حکومت آئے دن عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرتی رہتی ہے لیکن عوام ناشکرے ہیں کہ پھر بھی دہائیاں دیتے پھرتے ہیں۔ عوام کی سہولت کے لیے ملک بھر میں چار ہزار آٹھ سو اکیاسی یوٹیلٹی سٹورز کھولے گئے ہیں اور ان سٹورز پر انیس ضروری اشیاء پر سبسڈی بھی دی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عوام روتے کرلاتے نظر آتے ہیں۔ سچ ہے نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔ حکومت نے انتہائی ضرورت کی انیس اشیاء پر سبسڈی دے کر نیکیوں کے دریا بہا دیے ہیں لیکن عوام حکومت کی اس نیکی کو ضائع کرنے پر تلے ہیں۔
جسے دیکھو وہ یوٹیلٹی سٹورز سے خالی ہاتھ ہی لوٹتا ہے وہ بھی حکومت کو گالیاں اور بددعائیں دیتے ہوئے۔ اس کی وجہ اگر کوئی یہ بتائے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر چیزوں کی قلت ہے تو پھر یہ جھوٹ ہے۔ یہ حکومت پر بہتان ہو سکتا ہے یا پھر سیاسی بیان بازی۔ کیونکہ یوٹیلٹی سٹورز پر تمام اشیاء وافر مقدار میں موجود ہیں خاص کر وہ اشیاء جن پر سبسڈی دی گئی ہے۔ اگر اشیائے ضروریہ کو خریدنے سے خریدار خود ہی انکار کردے تو پھر اس کی ذمہ دار حکومت تو ہرگز نہیں۔
Read more