ٹوٹی ہوئی سڑک

وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک چھوٹی سی سڑک تھی، جس کے ارد گرد درخت ہی درخت تھے درختو ں کے پیچھے سکول کی عمارت تھی، اُس سڑک پر آپ اگر چلتے جائیں تو آگے ہسپتال آ جائے گاجہاں ایک ڈاکٹرصاحب بیٹھتے تھے، جو سب کو ایک ہی طرح کی کڑوی ادویات دیتے تھے…

Read more

کھوئی ہوئی یادداشت اور جوتوں کے تلوے

خط کے لفافے پر ٹکٹ لگاتے لگاتے اُس کی یادداشت ختم ہوگئی اور اُسے سب کچھ بھول گیا حتٰی کہ یہ بھی کہ لفافے پر لگائے اِن دو ٹکٹوں کا کیا مطلب ہے۔ جیسے بلب جل رہا ہو، روشنی ہو اور یکایک اندھیرا چھا جائے۔ اُس نے لفافے کودیکھاپھر اپنے ہاتھوں کواُسے سمجھ نہ آئی…

Read more

کنویں کے اندر کا آدمی

” کتنے زور سے چیخوں تو آواز کنویں سے باہر سُنائی دے گی؟ “ سال پہلے، ہاں غالباً یہ سال پہلے کی بات ہے۔ پڑھنے والے اِس میں دوچار مہینے کم یا زیادہ بھی کرسکتے ہیں کہ کنویں میں کیلنڈر دستیاب نہیں حتٰی کہ یہاں گھڑی بھی موجود نہیں اور سچ پوچھیے تو کنویں میں…

Read more

سوال یہ ہے

قصہ یہ ہے کہ یہاں ہر روز کوئی نا کوئی نیا شُغل جاری ہوجاتا ہے، چند روز ہوئے فیس بک پر لوگوں کے ہاتھ نیا کھیل آیا اور وہ تھا Ask me کی ایپ کہ جس میں لوگ خوشی خوشی یہ کہتے ہیں کہ ”پوچھیے ہم سے جو سوال بھی پوچھنا ہے“ یاد رہے کہ ایسے میں سوال پوچھنے والے کا نام مخفی رہتا ہے۔بھئی اپنی قوم کا یہ قومی شُعار ہے کہ ہم مغرب سے درآمد شدہ وہ سہولت ضرور خوشی خوشی اپناتے ہیں کہ جس میں وقت کے ضائع ہونے کی سہولت دستیاب ہو سو اِس ایپ کو بھی توقع کے عین مطابق خاص و عام میں بھرپور پذیرائی نصیب ہوئی، لوگوں نے پردے کے پیچھے ایسے ایسے سوال داغے کہ کچھ نہ پوچھیے۔

Read more

کب تک نہیں گھبرانا؟

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ پنجاب کے کسی دور دراز گاؤں میں ایک ”تقریباً حکیم صاحب“ رہا کرتے تھے جو اپنے ہر آنے والے مریض سے کہا کرتے ”گبھرا نئیں، ایس بیماری نال بندے نوں کجھ نئیں ہوندا“ یعنی اگر کوئی آدمی بخار سے تپ رہا ہوتا، حکیم صاحب پہنچتے ہی کہتے ”گھبرا نئیں بخار نال بندے نوں کجھ نئیں ہوندا“۔

کوئی کھانس کھانس کر دہرا ہوجائے، حکیم صاحب کے مطابق آدمی کو کھانسی سے بھلا کیا ہونا تھا۔

Read more

منٹو صاحب! اب سب اچھا ہے

اب وہ دن نہیں رہے کہ اِدھر افسانہ لکھا اور اُدھر عدالتوں میں مقدمہ چل نکلا، کیسا اندھیر تھا اُس زمانے میں کہ افسانہ نگار پر پچیس روپے جرمانہ بھی ہوجاتا تھا لیکن اب وقت کافی بدل گیا ہے۔ اب افسانوں پر کوئی مقدمہ نہیں چلتا اور جرمانے کی تو نوبت ہی نہیں آتی۔ ہماری…

Read more

آپ خود ایک موٹیویشنل اسپیکر ہیں

 صاحبو، آج کل موٹیویشنل اسپیکرز کی بڑی مانگ ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں نئے نئے خواب دکھا کر متحرک رکھا جائے۔ باہر دنیا میں سپیکرز اس سلسلے میں باقاعدہ تعلیم اور ٹریننگ لے کر میدان میں اترتے ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ ہمارے ہاں آپ کو صرف ایک چیز آنی چاہیے اور وہ ہے ”باتیں بنانا“ اگر آپ باتیں بنانے کا ہنر جانتے ہیں اور آپ کو بہت سے کامیاب لوگوں کے قصے ازبر ہیں تو گھبرائیے نہیں آپ ایک باروزگار موٹیویشنل اسپیکر بن سکتے ہیں۔

کاروبار چل نکلے ( جس کے بہت روشن امکانات ہیں ) تو اپنا ادارہ بنائیے اور نوٹ چھاپیے۔ کرنا یہ ہے کہ قصے یاد رکھنے ہیں اور انہیں ایک ترتیب کے ساتھ سامعین کو سناتے جانا ہے، جتنا شہد ڈالیں گے اتنا میٹھا بڑھے گا۔ اس میں سچ جھوٹ کی بھی کوئی قید نہیں، بس واقعہ ہو اور اس سے کوئی سبق ضرور نکلتا ہو تاکہ لوگ آپ کی باتوں کا یقین کرلیں کہ یہاں سے جانے کے بعد ان کا ہر خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔ یہ بھی کس قدر دکھ ہے کہ ایسے لوگ معصوم لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں، انہیں شارٹ کٹ سے کامیابی کے گر سکھاتے ہیں۔

Read more

دل کے خوش رکھنے کو غالب

اگر آپ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مہنگائی سے پریشان ہیں تو یونہی چند گھڑی دل کو بہلانے کی خاطر تحریک انصاف کے کسی فیس بک پیج پہ نوجوانان مملکت کے کمنٹس پڑھ لیا کیجیے، مہنگائی کی اِن گرم ہواوں میں یہی بادِصبا ہیں گویا۔ جی بہل جائے گا بلکہ کچھ احباب تو ہنسا…

Read more

ہمارے مسائل کیا ہیں اور بحث کا موضوع کیا؟

صاحبو، ایک عُمر گزر جاتی ہے اور آدمی اِس بات سے لاعلم رہتا ہے کہ اُس کو پیش آنے والے مسائل کی اصل وجہ کیا ہے۔ یوں تو کہنے کو بہت آسان ہے کہ یہ تو سب کو معلوم ہوتا ہے لیکن جب آپ ارد گرد غور کریں اور لوگوں کی مباحث کے موضوعات کامطالعہ…

Read more