انصاف کا نظام اور پارلیمانی ترجیحات

پاکستان کا سیاسی نظام بنیادی طور پر عدم انصاف کے نظام پر کھڑا ہے۔ یہ کسی ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ مجموعی طور پر ریاستی، حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کی ناکامی ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ناکامی کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوتی۔ ہر ناکامی کا تعلق مختلف معاملات سے جڑا ہوتا ہے اور…

Read more

حزب اختلاف کی سیاست کا المیہ

قومی سیاست کی ہمیشہ سے یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اسے نہ تو اچھی حکمرانی مل سکی اور نہ ہی اچھی حزب اختلاف۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری قومی اور جمہوری سیاست جمہوری اصولوں کے مطابق نہیں چل سکی۔ اچھی حکومت سے مراد ایک ایسی حکمرانی ہوتی ہے جو عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی سیاسی، سماجی او رمعاشی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ اسی طرح ان کی ایک او راہم ترجیح شفافیت، جوابدہی کا ایسا نظام وضع کرنا ہوتا ہے جو ان کی حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

Read more

مودی کا انتخابی منشور اور ہندوتوا کی سیاست

نریندر مودی بنیادی طور پر بھارت کی سیکولر سیاست کو ہندوتوا پر مبنی سیاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی پرانی سیاسی سوچ ہے اور اسی بنیاد پر وہ سخت گیر ہندو سیاست کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ ابھی چند دن بعد بھارت میں سات مراحل پر مشتمل عام انتخابات کا سلسلہ شروع…

Read more

قیادت کا فقدن اور قومی بحران

پاکستان داخلی اور خارجی محاذ پر ایک بڑے بحران سے گزررہا ہے۔ یہ بحران آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ کئی دہائیو ں سے جاری سیاسی، سماجی اور معاشی پالیسیوں سمیت قیاد ت کے طرز عمل کا بھی ہے۔ قیادت سے مراد محض سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ تمام اداروں سمیت ہر شعبہ کی قیادت…

Read more

افتخار مجاز بھی رخصت ہوئے

موت برحق ہے اور ہر ایک کو آنی ہے۔ لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بچھڑنے کا دکھ بہت تکلیف دیتا ہے۔ اگرچہ یہ محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ کوئی آپ کا پیارا آپ سے بچھڑنے والا ہے، مگر امید کا ایک پہلو ہوتا ہے کہ شاید وہ نہ جائے اور ہمارے…

Read more

احتساب کا عدم شفافیت پر مبنی نظام

جو بھی سیاسی نظام عدم شفافیت اور عدم جوابدہی پر مبنی ہوگا وہ اپنی سیاسی و قانونی ساکھ قائم نہیں رکھ سکے گا۔ کیونکہ سیاست او رجمہوریت پر مبنی نظام میں شفاف حکمرانی بنیادی جز ہوتا ہے۔ جو بھی سیاسی نظام شفاف نہیں ہوگا اس میں کرپشن، بدعنوانی، اقراپروری سے جڑے نظام کو ہی طاقت ملتی ہے۔ ایک مسئلہ کرپشن ہے، دوسرا مسئلہ کرپشن سے جڑے ان احتساب کے اداروں او رنظام کا ہے جو خود عملی طور پر عدم شفافیت پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اس میں سیاسی حکومتیں ہوں یا فوجی حکمران طبقہ سب نے ہی احتساب کے نظام کے ساتھ وہ سب کچھ کیا جو عملی طور پر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ احتساب کا شور توبہت سننے کو ملتا ہے مگر عملی طور پر اس سے جڑے اقدامات یا قانون کی حکمرانی کا پہلو بہت کمزور اور لاچار نظر آتا ہے۔

