قید شریعت میں گرفتار عاشقی اور ہماری گھریلو صنعت

خاندانی منصوبہ بندی کو اگر انگلش میں ادا کیا جائے تو اس لفظ میں اپنی طرف کھینچنے کی بہت صلاحیت ہے۔ کچھ لوگ اسے اردو میں ادا کرتے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں اورکچھ انگلش سے ازلی بیر رکھتے ہوئے اس پر عمل کرنے سے گریزاں۔ بعض دانشور اسے شرم…

Read more

انسانوں کو ویلنٹائن ڈے منانے دیں

عالمی سطح پر جنگ، دشمنی اور نفرت سے بیزاری کا اظہار جاری ہے۔ جنگوں سے ملک فتح کرنے والے بھی جان چکے کہ اگر لوگوں پر حکومت کرنا ہے تو محبت پھیلانا ہوگی۔ امن عالم کی تنظیمیں محبت کے پھیلاؤ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ اس کے لئے پوری دنیا میں بڑے بڑے سیمینارز…

Read more

لاشوں کے تاجر

انیس جنوری دن بارہ بجے کے قریب ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کر کے چار افراد کو مار ڈالا۔ اس بات کو کتنی بار لکھا جائے، کب تک پڑھا جائے۔ کب تک نوحہ لکھ جائے، کب تک مرثیہ پڑھا جائے۔ ہم اس پر چار دن ماتم کریں گے اور پھر اپنی ازلی بے حسی کی چادر اوڑھ کر تلاش معاش میں، کسی نئے مواد کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔ اپنے اپنے گورکھ دھندوں میں مصروف ہو جائیں گے۔ سانحہ ساہیوال ہر شخص کی زبان پر ایک ہی داستان۔ گولیوں کی تڑ تڑ میں آوازوں کی بھنبھناہٹ میں ہر آنکھ اشکبار، ہر دل سوگوار۔

کارروائی کرنے والوں کا کہنا کہ دہشت گرد کو مارا گیا۔ گاڑی چلانے والا ذیشان دہشت گرد تھا۔ ہو گا وہ دہشت گرد مان لیتے ہیں کہ اس کے سوا چارہ جو کوئی نہیں۔ لیکن کیا تیرہ سالہ اریبہ اور اس کی ماں بھی دہشت گرد تھی۔ کیا اس کا باپ خلیل بھی دہشت گرد تھا۔ ہم مان لیتے ہیں کہ اگر یہ سب دہشت گرد ہی تھے۔ تو کیا بچ جانے والے تین معصوم بچے بھی دہشت گرد تھے۔ جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو ماردیا گیا۔

Read more

عورت کائنات کی حسین ترین مخلوق

عورت کائنات کی حسین ترین مخلوق۔ جس کے بنا کائنات کا حسن مانند ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کے وجود کے بنا کائنات مکمل ہی نہیں ہوتی۔ اس کے بنا کائنات ادھوری رہ جاتی ہے۔ عورت کے کئی روپ۔ اور ہر روپ میں وہ مکمل۔ اس کا سب سے پیارا حسین روپ بیٹی ہے جو بہت پیاری ہوتی ہے لیکن اگر سمجھا جائے تو۔ گھر کی چہکار، چڑیوں کی طرح چار دن چہک کر بابل کے آنگن سے اڑجاتی ہے۔ بیٹی جسے رب کائنات نے رحمت کہا لیکن لوگوں نے اسے زحمت سمجھ لیا۔

اسے صرف عورت سمجھا گیا جو باپ کے لئے بوجھ بن گئی، بھائی کے لئے زحمت اور شوہر کے لئے ضرورت بن کے رہ گئی۔ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کے پیدا ہونے پر اسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ یہ رسم آج بھی جاری ہے بس انداز بدل گئے۔ بیٹی کو بوجھ سمجھنے والوں نے اسے پنجروں میں بند کر دیا۔ اس کی رخصتی کے وقت کہا جانے والا یہ جملہ ”کہ اب اس گھر سے تمھارا جنازہ اٹھے“ اور پھر وہ بیٹی عورت ہونے کے جرم میں ایک جنم میں جانے کتنی بار مرتی ہے۔

Read more

موجودہ حکومت: مجھ سے پہلے مرے اظہار کو موت آئی ہے

جس کے ہاتھ میں قلم ہے وہ بہت ہی خوش نصیب ہے۔ کہ رب تعالیٰ نے اسے قلم تھما کر معتبر کر دیا۔ سرورِ کائنات نے بھی قلم کے جہاد کا حکم دیا۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہے اس کا فرض ہے کہ وہ قلم کا حق ادا کرے۔ کچھ قلکار بعض یہودی عالموں…

Read more

میرا مقدر نہیں محتاج ہاتھ کی لکیروں کا

یوں تو ہاتھ دیکھنے والوں کی بڑی قسمیں ہیں۔ اور ہاتھ دکھانے والوں کی بھی۔ ایک محبوبہ کا ہاتھ بھی ہوتا ہے جسے صرف عاشق لوگ دیکھتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں سدا اسے پکڑ کر دیکھتے رہیں۔

