹیٹ آف آرٹ بلڈنگز ہیں بلکہ شاندار لیب اور تمام بنیادی سہولیات بھی موجود ہیں، اب ہم کسی پر انحصار کی پالیسی کو ترک کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں، ہم اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ میں ایک ڈائریکٹوریٹ کھول رہے، جس کے لئے کوئی ایڈیشنل بجٹ نہیں لیا جائے گا، اپنے بجٹ میں سے اس ڈائریکٹوریٹ کو بنائیں گے جس کا کام ایسے سکولز کی طرز کے سرکاری سکول بنائے جائیں اور ہم خود ان کی دیکھ بھال کریں، وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ جب تک آپ اپنے اسکولوں کو اونرشپ نہیں دیں گے آپ کی تعلیم بہتر نہیں ہوسکتی، اس کے لئے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے اپنی اکلوتی بیٹی اور بھتیجوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروایا ہے، باقی وزراء اور ممبر صوبائی اسمبلی کو بھی عرض کیا ہے کہ وہ بھی اپنے بچے سرکاری سکولوں میں داخل کریں۔
وزیر تعلیم، موجودہ تعلیمی نظام میں ریفارم چاہتے ہیں، عوام، این جی اوز اور، دیگر شعبوں کے ماہرین کے ساتھ اوپن ڈائیلاگ کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جہاں تجاویز اور ان تجاویز پر کیسے عمل کیا جائے، اس کے علاوہ کسیے سسٹم میں موجود سکولوں کو بہتر بنایا جاسکے، سرکاری سکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے کہ بچہ پرائیویٹ سکول میں داخل نہ ہو، پرائیویٹ سکولوں کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا چاہتے ہیں، سید سردار علی شاہ کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے کہ موجودہ بوسیدہ نظام سے چھٹکارا حاصل ہو، اور تعلیمی نظام میں ریفارم ممکن ہوں، جس کی شروعات ہوچکی ہے، یہ لمبا سفر ہے اور ان کے نتائج جلد آنا شروع ہوجائیں گے۔