Read more

علمی و فکری میلہ کی پزیرائی

کسی بھی معاشرے کاحسن کا اس کا علمی و فکری اثاثہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ہوتا ہے جب ریاست، حکومت، ادارے او ررائے عامہ بنانے والے افراد او رادارے مل کر علمی او رفکری ماحول کو پیدا کرنے او راسے مضبوط بنانے میں اپنا اپنا موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ علمی او رفکری ماحول لوگوں کو سیکھنے، سکھانے، ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے سمیت معاشرے میں ایک متبادل فکری سوچ او ر فکر کو بالادستی دیتی ہے۔معاشرے کی اصل ضرورت دنیا میں ہونے والی نئی نئی تبدیلیوں سے آگاہی او را س کی مدد سے اپنے لیے ترقی کا راستہ تلاش کرنے سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ کام ایک بڑی فکری اور مالی سرمایہ کاری سے ہی ممکن ہوتا ہے او راس کام کا تجزیہ کرتے وقت ہم قومی سطح پر اپنی ترجیحات کا تعین بھی کرسکتے ہیں کہ ہم عملی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔

Read more

غربت کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟

عوامی مفادات سے جڑا ایک بنیادی مسئلہ غربت کے خاتمہ کا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی یا فوجی کوئی بھی حکومت ہو اس کا بنیادی نوعیت کا نعرہ عام آدمی اور بالخصوص غربت کا خاتمہ ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی مجموعی سیاست میں عوام او راس کا بنیادی مفاد حکمران طبقہ کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا۔ وہ عوامی مسائل کی بنیاد پر سیاست تو کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی سیاسی ترجیحات کافی مختلف ہو جاتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ حکمران طبقہ معاشی طو رپر خو دکفیل جبکہ عام آدمی معاشی طو رپر زیادہ بدحال ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عام آدمی اور حکمران طبقہ کے درمیان ہمیشہ سے بداعتمادی پر مبنی خلیج حکمرانی کے منصفانہ اور شفاف نظام کو چیلنج کرتا ہے۔

Read more

عثمان بزدار کا چیلنج

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی تقرری ایک بڑا سیاسی موضوع ہے۔ کیونکہ وہ ایک تجربہ کار سیاست دان یا پارلیمنٹرین کی حیثیت نہیں رکھتے تھے او رنہ ہی ان کا تحریک انصا ف میں کام کرنے کا کوئی وسیع تجربہ تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان پر حد سے زیادہ تنقید کا پہلو بھی نظر آتا ہے او ران کے مخالفین کے بقول پنجاب کو ایک کمزور وزیر اعلی دے کر اصل اختیارات کا مرکزاسلام آباد یا وزیر اعظم کو خود بنایا گیا ہے۔ ایک طرف ان کے مخالفین کی یہ دلیل ہے تو دوسری طرف تحریک انصاف کے حامیوں کا نکتہ نظر ہے کہ پنجاب جیسے مضبوط او رطاقت ور صوبہ میں ایک کمزور وزیر اعلی دے کر پی ٹی آئی کی مستقبل کی سیاست کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ایک دلیل سیاسی پنڈتوں کی بھی ہے کہ ان کے بقول اگر پنجاب میں مسلم لیگ ن اور شریف برادران کی سیاست کو کمزورکرنا تھا تو پی ٹی آئی کی وزیر اعلی کے طور پر عثمان بزدار کی تقرری سمجھ سے بالاتر ہے او ریہ بات سیاسی طو رپر ہضم نہیں ہوتی۔

Read more

بلاول بھٹو کی سیاست

بلاول بھٹو کی سیاست کے تناظر میں پیپلز پارٹی کے نظریاتی ساتھیوں کا نکتہ نظر یہ تھا کہ وہ اپنے والد آصف علی زرداری کی سیاست سے بالکل مختلف طرز کی سیاست کرکے کھوئی ہوئی پارٹی کی ساکھ کو بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ بہت سے سیاسی پنڈتوں کی بھی یہ ہی توقع تھی کہ وہ روایتی طرز کی سیاست کی بجائے ایک ایسی سیاست کو ترجیح دیں گے جو ان کو بھی مقبول لیڈ ر کے طور پر پیش کرے گی اور ملکی سطح کی سیاست میں وہ ایک نئی امید بھی پیدا کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کو اپنی سیاسی بحالی میں ایک نوجوان قیادت درکار تھی جو بلاول بھٹو کی صورت میں سامنے آئی تھی۔

Read more