کیا عمران خان بے لاگ احتساب کر پائیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا واقعی پاکستان میں ایک بے لاگ، منصفانہ اور شفاف احتساب کا عمل ممکن ہوسکے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو سیاسی مجالس میں ہمیشہ سے زیر بحث رہتا ہے۔ اس مسئلہ پر اہل دانش کی رائے تین حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ اول یہاں بے لاگ شفاف احتساب ممکن نہیں ہوسکے گا؟ اس طبقہ کے بقول ریاست اور حکمران یا بالادست طبقات نے ہمیشہ سے احتساب کے عمل کو سیاسی بنیادوں پر چلایا اور اس کے پیچھے عملا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانا مقصود تھا۔

دوئم یہاں جو نظام ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر موجود ہے اس میں کمزور سیاسی کمٹمنٹ سمیت سیاسی، انتظامی اور قانونی سقم کی موجودگی میں ایک شفاف احتساب کا عمل کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ سوئم یہاں احتساب کا عمل اس لیے بھی ممکن نہیں کہ تمام طاقت کے مراکز نے اپنے اپنے مفادات کو بنیاد بناکر ایک ایسا سمجھوتہ کررکھا ہے جس میں کوئی کسی کا احتساب عملا نہیں کر سکے گا اور عملی طور پر سب ایک دوسرے کی کرپشن کو سیاسی تحفظ دیتے رہیں گے۔

پاکستان کی سیاسی اور فوجی حکمرانی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں احتساب کے عمل میں ایک بڑے سیاسی سمجھوتے کی کہانی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ جہاں احتساب کا عمل سیاسی مخالفین کے لیے سیاسی ہتھیار کے طور پراستعمال ہوا وہیں کرپٹ او ربدعنوان طبقہ نے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو سیاسی ڈھال بنا کر کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو مضبوط طاقت فراہم کی۔ بنیادی مسئلہ یہاں طاقت ور طبقات نے ایک مافیا کی شکل میں عملی طو رپر اتحاد کیا ہوا ہے۔

اس اتحادکا واحد مقصد ایک دوسرے کے مفادات کو تقویت دینا ہے۔ اس اتحاد میں جہاں لوگ انفرادی سطح پر موجود ہیں تو دوسری جانب ادارہ جاتی سطح پر بھی لوگ کرپشن او بدعنوانی پر مبنی سیاسی گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی جب کوئی احتسا ب کو شروع کرنے کی جانب پیش قدمی کرتا ہے تو اسے خود اپنے ادارہ جاتی سطح پر کئی طرح کی انتظامی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں احتساب کا عمل کبھی بھی منصفانہ اور شفاف بنیادوں پرنہیں چل سکا۔ اس کی وجہ ہماری سیاسی، جمہوری اور فوجی قیادت بھی ہے جس کی ترجیحات میں کبھی بھی احتساب کا عمل بڑی ترجیح نہیں بن سکا۔

ماضی میں پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کی قیادت جس میں بے نظیر بھٹو او رنواز شریف شامل تھے نے مل کر جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک میثاق جمہوریت جیسے اہم ماہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس ماہدے میں نیب یعنی قومی احتساب بیورو کو ختم کرنا او راس کے مقابلے میں ایک خود مختار احتساب کمیشن بنانا تھا۔ مگر دونوں جماعتوں نے نہ تو نیب کو ختم کیا اور نہ ہی احتساب کا خود مختار طرز کا ادارہ بنانا اہم سمجھا۔

دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے پانچ برس کے اقتدار میں احتساب پر سیاسی سمجھوتہ کرکے ایک دوسرے کی کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست کو تحفظ فراہم کیا۔ اب یہ دونوں جماعتیں نیب پر تنقید کرتی ہیں، لیکن جب ان کو موقع ملا تو انہوں نے بھی اسی نیب کی مدد سے اپنی مرضی او رمنشا کے مطابق چیرمین نیب لگا کر اپنی مرضی کا کھیل اگرچہ اب دونوں جماعتیں اعتراف کرتی ہیں کہ نیب کو ختم نہ کرنا ان کی بڑی سیاسی غلطی تھی، لیکن سیاسی قیادتیں ہمیشہ برے وقت میں ہی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہیں اور جب برا وقت گزر جاتا ہے تو پھر دوبارہ ان ہی ماضی کی غلطیوں کو دہرایا جاتا ہے۔

