ہمارے تعلیمی اداروں میں بڑھتا ہوا اخلاقی زوال


جو تعلیم باقاعدہ طور پر کسی تعلیمی ادارے یعنی سکول، کالج، مدرسہ یا یونیورسٹی میں حاصل کی جائے اسے رسمی تعلیم کہتے ہیں۔ ہر معاشرہ کچھ ایسے تعلیمی ادارے قائم کرتا ہے جہاں تعلیم ایک نصب العین اور نظریات کی روشنی میں تیار کردہ نصاب کے مطابق دی جاتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام چار طرح کے تعلیمی اداروں پر مشتمل ہے جس میں پرائمری، مڈل، ثانوی و اعلی ثانوی اور یونیورسٹی سطح کی تعلیم شامل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں مدرسہ جاتی نظام تعلیم بھی رائج ہے۔ پہلی سے پانچویں تک کی تعلیم کو پرائمری، پانچویں سے آٹھویں تک کو مڈل، نویں اور دسویں جماعت کی تعلیم کو ثانوی، گیارہویں اور بارہویں کو اعلیٰ ثانوی جبکہ اس سے اعلی سطح کی تعلیم کو یونیورسٹی کی تعلیم کہا جاتا ہے۔ مدرسوں میں اسلامی نظام تعلیم رائج ہے جس میں بچوں کو دینی تعلیم دی جاتی ہے۔

اخلاقی تربیت سے مراد معاشرے میں اعلی اقدار کے فروغ کے لئے رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کی فراہمی ہے۔ اخلاقی تربیت کسی بھی نظام تعلیم کا سب سے اہم جزو ہوتی ہے۔ بغیر اخلاقی تربیت کے دی جانے والی رسمی تعلیم سوائے کاغذ کی چند ڈگریوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے بغیر تعلیمی ادارے تعلیم یافتہ لوگ تو پیدا کرسکتے ہیں مگر وہ اخلاقیات سے عاری ہوتے ہیں جب کہ تعلیم کا بنیادی مقصد ہی اچھے اخلاق اور معاشرے کے لئے اعلی اخلاق کے حامل لوگ پیدا کرنا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے

تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ

تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی

ہمارے تعلیمی اداروں میں رائج نظام تعلیم بہت سی خامیوں کا حامل ہے جس میں سے ایک اخلاقی تربیت کا نہ ہونا بھی ہے۔ آج ہمارے تعلیمی ادارے لاکھوں کی تعداد میں گریجویٹس تو پیدا کر رہے ہیں مگر یہ فارغ التحصیل طلبا وطالبات اخلاقیات سے نابلد ہیں۔ اخلاقی اقدار کی پامالی کا یہ عالم ہے کہ اساتذہ کی تعظیم میں دن بدن کمی آتی جا رہی ہے۔ اساتذہ کے سامنے بدتمیزی سے پیش آنا معمول بن چکا ہے۔ مغرب کی بے جا تقلید نے ہماری اخلاقی اقدار کا خاتمہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کی طرف علامہ اقبال ایک صدی پہلے اشارہ کر گئے تھے

تھے وہ بھی دن کہ خدمت استاد کے عوض

دل چاہتا تھا کہ ہدیہ دل پیش کیجیے

بدلہ زمانہ ایسا کہ لڑکا پس از سبق

کہتا ہے ماسٹر سے کہ بل پیش کیجئے

بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ نظام تعلیم اور ہمارے تعلیمی ادارے معاشرے میں بے راہ روی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں مشرقی روایات کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے اور روشن خیالی کے نام پر نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ہم اپنی اقدار کو بھول کر فحاشی کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ مردوزن کا بے جا اور بے انتہا اختلاط بہت سے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں جبکہ ہماری تہذیب ہم سے کچھ اور ہی تقاضا کرتی ہے علامہ اقبال نے کہا تھا

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

اس وقت پوری دنیا میں متوسط تعلیم کی شرح 3۔ 86 فیصد ہے جو کہ بے شک قابل اطمینان ہے۔ تعلیم یافتہ افراد کے زمرے میں کون لوگ آتے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق

”جس شخص کے اندر سمجھنے، سوچنے، تخلیق کرنے، پہچاننے، تشریح کرنے، ترسیل کرنے، حساب کرنے، مطبوعہ اور لکھی ہوئی تحریروں کو پڑھنے کی لیاقت ہو وہ شخص تعلیم یافتہ ہے۔ “

اس تعریف کو مدنظر رکھ کر اگر جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ ہمارے تعلیمی ادارے قابل اطمینان کارکردگی دکھا رہے ہیں مگر ایک چیز جو اس تعریف میں شامل ہونے سے رہ گئی ہے وہ تربیت ہے۔ ہماری دانشگاہیں اور تعلیمی ادارے تعلیم دے رہے ہیں، لکھنے پڑھنے اور روزگار کے اہل بنا رہے ہیں مگر یہ تعلیمی ادارے اخلاقی تربیت فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ سے فارغ التحصیل طلبا کا واحد مطمح نظر لالچ اور مال و دولت کا حصول ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا

”والدین کی طرف سے اولاد کے لئے بہترین تحفہ ان کی اچھی تربیت ہے“

یہ تو عصری تعلیم فراہم کرنے والے تعلیمی اداروں کا حال ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دنوں دینی مدارس سے بھی تربیت کا عنصر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دینی مدارس میں بھی اب تربیت نہیں ہوتی اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بعض مدارس تجارتی نہج کو اپنا رہے ہیں۔ دوسری وجہ درسگاہوں اور کلاس رومز میں بے انتہا ازدحام ہے۔ ایک دور تھا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار بھی طلبا کے اندر پیوست کی جاتی تھی۔ ہر طالب علم حدیث، تفسیر، فقہ، صرف اور نحو کا عالم اگرچہ نہیں بنتا تھا مگر اخلاقیات کا اعلی نمونہ ضرور ہوتا تھا۔ مدارس تعلیم کے لئے اور خانقاہ ذاتی تربیت اور اصلاح کے لئے جانے جاتے تھے۔ مگر اب یہ دونوں ادارے بری طرح زوال پذیر ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام تعلیم اور اس میں پڑھائے جانے والے نصاب کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ دن بدن بگڑتی صورتحال ہم سے تقاضا کر رہی ہے کہ ہم اخلاقی تربیت کی طرف دھیان دیں۔ طلباء میں اخلاقی اقدار کے فروغ کے لئے خاطر خواہ انتظامات کیے جائیں۔ اخلاقی اقدار کے متعلق احادیث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات نصاب میں شامل کیے جائیں۔ نظام تعلیم کو اس طرح سے منظم کیا جائے کہ فارغ التحصیل طلباء معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ کا باعث بنیں۔ اساتذہ کی تعظیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کو سامنے رکھا جائے

”جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا وہ میرا آقا ہے اور میں اس کا غلام ہوں“

اخلاقی انحطاط کا شکار معاشرہ ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ ہم اپنے رسمی نظام تعلیم کو ازسرنو مرتب کریں اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی اخلاقی تربیت کا بھرپور انتظام کریں تاکہ معاشرے کو تباہی و بربادی سے بچایا جا سکے۔ اس سلسلے میں معاشرے کے تمام افراد جن میں اساتذہ، والدین، میڈیا، ارباب مسند اقتدار، طلبا سمیت سب کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ تمام طبقات اگر اپنا کردار ادا کریں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب معاشرہ ایک فلاحی ریاست کا روپ دھار لے گا۔

Facebook Comments HS