دیس میں پردیس کے رنگ

وطن سے باہر گئے تو پتہ چلا کہ یہ دھرتی جسے ہم وطن عزیز کہتے ہیں یہ محض لفاظی نہیں بلکہ یہ سچ میں بہت عزیز ہے۔ اور اس کی ہرچیز، ہر رنگ بہت پیارا، بہت خوبصورت ہے۔ دیارِ غیر میں سب غیر تھے کوئی ایک اپنا تھا تو وہ اپنے ملک کا نام تھا۔ جسے ہم اپنے نام سے بھی پہلے بتاتے۔ پردیس میں دیس کو تو یاد کیا ہی لیکن وطن سے وابستہ جڑی باتیں، چیزیں بھی بہت یاد آئیں۔ سب سے پہلے تو پاکستانی کھانوں کو یاد کیا۔ وطن سے دور وہ کھانے بھی اچھے لگنے لگے جنھیں چکھنے کے لئے اماں عمر بھر ہر حربہ استعمال کرتی رہیں۔

Read more

انگور کا رس

کچھ عرصہ گزرا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما علی امین گنڈاپور جس گاڑی میں سوار تھے اُس گاڑی سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ اب علی امین یہ تو نہیں کہہ سکتے تھے کہ یہ گاڑی یا بوتل ان کی نہیں سو انھوں نے کہہ دیا کہ اس بوتل میں شراب نہیں، شہد…

Read more

میرے لئے سب حلال ہے

پچھلے دنوں میرا ٹرین کے سفر کو دل چاہ رہا تھا۔ سو میں نے سوچا کیوں نہ اس بار سیالکوٹ ٹرین سے جایا جائے۔ سو میں نے اسٹیشن کا رُخ کیا ٹکٹ خریدا اور ٹرین کا انتظار کرنے لگی۔ ہمیشہ کی طرح اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ٹرین ”ذرا سا“ لیٹ تھی۔ اور مسافروں کو…

Read more

یوم خواتین یا یومِ رسوائی

آٹھ مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ لیکن پاکستان میں خواتین کے نام پر منایا جانے والا دن یادگاربن گیا۔ یہ ہماری روایت ہے کہ ہم اپنے ہرخاص موقع کو تھوڑی سی محنت کر کے بہت زیادہ خاص بنا لیتے ہیں۔ معاملہ خانگی سطح کا ہو یا قومی سطح کا ہم اس دن کو ایسا یادگار بنا دیتے ہیں۔ کہ اگلا ایسا ایونٹ آنے تک اس کی یاد خود بھی آتی ہے اور دوسروں کو بھی۔ کہ رنگ میں بھنگ ڈالنا ہمارا انفرادی نہیں اجتماعی چلن ہے۔یہ نئی بات نہیں، آج کی بات نہیں۔ یہ برسوں کی ریت ہے، روائیت ہے۔ بزرگوں سے چلی ہے اورانشاءاللہ نسل در نسل چلتی رہے گی۔ ہم کتنا ہی پڑھ لکھ جائیں، بیرونِ ممالک ٹاپ کی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر ڈگریوں کے انبار اکٹھے کرلیں۔ لیکن اس ریت کو نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ یہ ہماری جین میں شامل ہے، ہماری فطرت ہے اورفطرت کبھی نہیں بدلتی۔ آٹھ مارچ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین مارچ کا اہتمام کیاگیا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہ خواتین کے لئے منایا جانے والا یہ دن خواتین ہی کی وجہ سے متنازع بن گیا۔

Read more

میں کون ہوں؟

آج میں خود کو ٹٹولنے میں مصروف ہوں۔ دُنیا سے کٹ کر اپنے دل میں جھانک رہی ہوں۔ خود سے پوچھ رہی ہوں۔ کہ میں کون ہوں؟ میری ماں ایک ان پڑھ عورت تھی۔ میرا باپ اکثر اس پر ہاتھ اٹھاتا۔ میں سوچتی ماں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ دادی کہتی تیری ماں زبان…

Read more

کعبہ بڑے داتا کا گھر ہے ۔۔۔ اور فقیروں کا پھیرا

کعبہ جانے کا کب سے ارمان تھا۔ ہر ایک مسلمان کو ہوتا ہے کہ زندگی میں ایک بار اس مقدس مقام کی زیارت نصیب ہو جائے۔ لیکن وہ الگ بات کہ جب ایک بار اس جگہ سے ہو آئیں تو پھر دل بار بار جانے کو مچلتا ہے۔ مجھے بھی ہر مسلمان کی طرح اس…

