سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان۔ توقعات اور حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بن سلمان، سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد ہیں۔ 2016 میں اپنی تعیناتی کے وقت وہ دنیا کے کم عمر ترین سربراہ مملکت تھے۔ ان کی موجودہ عمر 34 سال ہے۔ سعودی ولی عہد ”مین فارایوری تھنگ“ کے نام سے بھی مشہور ہیں جبکہ وہ بیک وقت سعودی نائب وزیراعظم، وزیردفاع اور اقتصادی ترقی کونسل کے صدر بھی ہیں۔ سعودی ولی عہد 17 اور 18 فروری کو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اس دورے کے دوران وہ دوسرے ایشیائی ممالک بھارت اور چین بھی جائیں گے۔ شنید ہے کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کا دورہ بھی ممکنات میں سے ہے۔

سعودی ولی عہد کے اس دورے کو نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی بڑی اہمیت دی جار ہی ہے۔ ان کا یہ دورہ سعودی عرب اور ایشیائی ممالک کے درمیان ایک نئے سفارتی اور تجارتی تعلقات کا آغاز سمجھا جا رہاہے۔ ۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کی پچھلے سال استنبول میں سعودی سفارت خانے میں پر اسرار ہلاکت نے نہ صرف ان پر بلکہ سعودی عرب کے کردار پرکئی سوالات اٹھائے تھے۔ مغرب میں اس قتل کے واقعہ کو لے کر سعودی عرب کو کافی ہزیمت کا سامنا رہا۔

کچھ ملک تو ببانگ دہل انھیں اس قتل کے لئے مورد الزام ٹھراتے رہے۔ گو کہ امریکہ نے اس معاملے پر کسی حد تک سعودی عرب کا ساتھ دیا مگر عالمی، میڈیا ان پر سے یہ داغ دھلنے نہیں دے رہا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جب محمد بن سلمان نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں ریاض میں سرمایہ کاری کانفرنس بلائی تو بڑے کاروباری اداروں اور ملکوں نے اس کانفرنس سے غیر حاضری میں عافیت جانی جبکہ امریکا اور دیگر یورپی ملکوں نے بھی اپنے اپنے تحفظات کی بنا پر کانفرنس سے دُوری اختیار کی۔

گو، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت اچھے ہیں، مگر وزیرِاعظم عمران خان نے جب عہدہ سنبھالنے کے بعد ستمبر میں پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیاتھا اور مقصد ان سے مالی مدد کی درخواست کرنا تھاتودورے کے نتائج توقع کے مطابق نہیں نکلے تھے۔ لیکن ایسے حالا ت میں جب دنیا سعودی عرب کی مخالفت کر رہی تھی وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوا، اور، اس کا انعام پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی مالی امداد کی شکل میں ملا۔ کہتے ہیں بین الاقوامی تعلقات میں دوستی سے زیادہ باہمی مفادات کو دیکھا جاتاہے۔ سو دونوں ممالک کے لئے یہ محاورہ درست ثابت ہوا۔

اب سعودی ولی عہد ایشیا کے دورے کا قصد کیے بیٹھے ہیں تو ان کے ذہن میں ظاہر ہے کوئی حکمت عملی ہے۔ اس کے مبینہ خدوخال کیا ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مگر کچھ زمینی حقائق ان کے کچھ مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ محمد بن سلیمان، اس وقت دنیا میں سعودی عرب کے تشخص کو بہتر کرنے کی سعی کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ جمال خشوگی کے قتل سے پیدا ہونیوالی صورتحال سے یہ اندیشہ ہے کہ بہت سے مغربی ممالک وہاں مزید سرمایہ کاری میں دلچسپی نہ لیں۔ تو اس خلا کو پر کرنے کے لئے انھیں سٹریٹیجک پارٹنرز کی تلاش ہے۔ جو نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعلقات کو قائم رکھیں بلکہ مستقبل میں ان میں بہتری بھی لائیں۔

سعودی عرب کے وژن 2030 کے مطابق اسے ”عرب اور اسلامی دنیا کے دل“ کے طور پر ابھرنا ہے۔ عالمی سرمایہ کاری کے لئے پر کشش ملک بننا ہے اوراپنے محل وقوع کی بنیاد پر 3 براعظموں (ایشیا، یورپ، افریقہ) سے منسلک سعودی عرب کو دنیا کے لئے ایک مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ اس سب کے حصول کے لئے سعودی حکومت، صحت، تعلیم، بنیادی انفراسٹرکچر، تفریح اور سیاحت، سرمایہ کاری کی سرگرمیوں، صارفین کی مصنوعات کے ذریعہ غیر تیل کی صنعت کی تجارت، دفاعی سازوسامان کی ملکی سطح پر مینو فیکچرنگ اور خریداری پر پر توجہ دے رہی ہے۔ بنیادی نقطہ اس نظریہ کا سعودی معیشت میں تیل کی موجودہ آمدن ( 40 %) پر انحصار کو رفتہ رفتہ کم کرکے دوسرے شعبوں کو بھرپور کردار دینا ہے۔

