مذکر،مؤنث کا سیاپا اور پروفیسر صاحب کی تحقیق!
جیّد کالم نگار اور منفرد کہانی نویس جناب مبشر زیدی کا تذکیر و تانیث کے حوالے سے دلچسپ، شگفتہ اور معلوماتی کالم نظر سے گزرا تو ہمارے ذہن میں بھی اس حوالے سے کچھ باتیں انگڑائیاں لینے لگیں۔ مذکر اور مؤنث کا استعمال پشتو بولنے والے احباب کے لیے سب سے زیادہ پر یشانی کا باعث بنتا ہے۔ مگر اردو زبان و ادب کی تاریخ اور مشاہیر کے واقعات و لطائف بتاتے ہیں کہ یہ کافی پرانا قضیہ ہے۔ اردو زبان کے معروف صوفی شاعر میر درد کا ایک مشہور شعر ہمارے نصاب میں شامل ہے۔ شعر یہ ہے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
اس شعر میں درد نے غم جہاں اور غم دوراں کی سختیوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک بارہم اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے بڑی درد مندی اور دل سوزی سے زندگی کے مصائب و آلام کی تصویر کشی کر رہے تھے اور تمام طلبہ سراپا دکھ بن کر سن رہے تھے مگر ایک طالب علم خلاف توقع معنی خیز انداز میں مسکرا رہے تھے۔ ہم نے اس بے محل تبسم کی شان نزول دریافت کی تو شرمانے لجانے لگے۔ ساتھ بیٹھے طالب علم نے یوں عقدہ کشائی کی کہ سر یہ پشتو سپیکنگ ہیں اور پشتو میں ”جینا“ کا مطلب لڑکی ہے۔
یہ سن کر ہم بھی پوری کلاس سمیت قہقہ بار ہو گئے۔ میر درد ہی پر موقوف نہیں ہر عہد پر غالب چچا غالب سے ایک مرتبہ کسی نے استفسار کیا کہ رتھ مذکر باندھیں گے یا مؤنث؟ مرزا کی رگِ ظرافت پھڑکی جو ایسے موقعوں پر اکثر پھڑک جایا کرتی تھی۔ ترنت فرمایا کہ بھئی اگر رتھ میں عورتیں بیٹھی ہوں تو مؤنث اور مرد بیٹھے ہوں تو مذکر ہو گا۔ حقیقی اور غیر حقیقی تذکیر و تانیث کا سیاپا ہی پریشانی کا باعث نہیں بنتا بعض اوقات تو کچھ نام بھی عجیب مخمصے میں ڈال دیتے ہیں۔
اٹک کے اس طرف فردوس جمال کو مذکر اور ا ٹک کے اس طرف فردوس عاشق اعوان کو مؤنث سمجھنے کی روایت کے نتیجے میں پیدا شدہ پریشانی تو خاصی پرانی ہو چکی ہے مگرپچھلے دنوں ہم جیسوں جن کے اعصاب پر عورت ہر وقت سوار رہتی ہے کو سندھ سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے بے حد پریشان کیے رکھا۔ جب تک میڈیا میں ان کے بیانات بغیر تصویر شائع ہوتے رہے ہم بڑے ذوق و شوق سے انہیں سنتے رہے اور تصورات میں کسی پری وش کے سراپے کی تمام تر جزئیات ہمارے دل میں شوق دیدار کی آگ کو بھڑکاتی رہیں مگر کچھ دن بعد جب ان کی تصویر دیکھی تو اپنی سادگی پہ ہنسی اور امیدوں کے خوش نما محل کے زمین بوس ہونے پر رونا آیا۔ پشتو زبان اور اس کے بولنے والوں کا ذکر ہوا تو ایک اور مشہور شعر یاد آیا
نزاکت نا زنینوں کو سکھانے سے نہیں آتی
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