اس وقت بھی ملک میں نیب احتساب کے عمل کی قیادت کررہی ہے۔ لیکن جو احتساب کا عمل ملک میں چل رہا ہے اس میں بہت سے لوگوں کو سخت تحفظات ہیں۔ ان کے بقول نیب کی کارکردگی وہ نہیں جو ایک خود مختار ادارہ کی ہونی چاہیے تھی۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بڑی شدت کے ساتھ اس بیانیہ کو پیش کررہی ہیں کہ حکومت، عدلیہ، اسٹیبلیشمنٹ اور نیب کا باہمی گٹھ جوڑ ہے جو حکومت مخالف جماعتوں کے خلاف ہے۔ ان کے بقول ان پر جو مقدمات بن رہے ہیں یا بنائے جارہے ہیں اس کی نوعیت قانونی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جن لوگوں پر نیب کے مقدمات چل رہے ہیں وہ اپنے مقدمات کو قانونی بنیاد پر کم او رسیاسی بنیاد پر زیاد ہ لڑرہے ہیں۔ کیونکہ ان کو یقین ہے کہ وہ محض سیاسی بنیادوں پر ہی مقدمات کو چلا کر خود کو سیاسی مظلو م کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نیب نے اب تک جو مقدمات چلائے ہیں ان میں دستاویزی ثبوت او رقانونی شواہد سمیت نیب پراسیکوٹر کی کمزوری کے پہلو زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شہباز شریف سمیت بہت سے لوگ کی عدالتوں سے ضمانت کا منظور ہونا بھی ظاہر کرتا ہے کہ نیب اپنے قانونی معاملات کو موثر انداز میں عدالتوں کے سامنے پیش نہیں کرسکی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اپنی اپنی ضمانتوں کے بعد خود کو کسی حد تک سیاسی مظلوم کے طو رپر پیش کرتے ہیں۔ یہاں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا عدالتی اور قانونی نظام بنیادی طور پر طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ کمزور او رطاقت ور کے لیے دو مختلف قانون اور نظام موجود ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کمزو راور فرسودہ قانونی، عدالتی اور احتساب کے نظام میں طاقت ور افراد قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔

نیب نے پچھلے چند برسوں میں کئی طاقت ور افراد پر ہاتھ ڈالا، لیکن نتیجہ کوئی خاص نہیں نکل سکا، بلکہ یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ان پر مقدمات کی عملی نوعیت سیاسی تھی۔ البتہ کچھ ماہ میں بڑے پیمانے پر سیاسی افراد سمیت انتظامی افسران بھی نیب کی گرفت میں آئے ہیں۔ احد چیمہ، فواد حسن فواد سمیت کئی سرکاری افسران، کئی اہم سیاست دان، بیوروکریٹ او رکاروباری طبقہ قانون کی گرفت میں ہیں مگر بڑا عرصہ گزرنے کے باوجود کچھ بھی سامنے نہیں آسکا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نیب جیسے ادارے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اس ادارے کی ساکھ کیا ہے او رکیونکر یہ احتساب کو شفاف بنانے میں ناکام ہورہا ہے۔ دراصل جس انداز سے حکومت او رحکومتی ادارے احتساب کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں اس سے کوئی بڑا انقلاب ممکن نہیں ہوگا۔

یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر واقعی ہم احتساب چاہتے ہیں جو بے لاگ بھی او رمنصفانہ بھی تو پھر موجودہ طورطریقوں کی مدد سے یہ کبھی بھی ممکن نہین ہوگا، کیونکہ کیونکہ طاقت ور طبقات جو ہر شعبہ میں موجود ہیں وہ کبھی بھی احتساب کا عمل نہیں ہونے دیں گے۔ احتساب کا عمل وہیں ممکن ہوسکتا ہے جہاں واقعی ادارے خود مختار ہوں اور اپنے اندر صلاحت سمیت خود بھی شفافیت رکھتے ہوں۔ لیکن کیونکہ یہاں کی حکمرانی کے نظام میں ادارہ جاتی سطح پر حد سے زیادہ سیاسی مداخلت کا کھیل ہے وہاں ان اداروں سے کوئی بڑی توقع رکھنا محض خوش فہمی ہوگی۔ ہمارا جمہوری اور پارلیمانی نظام سمیت پارلیمنٹ کوئی بھی احتساب کو یقینی او ربے لاگ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار نہیں او رسب عملی طور پر سیاسی سمجھوتے کی سیاست کا شکار نظر آتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی مجموعی سیاست احتساب پر کھڑی ہے۔ لیکن محض سیاسی نعروں سے احتساب ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے حکومتی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ سمیت ادارہ جاتی سطح پر ایک بڑی انقلابی طرز کی اصلاحات درکار ہیں۔ احتساب پاکستان کا ایک اہم او ربنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ غیر معمولی حل چاہتا ہے۔ یعنی اگر کرپشن او ربدعنوانی کینسر جیسا سنگین مرض ہے تو اس کا علاج کسی بھی طو رہم ڈسپرین کی گولی سے نہیں کرسکے۔

اس کے لیے ریاستی، حکومتی او رادارہ جاتی سطح پر غیر معمولی اقدام کی ضرورت ہوگی او ریہ موجود ہ بیمار نظام سے اس مرض کا علاج ممکن نہیں۔ ہمیں اپنے احتساب کے نظام میں موجود سیاسی، قانونی او رانتظامی سقم کا علاج کرنا چاہیے اور اگر اب بھی ہم اس مرض کی تشخیص او رعلاج موثر نہ کرسکے تو احتساب کا عمل بہت پیچھے چلا جائے گا۔

جمہوریت میں احتساب لازم ملزوم ہوتا ہے۔ کوئی بھی جمہوری نظام بغیر احتساب کے کسی بھی شکل میں شفاف نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہماری جدوجہد بے لاگ، منصفانہ او رشفاف احتساب پر ہونی چاہیے او ریہ ہی جدوجہد شفاف جمہوریت کو بھی ممکن بناسکے گی۔ لیکن اگر اس بار بھی ہم احتساب کے نظام میں کچھ موثر نہ کرسکے او رلوگوں کو واقعی احتساب نہیں دیکھنے کو ملے گا تو اس کا نتیجہ ملک میں جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کی مزید کمزوری کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا اور لوگوں کا یقین بڑھے گا کہ یہاں طاقت ور طبقات کے خلاف احتساب ممکن نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •