بالاکوٹ کی اصرا خان کی گڑیا


”کیسی ہو اصرا خاں تم ٹھیک ہوجاؤ گی گھبراؤ مت۔ “ میں نے اسے تسلی دی تھی۔
”تسی بالا کوٹ گئے تھے۔ “ اس نے سوال کیا۔
”نہیں میں گیا نہیں ہوں لیکن جاؤں گا کوئی کام ہو تو بتاؤ۔ “
”وہاں تو سبھی مرگئے سب گھر گرگئے کوئی زندہ ہوتا تو کام بتاتی۔ “ اس کی آنکھوں میں آنسو اُتر آئے اور وہ پھر رونے لگی تھی۔

میں نے سوچا کہ اس سے باتیں ہی کرلوں شاید اس طرح سے اسے کچھ سکون ملے۔ جب تک زندگی ہے اس درد کو اسے ہی سہنا ہے ہم لوگ تو صرف اس درد کوبانٹ سکتے ہیں، ایک دوسرے کے درد کو سمجھ سکتے ہیں۔

”اصرا خاں مجھے بتاؤ کہ سب کچھ ہوا کیسے تھا۔ “ میں نے حسنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ وہ اپنے آنسو بھرے چہرے کے ساتھ مجھے دیکھتی رہی، پھر نہ جانے کیسے اس نے بولنا شروع کردیا تھا، کسی مشین کی طرح۔ ”کچھ نہیں جی، میرا گھر والا غلام مصطفی گھر سے نکلنے والا تھا، چھوٹے دونوں بچے سورہے تھے۔ بڑی بچی کے ہاتھ میں میں نے گڑیا دی تھی کہ وہ رونا بند کرے۔ یہ گڑیا میرا ابا لے کرآیا تھا کراچی سے اس کے لیے۔ وہ صبح سے ہی گڑیا کے لیے ضد کررہی تھی جو میں نے الماری کے اوپر رکھ دی تھی۔

گڑیا اسے دے کر میں باہر نکلی تھی کہ مڑے ایسا لگا جیسے زمین میرے پیروں وچ گھوم رہی ہے۔ میں بھاگی کہ اپنے بچوں کے پاس پہنچ جاؤں مگر اوپر سے کچھ مجھ پر گرا تھا پھر میری نظروں کے سامنے سب کچھ دھم دھم کرکے گرتا چلا گیا جو مجھے یاد ہے صرف یہی یاد ہے کہ لوگ چیخ رہے تھے، پکار رہے تھے، آوازیں آرہی تھیں اور پھر مجھے کچھ ہوش نہیں ہے۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے مجھے لٹایا ہوا ہے، میرا گھر سارا گھر زمین کے اندر تھا اور میرے گھر والے سب مرچکے تھے۔ زمین میں دھنس چکے تھے، مٹی کے ڈھیر کے نیچے دیواروں اور چھتوں کے ملبے کے اندر۔ اصرا خاں بی بی بھنگیاں والی کا کچھ نہیں بچا تھا۔ ”

وہ پھر بے قرار ہوکر زور زور سے رونے لگی تھی۔

میں اور حسنہ اسے دیکھتے رہے، تسلی دیتے رہے۔ میں دیر تک بیٹھا اس کی سرگوشیاں سنتا رہا اور دُعا کرتا رہا کہ اصراخاں بی بی بھنگیاں والی جلدازجلد مرجائے۔ اس کے لیے میں صرف یہی دُعا کرسکتا تھا مگر گناہگاروں کی دُعا بھی تو قبول نہیں ہوتی۔

دو دن کے بعد میں بالاکوٹ گیا۔ ایسی تباہی میں نے کبھی بھی نہیں دیکھی، نہ حقیقت میں نہ تصویروں میں اور نہ ہی میں نے سوچا تھا کہ عمارتیں اس طرح سے تباہ ہوسکتی ہیں۔ کاغان روڈ پر دونوں جانب بنے ہوئے ہوٹل مٹی کے تودے کی طرح ڈھیر ہوگئے تھے۔ نہ جانے کن لوگوں نے یہ عمارتیں بنانے کی اجازت دی تھی۔ لگتا تھا جیسے کسی قاعدے اور قانون کے بغیر یہ عمارتیں بنائی گئی تھیں۔ ایک کے اوپر ایک آگے پیچھے نکلی ہوئی۔ زمین کے اوپر، چٹان کے نیچے، نالے کے ساتھ پگڈنڈی کے راہ پر، نہ کوئی نقشہ نہ کوئی پلان، جیسے لوگ سمندر پر ریت کے گھروندے بناتے ہیں۔ مجھے لگا تھا جیسے لوہا اور سیمنٹ کا بھی کوئی مناسب استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ میری نظر میں تھوڑی دیر کے لیے گلستان جوہر، کھارادر، میٹھادر، جونا مارکیٹ کی بلڈنگیں، پرانا کراچی گھوم گیا۔ وہ بھی تو ایسا ہی ہے، کس نے دیکھا ہے کہ کون کیا بنارہا ہے، میں گھبرا سا گیا تھا۔