ایک ہاتھ بیوی کا بھی ہوتا ہے جو وہ دور سے اپنے شوہر کو دکھاتی ہیں اور وہ بے چارہ وہیں دبک کر رہ جاتے ہیں۔ لیکن میں یہاں ان کی بات کر رہی ہوں جو لکیروں کو پڑھنے کے لئے ہاتھ دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ شوقیہ ہاتھ دیکھتے ہیں کچھ وقت گذاری کے لئے اور کچھ پیشے کے طور پر۔ شوقیہ ہاتھ دیکھنے والے آپ کو ہر سکول، کالج اور یونیورسٹی میں ”سرِ عام“ مل جاتے ہیں۔ سکول کالج میں آپ کہیں بھی لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ کوئی ماہر علم نجوم اپنے علم کے موتی بکھیر رہا ہے۔

Read more

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

بہت دل چاہ رہا ہے نواز شریف پر کچھ لکھنے کو۔ چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس سے متعلق فیصلہ آگیا۔ نواز شریف کا جُرم ان کے بچوں کے نام بیرونِ ملک پراپرٹی ہے بچوں کے نام اربوں کی جائیداد کی ملکیت جب ظاہر ہوتی ہے تب ان کے بچوں کی عمر پندرہ، اور…

Read more

ڈارون کا ثبوت زندہ ہے

جنگل جانوروں سے خالی ہوگئے اور انسان نما درندوں سے شہر بھر گئے۔ بلکہ انسان نے تو درندوں کو بھی مات دے دی۔ اور درندگی کی حد سے بھی تجاوز کر گئے۔ حیوانوں سے بھی بد تر سلوک کرنے والے جانور دندناتے پھرتے ہیں اور ظلم کا نشانہ بننے والے، انصاف کی آواز اٹھانے والے منوں مٹی تلے جا سوتے ہیں۔ ہم لوگوں نے وتیرہ بنا لیا ہے یا پھر ہم اخلاقی طور پر اتنے پست ہو چکے ہیں کہ کوئی ایک آدھ واقعہ ہمیں نہیں جگاتا۔ ہم تو تب جاگتے ہیں جب پانی سر سے گزر جائے۔

ایک دو سانحے سے پتہ نہیں چلتا کی کیا ہو رہا ہے۔ ایک بچی گھر سے سیپارہ پڑھنے جائے اور چھ دن بعد اس بچی کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملے وہ بھی اس حالت میں کہ لاش اپنا ماتم خود کر رہی ہو۔ تو کیا ایسے معاشرے کے لوگ انسان کہلانے کے حقدار ٹھرتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے، اُس اہلِ علاقہ کے لئے، اہلِ وطن کے لئے شرم کی نہیں ڈوب مرنے کی بات ہے۔ کہ ہم اپنی بیٹی کی حفاظت نہ کر سکے۔ جب کوئی بچہ گھر سے سیپارہ پڑھنے جائے، مدرسہ جائے، چیز لینے جائے، گھر کے کسی کام سے جائے۔

Read more

خواتین کا می ٹو اور مردوں کا وی ٹو

سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ ہر تیسری ماڈرن خاتون ”می ٹو“ کا حصہ بنتی نظر آرہی یا اس کا حصہ بننا چاہتی ہے۔ یہ مہم 2017 میں پروان چڑھی کہ اس کی بنیاد 2006 میں رکھی گئی۔ تاہم اسے عروج بہت سالوں بعد جا کے ملا۔ اور اب جسے دیکھو می ٹو کا ٹیگ کسی تمغے کی طرح اپنے ماتھے پر سجانے کو تیار ہے ایک اندازے کے مطابق اب تک چھیاسی ممالک کی خواتین اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ پاکستانی خواتین میں بھی اس کے جراثیم وافر مقدار میں ملے ہیں۔

اور اس کا شکار میشا شفیع پہلے کیس کے طور پر سامنے آئی۔ بس پھر کیا تھا یہ وائرس پھیل گیا اور بہت ساری میڈیا کی خواتین نے اس میں انٹری دی۔ لیکن میشا شفیع کی طرح انھوں نے کسی مشہور شخصیت کا ذکر کرنے سے گریز کیا کہ کہیں میشا کی طرح مشہور ہونے کا یہ بوکس طریقہ ان کے گلے نہ پڑ جائے۔ وہ بس اس مہم کا حصہ بن جائیں یہی کافی ہے۔ کچھ خواتین نے می ٹو مہم کا حصہ بننے کے لئے اپنے بچپن کے واقعات شیئر کیے۔ تیس، چالیس سال بعد ان واقعات کو منظر پر لانے کا مطلب سمجھ سے باہر ہے۔

Read more

پیسے دو، گناہ بخشواو

نیکی کرنے کی تلقین سبھی کرتے ہیں۔ راستے بھی بتاتے ہیں کہ یہ کرو تو گناہ ملے گا، یہ راستہ اپناو تو ثواب۔ گناہوں سے بچنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ گناہ کم سے کم کیسے کریں اس کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ کام مولوی حضرات کرتے ہیں۔ عام آدمی یا…

Read more