قید شریعت میں گرفتار عاشقی اور ہماری گھریلو صنعت


اور اگر کبھی سچ میں ایسے لوگوں کا صاحب علم سے مناظرہ ہو جائے تو یقیناً یہ دانشور جیت جائیں کہ ”وہ“ ان سے مناظرہ کر ہی نہیں سکتے۔ یہ دانشور معاشی طور پر بھی قطعی پریشان نہیں ہوتے۔ کہ ان کا ایمان ہے کہ رزق تو پتھر میں رہنے والے کیڑے کو بھی مل جاتا ہے۔ اب یہ خود کو کیا سمجھتے ہیں اس کا جواب تو یہ خود ہی دے سکتے ہیں۔ یہ دانشور ڈاکٹری علاج معالجے پر بھی یقین کامل نہیں رکھتے۔ ان کے ہاں یہ تصور شدت سے پایا جاتا ہے کہ بیماری کے بڑھنے کی اصل وجہ ڈاکٹر ہیں۔

جو مریض ایک بار کسی ڈاکٹر کے ہاں چکر لگا آئے، اسے زندگی بھر شفا نہیں ملتی۔ بلکہ ہر روز اس میں نت نئی بیماریاں ایجاد ہوتی ہیں سو یہ خود کو، اہل محلہ و اہل علاقہ کو ڈاکٹری وبا سے دور رکھتے ہیں۔ اور ڈاکٹری پرچی سے زیادہ باباجی کے تعویذ پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا اعتقاد ہے کہ بابا جی کا لعاب شفا کی گولی ہے اور بابا جی کی بھینسوں کے نہانے والے چھپڑ سے شفائے کامل مل جاتی ہے۔ ان دانشوروں کا عورت کے بارے بھی عقیدہ پختہ ہے کہ اس کا صرف ایک ہی کام ہے اور وہ ہے بچے پیدا کرنا۔

ایسے دانشوروں کی کثرت صرف ہمارے ملک ہی میں پائی جاتی ہے جو صرف درجن بھر بچوں کو دولت قرار دیتے ہیں۔ وہ الگ کہ دولت کے یہ انبار جگہ جگہ سے کاغذ چنتے یا بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے مال کی کثرت دیکھ کر کبھی جی میں آتا ہے کہ دولت کے یہ انبار ورلڈ بینک میں جمع کروادیئے جائیں۔ لیکن پھر یہ سوچ کر رک جاتی ہوں کہ یہ دولت مند اس کے لئے انکار کر دیں گے اور ہو سکتا مجھ پر منی لانڈرنگ پر اکسانے کا کیس دائر کروادیں۔

بارہ عدد بچوں کی کثیر تعداد کے باوجود اگر کوئی بے اولاد جوڑا ان سے بچہ گود لینے کی درخواست کر دے تو یہ انتہائی سفاکی سے جواب دیں گے کہ ہم تو بچے کا کچھا بھی نہ دیں۔ اب ان دانشوروں کو کون بتائے کہ کچھے کا کسی نے کرنا کیا۔ اگر ان سے فیملی پلاننگ کی بات کی جائے تو انھیں سمجھ نہیں آتی۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ بچے کم پیدا کریں تو یہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ ہمارے بچے تمھیں کیا تکلیف، تم۔ نے کھلانا ہے کیا؟

انھیں کون سمجھائے کہ ہم نے کھلانا ہر گز نہیں لیکن یہ اپنے کھانے کا سامان بھی تو پیدا ہونے دیں۔ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے اس کے ساتھ سماجی مسائل زیادہ بڑھ رہے ہیں۔ انھیں کون سمجھائے کہ بچوں کی تعداد مسئلہ نہیں بلکہ اس کثیر تعداد کے لئے ناکافی وسائل مسئلہ ہیں۔ ان کے لئے صحت و روزگار کے مناسب وسائل پیدا کرنا مسئلہ ہیں۔ شہروں میں برتھ کنٹرول کے حوالے سے تو پھر بھی شعور آ چکا لیکن دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جہاں، غربت، بے روزگاری، تعلیم سے دوری، بیماری وافر پائی جاتی ہے۔

ویاں بچوں کی کمی بھی نہیں۔ جہاں ضروریات زندگی کی کوئی بھی سہولت میسر نہیں وہاں کے مکینوں کا پختہ یقین کہ بچے ہمارا اثاثہ ہیں لیکن یہ بات ان کی سمجھ سے بالا ہے کہ محدود و ناکافی وسائل کی وجہ سے یہ اثاثہ اس زنگ آلود لوہے کی مانند ہے جو ہے تو قیمتی دھات لیکن زنگ آلود ہونے کی وجہ سے سے ناکارہ ہے۔ ہر بات میں مذہب کو لانے والوں کو ایک بار یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ مذہب احترام انسانیت کا درس دیتا ہے۔ مذہب کی کتاب میں سب سے زیادہ زور حقوق العباد پر دیا گیا ہے۔

مذہب انسانی جان کی ذلت و ناقدری کی اجازت نہیں دیتا۔ ذاتی خواہشات کیے لئے مذہب کے نام کو استعمال کرنے والے دانشوروں کی نہایت احمقانہ سوچ کہ غیر مسلم مسلمانوں کی کثرت سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ جنھوں نے کہکشاؤں تک کا سفر طے کر لیا، جو جنگل بیابانوں میں انسانی فلاح کے لئے ریسرچ میں مصروف ہیں۔ جو سائنس و ٹیکنالوجی کی نئی جہتیں متعارف کروا رہے ہیں جو حصول تعلیم کے لئے یونیورسٹیاں بنانے اور پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہیں۔

اور ہم اس مضحکہ خیز تصور سے باہر نہیں آرہے کہ غیر مسلم غربت و جہالت کی چکی میں پستے، ننگے پاؤں، ادھ ڈھکے بدن، جن کی آدھی آبادی بے روزگار ہے اور آبادی کا بڑا حصہ نشے کی لت میں مبتلا ہو چکا، جن کے بوڑھے کچرے کے ڈھیر سے سامان رزق تلاش کرتے ہیں اور جن کے بچے کسی ریڑھی بان، کسی ٹھیلے والے کو حسرت سے دیکھتے ہیں کہ شاید یہ ترس کھا کر کچھ کھانے کو دے دیں، ان سے ترقی یافتہ، خلاؤں کو چیر کر کہکشاؤں تک کا سفر طے کرنے والے غیر مسلم، اہل مغرب ہم سے خوفزدہ ہیں تو پھر اسے خوش فہمی ہی کہا جا سکتا ہے۔

اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو پوری دنیا میں ہمیں کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ جن۔ اہل مغرب کے بارے ہم یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ ہم سے ڈرتے ہیں اسی مغرب میں ہمیں جس حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کو سوچنا ہی تکلیف دہ ہے۔ ہمارے جوان جو اپنی راتوں کویہ سنہرے خواب دان کرتے ہیں کہ گوری میمیں ان کے انتظار میں پلکیں بچھائے بیٹھی ہیں، انھیں افریقہ کی بھنگن بھی لفٹ نہیں کرواتی۔ وجہ ہماری جہالت، تعلیم سے دوری۔ اور ہمارے دانشوروں کو یہ خوش فہمی لے ڈوبی کہ ہم کثرت عیال کی وجہ سے اہل کفار پر غالب آسکتے ہیں۔ فیملی پلاننگ کی بات کرنے والے ان کے دشمن ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2