اس شعر میں بھی لفظ نزاکت کی تذکیر و تانیث پنجاب اور کے پی کے والے اپنی لسانی روایت اور معاشرتی ریت کے مطابق مختلف بتاتے ہیں۔ کہیں نزاکت آتا ہے اور کہیں نزاکت آتی ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی کے پی کے کے ایک جوشیلے نمائندے نے تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا ”جب الیکشن ہو گی۔ ووٹ ملے گی۔ عمران خان وزیر اعظم بنے گی۔ نیا پاکستان قائم ہو گی۔ خان آئے گی۔ ڈالرز ملک میں آئے گی۔ نواز شریف اندر جائے گی اور یوں انقلاب آئے گی تو کسی کو این آر او نہیں ملے گی۔ “
یوں تو اردو زبان میں بے شمار الفاظ ایسے ہیں جو مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتے ہیں، کچھ کا ذکر تو زیدی صاحب کر چکے ہیں ان میں کیچڑ، میز، واویلا بھی ایسے الفاظ ہیں جن کے متعلق واویلا مچی یا مچا ہوا ہے لیکن جس لفظ نے سب سے زیادہ سیاپا ڈالے رکھا وہ بلبل ہے۔ ایک صاحب نے مرزا غالب کو پھنسانے کے لیے پوچھا کہ بلبل مذکر ہے یا مؤنث؟ غالب کب کسی سے دبنے والے تھے وہ لاجواب تھے مگر کبھی لاجواب نہیں ہوئے اور پوچھنے والا انہیں لاجواب دیکھنا چاہتا تھا۔
انہوں نے لمحہ بھر کو سوچ کر فرمایا کہ سب کو دانہ ڈالیں، اگر چگے گا تو مذکر اور چگے گی تو مؤنث ہو گی۔ پوچھنے والا اپنا سا منہ لے کے رہ گیا۔ بلبل ہی کے حوالے سے ہمیں ایک دلچسپ واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ایک صاحب نے غلطی سے ایک ایسے پروفیسر سے بلبل کی تذکیر و تانیث کے متعلق پوچھ لیا جو ہر بات کو نہایت تفصیل اور وضاحب سے بتا کر اگلے کی مکمل تسلی کرنے کے عادی تھے۔ پروفیسر صاحب کے ذہن میں فوراً اقبال کی نظم ”ہمدردی“ کا یہ شعر آیا
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
لہٰذا پروفیسر صاحب نے شاعر مشرق کے شعر کو سند مانتے ہوئے بلبل کو مذکر بتا دیا۔ مگر گھر جا کے جب دیوان غالب کھولا تو اس میں ان کی ایک مشہور غزل کا ایک شعر یوں تھا
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
اگلے دن پروفیسر صاحب دوڑے دوڑے ان صاحب کے گھر پہنچے اور غالب کے شعر کا حوالہ دے کر بلبل کی تانیث کے متعلق آگاہ کر کے اپنے تبحر علمی کی دھاک بٹھائی۔ پوچھنے والے نے بصد احترام شکریہ ادا کیا اوریہ بھی عرض کیا کہ ان کی تشفی ہو گئی ہے مگر بال کی کھال اتارنے والے پروفیسر صاحب کی تسلی کب ہونا تھی۔ وہ اس کے بعد بھی ہفتہ بھر تحقیق و جستجو میں مگن رہے۔ ایک اتوار کو وہ صاحب جب صبح ناشتے کی میز پر بیٹھے تو گھنٹی بجی۔
گیٹ پر جا کر کیا دیکھا کہ وہی پروفیسر صاحب کتابوں سے لدے دو عدد گدھوں کے درمیان کھڑے تھے۔ اس سے پہلے کہ میزبان کچھ عرض کرتے، پروفیسر صاحب گویا ہوئے کہ آپ کو غالب کے شعر والی سند کے بارے میں بتانے کے بعد بھی میری تسلی نہیں ہوئی اور میں مسلسل تحقیق میں لگا رہا۔ میرے دائیں طرف والے گدھے پر لدی کتابوں میں بلبل بطور مذکر جب کہ بائیں جانب والے گدھے کی پیٹھ پر رکھی کتابوں میں بلبل بطور مؤنث استعمال ہوا ہے۔ یہ افتاد دیکھ کر وہ صاحب اپنا سر پیٹ کر رہ گئے۔