میں سوچتا ہوا گھومتا ہوا بالا کوٹ بازار سے نکل کر مسجد کے بعد پہاڑی ڈھلان کے ساتھ نیچے اُتر گیا تھا۔ بھنگیاں محلے میں ملبہ اٹھانے کا کام اب شروع ہوا تھا، فوجی اور رضاکار ملبہ صاف کررہے تھے۔ ایک جم غفیر کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا میں بھی آگے بڑھ کر تماش بینوں میں شامل ہوگیا۔

ایک دیوار اُٹھائی گئی تو سامنے تین بچوں کی بوسیدہ لاشیں نظر آئیں، ایک بچی ایک گڑیا اپنے سینے سے لگائے لگائے مرگئی تھی۔ میں سمجھ گیا کہ یہ محلہ بھنگیاں میں اصرا خاں بی بی کا گھر ہے یہ اس کے بچے ہیں۔ لاشیں اٹھالی گئی تھیں۔ نئی نویلی گڑیا قریبی ملبے کے ڈھیر پر پڑی تھی۔ میں نے وہ گڑیا اٹھالی تھی کہ کل پرسوں جا کر اصراخاں بی بی کو دے دوں گا، اس کے بچوں کی آخری یادگار، اس کے باپ کا تحفہ۔ انسان انہی یادوں کے تحت ہی تو زندہ رہتا ہے۔ کسی کی دی ہوئی انگوٹھی کسی کا دیا ہوا کڑا، کنگن، کسی کا بنا ہوا سوئیٹر، کوئی ٹائی، کوئی قلم، کوئی پرانی تصویر۔ میں نے سوچا کہ اصرا خاں اس گڑیا کو گلے سے لگارکھے گی۔ شاید اسے کوئی سکون مل جائے، کچھ آرام، کچھ ذہنی تسکین، کاش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کاش!

چار دن تک میں بہت مصروف رہا، سوچنے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی۔ پانچویں دن صبح مجھے پھر ایبٹ آباد جانا پڑا۔ اسلام آباد سے ٹیٹنس کے انجکشن آگئے تھے، وہاں سے مجھے اپنے کیمپ ہسپتال کے لیے آنا تھا۔ نکلتے وقت میں نے بالا کوٹ سے نکالی ہوئی گڑیا لے لی کہ اصراخاں بی بی کو دے دوں گا۔

ایوب میڈیکل کیمپلیکس پہنچ کر سب سے پہلے میں اصراخاں بی بی کے خیمے کی طرف گیا تو تھم کر رہ گیا تھا۔ ایدھی ایمبولینس کے رضاکار اسٹریچرکے اوپر اصراخاں بی بی کی لاش لے کرجانے والے ہی تھے۔ حسنہ ساتھ ساتھ تھی جس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی رم جھم ہورہی تھی۔

صبح کسی وقت اصراخاں بی بی بالا کوٹ کو یاد کرتے کرتے اپنے زخموں سے بھرے ہوئے جسم کا بوجھ چھوڑ کر خاموشی سے چل بسی تھی۔ اس کی سبز گہری آنکھیں بند تھیں، اس کی چوڑی پیشانی پر اس کے بال جیسے چپک سے گئے تھے، اس کے نحیف مگر خوبصورت چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔

میں نے دھیرے سے گڑیا اس کے ساتھ لٹادی۔ میری دُعا قبول ہوگئی، میں نے دل ہی دل میں اوپر والے کا شکر ادا کیا تھا۔

بے تکان
مجھے بھی جانا ہے ان پتھروں کے نیچے
غم گسار

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2