کامریڈ شیخ چلی – بابا کے مزار پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 11
  •  

وقت۔ ۔ 2065 عیسوی

موقع۔ بابا کاکا ایک سوپچاسواں جنم دن

عظیم راہ نما :۔ ملک کو آزاد کرنے والے بابا تم پر لاکھوں سلام! آج کے دن میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے آیا ہوں، سنا ہے ایسا کرنے سے روح پاکیزگی سے روشناس ہوتی ہے۔ آپ نے مجھے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ ”مجھے یاد ہے جب آپ نے میری آپ نے میری جانشینی کا اعلان کیا تو ایک ستم ظریف نے ایک کا رٹون میں مجھے دائیں ہاتھ میں گائے کی رسی اور بائیں میں اونٹ کی نکیل تھامے ہوئے دکھایا تھا۔ میں نے ملک کو آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلانے کی بھر پور کوشش کی۔

لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے میں نا کامیاب رہا۔ شاید اس میں قصور میرا ہی تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ارباب وطن سے شیر یں کلامی سے نہیں ڈنڈے سے کام لیا جا سکتا ہے، میں نے انڈے کا بہت کم استعمال کیا۔ بابا! آپ کے پاس تسخیر قلب کا ایک نادر نسخہ تھا۔ یعنی بھوک ہڑتال۔ جب کبھی لوگ راہ راست سے بھٹک جاتے، آپ بھوک ہڑتال کر کے انہیں صحیح راستے لے آتے۔ میں اس نسخے کا بھی استعمال نہ کر سکا کیونکہ میں نے اسے اقدام خود کشی کے مترادف سمجھا۔

آپ میں سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ نے سیکڑوں لوگوں کو تربیت دے کر اس قابل بنا دیا کہ وہ عوام کی راہ نمائی کر سکیں۔ مجھ سے یہ بھی نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج میرے پچانوے کروڑ ہم وطن دن رات یہ سوچتے رہتے ہیں کہ اگر خدا نخواستہ میں اللہ کو پیارا ہو گیا تو کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد۔ دیکھی آپ نے پچانوے کڑوڑ انسانوں کی بے بسی۔ آپ ہی انصاف سے کہئے، بے بسی کی اس سے بڑی مثال آپ کو کہاں ملے گی۔

وزیر بے تدبیر:۔ معاف کرنا بابا، میں آپ کے پاس عوام کی شکایت لے کر آیا ہوں۔ آپ کے پاس نہیں آؤں گا۔ بابا جب میں نے آپ کی ایجاد کردہ وردی پہن کر اپنا حلیہ بگاڑ لیا تھا، جب حصو ل آزادی کے لیے میں نے قید و بند کی سختیاں جھلیں، جب گوروں کے ہاتھوں لاٹھیاں کھائیں، اس وقت عوام مجھے پسند کرتے تھے اور آج اگر چار پیسے کمانے کی سبیل نکلی ہے تو حسد سے جل کر راکھ ہو رہے ہیں۔ کمینے کہیں کے! اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر میں نے اپنی گزشتہ خدمات کا معاوضہ وصول کر لیا تو اس میں کون سی قباحت ہے۔

آخر میں اس لیے تو جیل نہیں گیا تھا کہ آزادی ملنے کے بعد وہی لون تیل کا کاروبار جاری رکھوں، جو سات پشت سے پیشۂ آبا ہے۔ حاسد یہ بھی کہتے ہیں کہ بطور منتظم میں نا ایل ثابت ہوا ہوں۔ آپ ہی بتایئے اس میں میرا قصور ہے۔ چالیس برس میں ہلدی، شکر اور دیسی صابن بیچتا ریا۔ اب راتوں رات ایک قابل منتظم کیسے بن جاؤں۔ کچھ لوگ یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ میرا سب سے بڑا پلان ”آنے والے سات سال میں اپنے احباب اور رشتے داروں کو ملازمت دلوانا ہے“۔ آپ ہی فرمایئے آخر ایسا کرنے میں کیا حرج ہے۔ مشہور ضرب المشل ہے : اول خویش بعد درو یش۔ بابا آپ دعا کیا کرتے تھے۔ خدا سب کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ خدا جانے عوام کو کب عقل آئے گی۔

