اہل حق ہوں تو بہتر بھی غضب ہوتے ہیں

عراق کے وسط میں واقع کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں دوپہر کا وقت ہے۔ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام اپنے بہتر جانثاروں کے ساتھ قہر برساتی دھوپ میں اپنے خیمے میں موجود ہیں، بچے بڑے چار دن سے پیاسے ہیں، اسی اثناء میں ایک فرشتہ آپ کی خدمت میں پیش ہوتا ہے اور…

Read more

اپنے گریبان میں جھانکیے

15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے دوران ایک دہشت گرد نے انتہائی خطرناک اسلحے سے ایک مسجد پر دھاوا بولا اور بیسیوں نہتے اور معصوم مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ قاتل کو فوری گرفتار کرلیا گیا۔ اس معاملے پر پوری دنیا میں مسلمانوں…

Read more

یہ لوگ اپنے معلم کو مار کر خوش ہیں

خبر ہے کہ بہاولپور کے صادق ایجرٹن کالج میں خطیب نامی طالبعلم نے اپنے استاد اور کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد حمید (گولڈ میڈلسٹ) کو چھریوں کے وار سے قتل کردیا۔ ماجرا یوں ہے کہ کالج میں ویلکم پارٹی کے سلسلے میں تیاریاں جاری تھیں اور مذکورہ استاد اس کی نگرانی کر رہے…

Read more

خدا کی شاعری ہوتی ہے عورت

خواتین کے عالمی دن پر اس سال کراچی میں عورت مارچ کے نام سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں خواتین نے کچھ نعروں پہ مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ ان پلے کارڈز پر جو نعرے درج تھے وہ تاحال موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں اور مذہبی طبقوں کی جانب سے اس معاملے پر لبرلز اور فیمینزم کے حامیوں کی خاصی لے دے ہوئی ہے۔ ان پر ہماری نظریاتی شناخت کی پامالی کا الزام لگایا جا رہا ہے اور عورت مارچ کو ایک ڈھونگ اور واہیات جلسے کا نام دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس مارچ میں جو خواتین شامل تھیں ان کی اکثریت ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن کے محل نما گھروں میں رہتی ہے اور زندگی کی ہر وہ آسائش انہیں میسر ہے جس کا کوئی عام عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔ پلے کارڈز پہ جو نعرے درج تھے ان میں ”مجھے ٹائر بدلنا آتا ہے“، ”عورت بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں ہے“، ”دوپٹہ اتنا ہی پسند ہے تو خود لے لو“ جیسے نعرے بھی درج تھے۔ یہ مارچ اسی تحریک کا تسلسل ہے جو ”میرا جسم میری مرضی“ سے شروع ہوئی تھی۔

Read more

ففتھ جنریشن وار

وہ دن گئے کہ جب جنگیں میدانِ جنگ میں روایتی ہتھیاروں سے لڑی جاتی تھیں. تین عظیم جنگوں میں 10 کروڑ انسانوں کو لقمہ اجل بنانے کے بعد بھی دنیا پر حکمرانی کی خواہش مند طاقتیں اپنے مقاصد میں جب کامیاب نہ ہو سکیں تو ان کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھے اور کوئی ایسی ترکیب ڈھونڈنے لگے کہ ان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے. انہیں میں سے کسی نے ففتھ جنریشن وار فیئر کا تصور دیا. یہ غیر روایتی طرزِ جنگ کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بغیر ہتھیار اٹھائے لاکھوں میل دور بیٹھی کسی قوم کو اپنا تابع بنایا جاسکتا ہے اور بجا طور پر اب تک ایجاد کردہ جنگ کے تمام تر طریقوں میں یہ سب سے مہلک ہے. اس جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے جس کی مدد سے کسی قوم کو ذہنی طور پر اپنے من پسند نظریات اور خیالات ماننے پر مجبور کردیا جاتا ہے.ایک پاکستانی محقق کے بقول”اس قسم کے طرزِ جنگ میں میڈیا ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم سے بھی زیادہ افادیت و اہمیت رکھتا ہے۔جسے جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے دراصل وہی دشمن کا اہم ترین ہتھیار بن جاتا ہے”

Read more

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے

برصغیر کی تقسیم کو ستر سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا مگر پاکستان اور بھارت آج بھی نفرت کی دلدل سے نکل نہیں پائے۔ جب بھی حالات صحیح ڈگر پر چلنے لگتے ہیں تو پھر کوئی فسادی اٹھتا ہے اور امن کی ساری کوششوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ جوابی ردعمل کے طور پر…

Read more

لوگ کیا کہیں گے؟

کہتے ہیں ایک گاؤں میں باپ بیٹا رہتے تھے۔ ان کے پاس ایک گدھا تھا۔ ایک دن وہ گاؤں سے باہر جارہے تھے۔ بیٹا گدھے پر سوار تھا جبکہ باپ ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ ایک راہگیر نے انہیں روکا اور بیٹے سے کہنے لگا ”تم پاگل ہو؟ تمہارا باپ پیدل چل رہا ہے اور…

Read more

ہمارے تعلیمی اداروں میں بڑھتا ہوا اخلاقی زوال

جو تعلیم باقاعدہ طور پر کسی تعلیمی ادارے یعنی سکول، کالج، مدرسہ یا یونیورسٹی میں حاصل کی جائے اسے رسمی تعلیم کہتے ہیں۔ ہر معاشرہ کچھ ایسے تعلیمی ادارے قائم کرتا ہے جہاں تعلیم ایک نصب العین اور نظریات کی روشنی میں تیار کردہ نصاب کے مطابق دی جاتی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام چار…

Read more

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا

بیسویں صدی کے اواخر میں جنم لینے والی نوجوان نسل وہ نسل ہے جس نے معاشرے کی اقدار، روایات اور بطور مجموعی تہذیب کو بدلتے دیکھا ہے۔ اس نسل نے ٹیکنالوجی اور جدت کو اپنی آنکھوں سے انسان کی معاشرتی زندگی کا ستیاناس کرتے دیکھا ہے۔ اسی نسل سے تعلق ہونے کے ناطے میں بھی…

Read more

ہمارے ملک میں عدم برداشت کیوں بڑھ رہی ہے؟

معاشرہ کئی اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان اکائیوں کے باہم مربوط اور منظم رہنے سے ہی معاشرے کی بقا اور فروغ ممکن ہے۔ ان اکائیوں میں سب سے اہم اکائی اتحاد ہے اور اتحاد کے لیے سب سے اہم ضرورت ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کرنا ہے۔ یہ برداشت ہی قوموں کو مہذب…

Read more