Read more

چھوٹی سی رشوت

گذشتہ دنوں پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت پیش آئی۔ تو مجھے بھی وہی کام کرنا پڑا جس کام کی ہمیشہ مخالفت کی۔ دل سے برا جانا بلکہ شجر ممنوعہ سمجھا۔ اتنا برا سمجھا کہ اس کی مخالفت میں بول بول کر تھک گئی۔ کئی بار اس کے خلاف لکھا، دوسروں کو تلقین کی کہ اس پہ خاک ڈالئے، یہ غلط کام ہے، ایسا مت کریں۔ شارٹ کٹ مت ڈھونڈیں۔ لیکن سچ ہے کہ جس تن لاگے سو تن جاگے۔ جی تو قصہ کچھ یوں ہے کہ پاسپورٹ بنوانے جب پاسپورٹ دفتر پہنچے تو دفتر کے باہر مرد و زن کی لمبی قطار دیکھ کر حواس جاتے رہے۔یوں لگا ہمارے پاسپورٹ بنوانے کی مخالفت میں سارا شہر اکٹھا کیا گیا ہے تا کہ ہم بیرون ملک نہ جا سکیں۔ کہ ہو سکتا ہے شہر کی رونق ہم ہی سے ہو۔ اتنی لمبی قطار میں بھلا ہم۔ جیسے کہاں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کہ اب اقبال کے شاہینوں کے کرنے کے کیا یہ ہی چھوٹے کام رہ گیاہے۔ سو ہم شاہینوں کی لاج رکھتے واپس آگئے۔ واپسی پہ اپنے کسی جاننے والے سے رابطہ کیا کہ ہماری مشکل آسان کرنے میں مدد کی جائے۔ کہ لمبی قطار میں کھڑے ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن۔

Read more

قید شریعت میں گرفتار عاشقی اور ہماری گھریلو صنعت

خاندانی منصوبہ بندی کو اگر انگلش میں ادا کیا جائے تو اس لفظ میں اپنی طرف کھینچنے کی بہت صلاحیت ہے۔ کچھ لوگ اسے اردو میں ادا کرتے جھجک محسوس کرتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں اورکچھ انگلش سے ازلی بیر رکھتے ہوئے اس پر عمل کرنے سے گریزاں۔ بعض دانشور اسے شرم…

Read more

انسانوں کو ویلنٹائن ڈے منانے دیں

عالمی سطح پر جنگ، دشمنی اور نفرت سے بیزاری کا اظہار جاری ہے۔ جنگوں سے ملک فتح کرنے والے بھی جان چکے کہ اگر لوگوں پر حکومت کرنا ہے تو محبت پھیلانا ہوگی۔ امن عالم کی تنظیمیں محبت کے پھیلاؤ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ اس کے لئے پوری دنیا میں بڑے بڑے سیمینارز…

Read more

لاشوں کے تاجر

انیس جنوری دن بارہ بجے کے قریب ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کر کے چار افراد کو مار ڈالا۔ اس بات کو کتنی بار لکھا جائے، کب تک پڑھا جائے۔ کب تک نوحہ لکھ جائے، کب تک مرثیہ پڑھا جائے۔ ہم اس پر چار دن ماتم کریں گے اور پھر اپنی ازلی بے حسی کی چادر اوڑھ کر تلاش معاش میں، کسی نئے مواد کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔ اپنے اپنے گورکھ دھندوں میں مصروف ہو جائیں گے۔ سانحہ ساہیوال ہر شخص کی زبان پر ایک ہی داستان۔ گولیوں کی تڑ تڑ میں آوازوں کی بھنبھناہٹ میں ہر آنکھ اشکبار، ہر دل سوگوار۔

کارروائی کرنے والوں کا کہنا کہ دہشت گرد کو مارا گیا۔ گاڑی چلانے والا ذیشان دہشت گرد تھا۔ ہو گا وہ دہشت گرد مان لیتے ہیں کہ اس کے سوا چارہ جو کوئی نہیں۔ لیکن کیا تیرہ سالہ اریبہ اور اس کی ماں بھی دہشت گرد تھی۔ کیا اس کا باپ خلیل بھی دہشت گرد تھا۔ ہم مان لیتے ہیں کہ اگر یہ سب دہشت گرد ہی تھے۔ تو کیا بچ جانے والے تین معصوم بچے بھی دہشت گرد تھے۔ جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو ماردیا گیا۔

Read more