عوام:۔ بابا آپ سب کی فریاد سنتے ہیں۔ ہماری بپتا بھی سنئے۔ آپ تو فرمایا کرتے تھے کہ جب ملک آزاد ہو گا تو ہم خوش حال ہو جائیں گے لیکن یہ کہ ہم بے حال ہو گئے۔ خسارے کے بجٹ بنانے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ہم ان پر بھروسا رکھیں، وقت آنے پر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ خدا جانے وہ کب آئے گا۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ چنے موتیوں اور امرود سیب کے بھاؤ بک رہے ہیں ٹیکسوں کے بوجھ سے کمر دوہری ہو گئی ہے لیکن ماہرین کے خیال میں ابھی اس پر کچھ اور ٹیکس لا دے جا سکتے ہیں۔ جب ہم ان سے پوچھتے ہیں اگر آپ کے پلان کامیاب رہے ہیں تو ہم خوشحال کیوں نہیں ہوتے، تو جواب ملتا ہے آبادی بڑھ گئی ہے بابا۔ اگر یہی بات ہے تو ماہرین سب پلان چھوڑ کر آبادی گھٹانے کا پلان کیوں نہیں بناتے۔

مشہور سیاسی جماعت :۔ بابا تمہارا انتقال کیا ہوا میں یتیم ہو گئی۔ تمہارے جیتے جی لوگ مجھے سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ اب مجھ سے یوں بدکتے ہیں جیسے میری پیشانی پر لکھا ہوا ہو۔ ”چار سو چالیس وولٹ خطرہ“ آزادی ملنے سے پہلے جب میں کسی بڑے شہر میں جاتی تھی تو مجھے دیکھنے کے لیے لوگوں کے ٹھٹ لگ جاتے تھے۔ اب جاتی ہوں تو ڈرکے مارے لحافوں میں گھس جاتے ہیں۔ بابا کیا اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں اب بوڑھی ہو گئی ہوں اور میرے رنگ روپ میں کوئی کشش نہیں رہی۔ آپ کی آنکھیں کیا بند ہوئیں۔ آپ کی امت نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی۔ آپ تو کوئی بری بات نہ دیکھتے نہ سنتے اور نہ کہتے تھے۔ آپ کے بیشتر مریدوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کوئی اچھی بات ناسنیں گے نہ دیکھیں گے اور نہ کہیں گے۔

ایک بچہ:۔ بابا آپ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے۔ آج کے بچے کل کے راہ نماہیں۔ ذرا جنت سے آ کر دیکھئے تو کل کے رہنماؤں کی کیا گت بن رہی ہے۔ ہمارے نصاب میں اتنی کتابیں شامل کی گئی ہیں کہ انہیں اٹھانے کے لیے ایک خچر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ فیس اتنی زیادہ دنیا پڑتی ہے کہ سکول میں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے، کالج میں پڑھ رہے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے گھر والوں نے جیب خرچ بند کر دیا ہے۔ استادوں کو تنخواہ کم ملتی ہے۔ اس لیے وہ اپنا غصہ سرکار پر نکالنے کی بجائے ہم پر نکالتے ہیں۔ بابا آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہزاروں نہیں لاکھوں بچوں کے بھول ایسے چہرے جھاگئے ہیں، جسم نحیف ونزار اور نگایں گرسنہ اور اداس ہیں۔

بابا:۔ میں نے آپ کی پکار سن لی۔ میں سچ کہتا ہوں۔ آج سے اسی ( 80 ) برس پہلے جب مجھے شہید کیا گیا۔ مجھے اتنارنج نہیں ہوا تھا جیتا آپ کی باتیں سن کر ہوا۔ میں اپنے مزار میں لیٹے ہوئے اکثر سوچتا ہوں کیا یہی وہ آزاد ملک ہے جس کا خواب میں نے دیکھا تھا۔ لیکن میں بے بس ہوں۔ میں آپ کو کیا تسلی دے سکتا ہو ں۔ میں تو جب اس انتہائی اخلاقی گراوٹ پر نظر دوڑ اتا ہوں تو اس پر کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے اپنے آخری الفاظ دہرا کر رہ جاتا ہوں، یا خدا اس محسن کش قوم کو اب اگر تو بھی چاہے تو نہیں بچا سکتا ”۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 11
  •  
کنہیا لال کپور کی دیگر تحریریں
کنہیا لال کپور کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں