کب تک نہیں گھبرانا؟


پرانے وقتوں کی بات ہے کہ پنجاب کے کسی دور دراز گاؤں میں ایک ”تقریباً حکیم صاحب“ رہا کرتے تھے جو اپنے ہر آنے والے مریض سے کہا کرتے ”گبھرا نئیں، ایس بیماری نال بندے نوں کجھ نئیں ہوندا“ (گھبراؤ نہیں، اس بیماری سے بندے کو کچھ نہیں ہوتا) یعنی اگر کوئی آدمی بخار سے تپ رہا ہوتا، حکیم صاحب پہنچتے ہی کہتے ”گھبرا نئیں بخار نال بندے نوں کجھ نئیں ہوندا“۔

کوئی کھانس کھانس کر دہرا ہوجائے، حکیم صاحب کے مطابق آدمی کو کھانسی سے بھلا کیا ہونا تھا۔

ایک روز نوجوانوں کا کسی بات پر جھگڑا ہوا اور گولی چل گئی، گاؤں میں ہسپتال تو تھا نہیں سو لوگ زخمی کو اٹھا کر حکیم صاحب کے مطب پر لے آئے جنہوں نے زندگی بھر کبھی کسی کا ایمرجنسی علاج نہیں کیا تھا۔ زخمی کو خون میں لت پت دیکھا تو حکیم صاحب خود گھبرا گئے لیکن اس بے چینی میں بھی وہ مریض کو یہ کہنا نہ بھولے۔

” جوان گھبرا نئیں، گولی نال بندے نوں کجھ نئیں ہوندا“ (جوان گھبراؤ مت، گولی سے بندے کو کچھ نہیں ہوتا)

یہ قصہ یہاں لکھنے کا مقصد یہ سوال پوچھنا تھا کہ ہم نے آخر کب تک نہیں گھبرانا؟

وزیراعظم صاحب نے پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ میرے پاکستانیو گھبرانا نہیں ہے لیکن ہر ماہ گیس اور بجلی کا بِل دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی، بے انتہا گھبراہٹ سی ہونے لگ گئی ہے۔ اچھی بھلی آنکھ لگی تھی کہ آدھی رات کو گھبرا کر اٹھ بیٹھا ہوں اور یہ کالم لکھنے لگ گیا ہوں۔ دیکھیں میں گھبرانا نہیں چاہتا پھر بھی گیس اور بجلی کے بڑھتے بِلز میری نیندیں اڑا دیتے ہیں اور اخبارات میں دیے گئے ان حکومتی اشتہارات کی مجھے ذرا سمجھ نہیں آتی جن میں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ آپ کتنے چولہے جلائیں گے تو آپ کا کتنا بِل آئے گا۔ اشتہار سمجھ نہ آنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ میرے پاس موجود ایک چولہا جو کبھی کبھار جب گیس ہوتی ہے تو جل بھی اٹھتا ہے وہ اس اشتہار کے مطابق اگر چھ گھنٹے روزانہ جلے تو بِل پھر بھی وہ نہیں آتا جو اشتہار میں درج ہے۔

چھ گھنٹے گیس بھی نہیں آتی اور بِل گیزر سمیت والا آجائے تب بھی عوام نے گھبرانا نہیں ہے یا پھر تھوڑا بہت گھبرانے کی گنجائش ہے۔ ؟

ڈالر کی قیمت بھی روز بہ روز اوپر کو جارہی ہے، ضروریات زندگی مہنگی ہوتی جارہی ہیں، پٹرول بھی کچھ پیسے سستا ہوا ہے لیکن یہ ظالم ٹرانسپورٹرز پھر بھی پرانے نرخ پر کرائے وصول کر رہے ہیں، ایسے میں عوام کے پاس کل ملا کر گھبرانا ہی باقی بچا تھا جس کا حق پہلے ہی سے لے لیا گیا ہے۔

پہلے تو جب گھبراہٹ ہوتی تھی تو یہ خبر سن کر حوصلہ ملتا تھا کہ ”کوئی“ دھرنا دینے آرہا ہے۔ یہ ظلم و ستم زیادہ دن نہیں چل سکتا۔ اگرچہ کہ دھرنوں سے سکولوں کے بچوں کی اضافی چھٹیوں کے علاوہ کسی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا لیکن کوئی ہا ہو تو لگی تھی۔ اب اس طرف سے بھی خاموشی ہے اور سوائے گھبرانے کے کوئی چارہ بھی نہیں۔

۔

Facebook Comments HS