ایسے میں ایشیا ئی ممالک کے دورے کا انتخاب کرنا بے معنی نہیں ہے۔ چین اور بھارت سعودی تیل کے بڑے خریداروں میں سے ہیں۔ جبکہ چین سے اربوں ڈالر کی درآمدات سعودی عرب کو جاتی ہیں۔ ایسے حالا ت میں سعودی عرب کا ان ممالک سے تعلقات کونئے خطوط پر استوار کرنا باہمی تعلقات کو اور مضبوط کرے گا۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا سے لاکھوں تعداد میں عازمین حج سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ ان ملکوں سے افرادی قوت سعودی عرب میں اپنے جوہر دکھا رہی ہے۔ ان دونوں ممالک کو سعودی عرب سے کچھ شکایات بھی ہیں جو اس دورے سے رفع ہو نے کی امید ہے۔ سو اس خطہ سے سعودی عرب کے کافی معاشی مفادات جڑے ہیں۔

پاکستا ن کے دورے کو کئی طرح سے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کی بڑی کمپنیوں کے 40 سی ای او پاکستان آنے والے وفد میں شامل ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس دورے سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ عمران خا ن اس سے پہلے سعودی عرب کو خلیج میں جاری بحران پر مصالحت کی پیشکش کر چکے ہیں۔ جس کو سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں بڑی اچھی نگاہ سے دیکھا گیاہے۔ پاکستان بغیر کسی ملک کی طرفداری کیے مسائل کے تصفیے کے لئے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

ا س دورے کے دوران پاکستان کے لئے مالی امداد اور باہمی تعاون کے کئی منصوبوں کا اعلان بھی متوقع ہے جس سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں کمی کی امید کی جا رہی ہے۔ گوادر میں آئل ریفائنری کے لیے 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان سی پیک کے تناظر میں بڑا اہم ہے۔ جس سے چین کو فائدہ ہوگا جو دنیا میں تیل سپلائی کے ایک چوتھائی کا اکیلا خریدار ہے اور گوادر میں آئل ریفائنری اور پائپ لائن منصوبے سے اپنی توانائی کی ضروریات کو تحفظ دے سکتا ہے۔

سعودی عرب کو سی پیک میں ایک پارٹنر کے طور پر بھی دیکھا جار ہا ہے۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یوز) پر بھی دستخط ہوں گے۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت جو کم ہو کر 2.5 ارب ڈالر تک ہو گئی ہے اس کو بڑھانے کیلے معاہدہ کیے جانے کی توقع ہے۔ توانائی، بجلی، تیل و گیس، میڈیا، ثقافت اور کھیل کے شعبوں میں معاہدے ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب جانے کے لئے پاکستانیوں کو سفری سہولتوں دینے سے متعلق بھی بات ہوگی۔

پاکستا ن سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان فروخت کر سکتا ہے۔ دوسرے شعبوں کا بھی پوٹینشل دورے کے دوران اعلی سطح کے اجلاسوں میں زیر غور ہو گا۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستان اپنے مفادات پر آنچ آئے بغیر کس طرح کامیابی سے سعودی وفد سے بات چیت کرتا ہے اور مفاہمتی یاداشتوں کے کتنے منصوبے فوری اور قابل عمل ہوں گے۔

گو کہ سعودی ولی عہد اس امرمیں دلچسپی رکھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری کرکے ان ملکوں کو معاشی حالات کے سدھار پر لگایا جائے مگر عین ولی عہد کے دورے سے پہلے پلوامہ میں ہونیوالے خودکش دھماکے اور اس کے بعد بھارت کی پاکستان پر الزام تراشیوں نے ماحول کو یکسر کر کرا کر دیا ہے۔ گرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اوچھا ہتھکنڈا بی جے پی نے بھارت میں اس سال ہونے والے انتخابات کے لئے اختیا ر کیا ہے چونکہ وہاں انتخابات پاکستان مخالف چورن بیچ کر ہی لڑا جاتا ہے۔

پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے پاکستا ن کو سفارتی طور پر دنیا سے الگ کرنے کی بے پرکی بھی اڑائی ہے مگر، اب عالمی سطح پر اسے یہ بھونڈا مطالبہ تسلیم کروانے میں ناکامی ہوگی۔ اڑی اور پٹھانکوٹ کے دہشت گردی کے واقعات پر بھی الزام کی یہی برسات بھارت نے پہلے کی تھی مگر ثبوت کے طور پر پاکستان کے خلاف کچھ بھی نہ پیش کیے جانے پر بھارت کو جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پلوامہ کے معاملے پر چین کی مدد حاصل کرنے کی بھارتی کوشش پہلے ہی بے سود ثابت ہوچکی ہے۔

مودی سرکا رکی پوری کوشش ہوگی کہ وہ پلوامہ کے تناظر میں سعودی ولی عہد سے پاکستان کے خلاف کوئی بیان یا مشترکہ اعلامیہ میں کچھ کہلوا دیں۔ مگر قیا س کیا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلیمان ایسی کسی کوشش کا حصہ نہیں بنیں گے چونکہ وہ خود عالمی سطح پر ایک عدد تنازعہ کا شکار ہو چکے ہیں۔ اور اس مہم میں جب وہ بالکل ہی ایک نیا سعودی بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اپنے آپ کو اس سے دور رکھیں گے، خاص طور پر جب انھیں خود پاکستان اور دوسرے ایشیائی ممالک کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •