ذوالفقار علی بھٹو، وزیٹنگ کارڈ اور ایل بی ڈبلیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ اور سیاست دو ایسے موضوعات ہیں جس کا پاکستانیوں کی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ یہ دونوں ہماری قومی زندگی میں کس طرح دخیل ہیں اس کا اندازہ حجام کی دکان، چائے کے ہوٹل سے لے کر رنگ برنگی ٹی وی اسکرینوں اور ہر لحظہ متحرک سوشل میڈیا پر کرکٹ اور سیاست پر نرم و گرم بحث سے لے کر تو تکار اور طوفان بد تمیزی سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس طرح اس ملک میں سیاست اور اس سے جڑے ایشوز سارا سال زیر بحث رہتے ہیں کچھ ایسے ہی کرکٹ بھی تقریباً سارا سال پاکستانیوں کی زندگی میں دخیل رہتی ہے۔

اب خیر سے پاکستان سپر لیگ یعنی پی ایس ایل کا میلہ بھی سج چکا ہے تو اگلے ایک ماہ تک ہر سو اس کے ہی چرچے ہو ں گے۔ پی ایس ایل میں کھیلی جانے والی کرکٹ میں جس طرح چوکے چھکے لگا کر شائقین کرکٹ کا دل لبھایا جاتا ہے کچھ ایسے ہی سیاست کے میدان میں اکثر ایسے چوکے چھکے لگا کر مخالفین کو ڈھیر کیا جاتا ہے جیسے آج کل حکومت کے وزراء فواد چوہدری، شیخ رشید، فیاض الحسن چوہان یہ ”کارہائے نمایاں“ انجام دے رہے ہیں۔

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیوLeg before wicket کی ایک اصطلاح بہت عام ہے جس میں بولر کی جانب سے پھینکی گئی گیند جب بلے باز کے بلے کی بجائے اس کے پیڈز سے ٹکرا جائے اور بدقسمتی سے وہ وکٹوں کے عین سامنے ہو پھر امپائر اسے آؤٹ قرار دے کر گھر جانے کا رستہ دکھا دیتا ہے۔ سیاست میں اس اصطلاح کے بارے میں بہت کم سننے میں آیا ہے تاہم ایسا بھی نہیں کہ کبھی اس کا استعمال سیاسی رہنماؤں نے نہ کیا ہو۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ایل بی ڈبلیو کا استعمال اکثر کرتے تھے۔

بھٹو صاحب ایل بی ڈبلیو کا استعمال کب کرتے تھے اس سے پہلے سندھ سے تعلق رکھنے والے معروف وکیل بیرسٹر عزیز اللہ شیخ مرحوم کا ذکر ہو جائے۔ شیخ صاحب کی وکالت کی ایک دنیا معترف تھی اور کریمنل کیسز کی پیروی میں ان کی ٹکر کا کم ہی کوئی وکیل تھا۔ شیخ صاحب، عبدالولی خان، غوش بخش بزنجو، عطال اللہ مینگل، شیر محمد مری، آصف زرداری اور نواز شریف کے وکیل صفائی رہے۔ ان کی زندگی کی یاد داشتوں کو ایک کتاب کی صورت میں قلمبند کیا گیا ہے جس کا نام From Bhutto to Benazir; Story Untold ہے۔

اس تصنیف میں شیخ صاحب کہتے ہیں کہ نواب احمد خان قصوری کے قتل کیس میں بھٹو صاحب کا ٹرائل جسٹس صفدر شاہ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ تاہم جسٹس صفدر شاہ کا ذوالفقار علی بھٹو سے واسطہ 1976 ءمیں پڑا جب جب بھٹو صاحب اپنی مرضی کی اعلیٰ عدلیہ لگانا چاہتے تھے۔ آئین میں چھٹی ترمیم کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یعقوب علی کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی گئی۔

اس ترمیم کے ذریعے دو ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دیا گیا جن میں سے ایک پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس صفدر شاہ تھے۔ تاہم وہ ایک عام جج کے طور پر عدلیہ کا حصہ رہے۔ چیف جسٹس کے عہدے سے تنزلی پر وہ کبیدہ خاطر تھے تو ایک مشترکہ دوست کے ذریعے جسٹس صفدر شاہ کی ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کا انتظام کرایا گیا۔ جب جسٹس صفدر شاہ وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے لیے پہنچے تو وہ وقت سے تھوڑا پہلے پہنچ گئے۔

وزیراعظم کے سیکرٹری نے انہیں انتظار کرنے کے لیے کہا۔ جسٹس صفدر شاہ انتطار کر تے رہے اور دوسرے ملاقاتیوں کی وزیراعظم بھٹو سے ملاقات کے لیے آمدورفت کو دیکھتے رہے۔ دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد جسٹس صفدر شاہ نے سیکرٹری کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیا اور کہا اسے وزیراعظم صاحب کو پہنچا دیں۔ وزیراعظم آفس کا چپڑاسی کارڈ لے کر اندر گیا اور تھوڑی دیر بعد کارڈ ہاتھ میں واپس لیے باہر آگیا۔ سیکرٹری نے جسٹس صفدر شاہ کو مزید انتظار کا کہا جب کہ اسی دوران چپڑاسی نے کارڈ جسٹس صفدر شاہ کو واپس پکڑا دیا۔

جسٹس صفدر شاہ نے دیکھا کہ کارڈ پر انگریزی الفاظ میں LBW لکھا ہوا تھا جسے وہ سمجھ نہ پائے۔ انہوں نے کارڈ واپس جیب میں ڈال دیا۔ ایک گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعد جسٹس صفدر شاہ بھٹو صاحب سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر میں داخل ہوئے۔ جسٹس صفدر شاہ نے بھٹو صاحب سے درخواست کی کہ انہیں سپریم کورٹ میں ترقی دی جائے کیونکہ ہائیکورٹ میں اپنے ہی ایک جونیئر جج کے تحت کام کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں گے اس طرح ایک طویل انتظار ایک مختصر سی ملاقات پر ختم ہوا۔

بیرسٹر عزیز اللہ شیخ لکھتے ہیں کہ جسٹس صفدر شاہ نے اپنے اور بھٹو صاحب کے مشترکہ دوست سے ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ انہیں سپریم کورٹ میں ترقی دیے جانے والی درخواست کی منظوری کے بارے میں زیادہ امید نہیں ہے۔ باتوں باتوں میں جسٹس صفدر شاہ نے اس کارڈ کا بھی ذکر کیا جس پر بھٹو صاحب نے LBWلکھ کر واپس بھیجا تھا۔ اس دوست نے اس کارڈ کو دیکھنا چاہا تو جسٹس صفدر شاہ نے وہ کارڈ جیب سے نکال کر اسے تھما دیا۔ وہ دوست فقط یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ LBWکے الفاظ بھٹو صاحب کی ہینڈ رائٹنگ میں تھے یا نہیں۔

اس دوست نے وزیٹنگ کارڈ پر لکھے LBW کے الفاظ کو بغور دیکھا اور مایوسی کے عالم میں کارڈ پھاڑ کر جسٹس صفدر شاہ سے کہا وہ اپنی سپریم کورٹ میں ترقی کے بارے میں بھول جائے۔ جسٹس صفدر شاہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا کہ کارڈ پر بھٹو صاحب کی ہاتھ سے لکھے LBW کا کیا مطلب ہے تو دوست گویا ہوئے کہ بھٹو صاحب کی اصطلاح میں LBW کا مطلب ہے ’Let the Bastard Wait‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •