بائی گاڈ محبوب از ماڈرن
اُس دن میں نے فیصلہ کیا کہ محبوب سے دوستی کا تقاضا یہی ہے کہ اسے راہِ راست پہ لایا جائے چنانچہ میں اُسے قریبی مسجد کے قاری صاحب کے پاس لے گیا۔ قاری صاحب نے اسلام سمیت سب مذاہب کا احاطہ کرتے ہوئے مادر پدر آزادی کو غلط قرار دیا۔ وہاں سے واپسی پہ محبوب علمی دلائل سے قطع نظر قاری صاحب کے حلیہ، جبہ اور جثہ پہ جوکس کرتا رہا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ محبوب اب لوٹنے والا نہیں کیونکہ قاری صاحب کے شکنجے سے بچ نکلنا کسی عام بندے کے بس کا کام نہیں۔
قاری صاحب نے دلائل میں ذہنی نجاستوں کے لے کتے کی کافی مثالیں دی تھیں نتیجہ یہ نکلا کہ محبوب نے ایک چھوٹا رشین کتا خرید لیا اور آئے دن اُسے نہلانے، کھلانے اور ساتھ سُلانے کی تصاویر شئیر کرنے لگا۔ ایک روز تو انتہا ہی ہوگئی اُس نے اپنی سیلفی دکھائی جس میں محبوب نے ٹومی کے لبوں پہ لب رکھے ہوئے تھے، پھر کیا تھا میں نے اپنے دراز میں مگ، گلاس اور دو پلیٹیں رکھنا شروع کردیں۔ اب محبوب کا اکلوتا رشتہ دار ٹومی تھا کیونکہ وہ اپنے ماما پاپا (جوکہ حال ہی میں امی ابو کے عہدہ سے ترقی پا گئے تھے ) کو چھوڑ کر علیحدہ رہنے لگا تھا۔
اُسے یقین تھا کہ رشتے نہ خون کے ہوتے ہیں، نہ دوستی کے صرف فیلنگز ہی ٹرو ریلیشن ہے اور اُس کے اورٹومی کے درمیان بے حد سٹرونگ فیلنگز ہیں۔ بقول محبوب ٹومی اُس کے جوکس پہ ہنستا بھی ہے، مجھے یہ بات کسی خوفناک فلم کا سین لگی۔ وہ انگریزوں کے سارے ڈیز بھی عقیدت واحترام سے منانے لگا تھاجیسے مدرز ڈے، فادرز ڈے اور ویلنٹائن ڈے وغیرہ وغیرہ۔ میں نے اسلامی تہواروں کی طرف توجہ دلائی تو کہنے لگا بدعت ہیں پھر کچھ سوچ کر بولا سوری بدعت نہیں Heresy۔ اس کی انگلش نے مجھے چپ کروادیا۔
اگر میں مضمون نگاری کے روایتی جملوں کے مطابق یہ کہوں کہ یہاں تک تو سب صحیح چل رہا تھا تو بالکل غلط ہوگا البتہ ان سب گزرے سانحات سے بڑا سانحہ اب درپیش تھا۔ ہوا یہ کہ محبوب کی وہ محبوبہ جس کا ذکر ابتدائی سطر میں تھامیرے پاس آئی اور کہنے لگی محبوب اب مجھ سے محبت نہیں کرتا وہ بدل گیا ہے۔ میں نے کہا مجھے معلوم ہے تم اس کی کنزرویٹیو دور کی محبت ہو اور اب وہ دقیانوسی نہیں رہا۔ روتے ہوئے کہنے لگی اب جب کہ میں نے اپنی اماں کو راضی کرلیا ہے تو محبوب مجھ سے شادی سے گریزاں ہے، لگتا ہے اُسکی زندگی میں کوئی اور آگیا ہے۔
میرا پہلا شک ٹومی کی طرف گیا لیکن میں نے یہ سوچ کر جھٹک دیا کہ ٹومی اتنا گِر نہیں سکتا۔ میں نے محبوب کی محبوبہ کو تسلی دے کر بھیجا اور خود محبوب کے گھر چلا گیا۔ پہلاجھٹکا تو یہ لگا کہ ڈائینگ ٹیبل پہ ٹومی محبوب کی رکابی میں ہمرکاب تھا۔ مجھے اس ماحول میں تھوک نگلنا بھی ناپاک لگ رہا تھا۔ دوسرا جھٹکا تب لگا جب محبوب نے مجھے بھی ساتھ کھانے کی دعوت دی، تو میں نے فوراً جھوٹ بولا کہ میرا نفلی روزہ ہے۔ مجھے یقین تھا کہ اس جھوٹ کا گناہ کتے کاجھوٹا کھانے سے کم گناہ ہوگا۔
جب محبوب نیپکِن سے اپنا اور اپنے ساتھی کا منہ صاف کر چکا تو میں نے آنے مدعا بیان کیا۔ کہنے لگا وہ لڑکی تو پاگل ہے وہ شادی کرنا چاہتی ہے۔ میں نے جواب دیامحبت کی منزل تو شادی ہی ہے۔ محبوب نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ شادی پُرانے خیالات کی ڈیپیکشن ہے۔ جیسے ہمیں بھوک لگتی ہم کھانا کھاتے ہیں، نیند آتی ہے سوتے ہیں ایسے ہی دیگر جسمانی ضرورتیں بھی وقتی ہوتی ہیں اور وقتی طور پہ ہی پورا کرنی چاہیئں نہ کہ میرج جیسا بوجھ اُٹھایا جائے۔
یہ کہہ کر محبوب، ٹومی کو اس کے بستر پہ چھوڑنے چلا گیا اور میں گھر سے باہر نکل آیا۔ وہاں سے نکل کر میں نے پہلی کال اُس لڑکی کے نمبرپہ کی اور کہا کہ وہ کوئی اور محبوب تلاش کرلے، اِس سے پہلے کہ وہ مجھے کہتی کہ مِل گیا ہے، میں نے فوراً کال کاٹ دی۔ اُس روز میری اور محبوب کی وہ آخری ملاقات تھی۔ پھرایک روز ائیر پورٹ سے اُس نے ایس ایم ایس کیا جو کہ مکمل انگریزی زبان میں تھا لیکن پڑھنے والوں کی سہولت کے لئے ترجمہ تحریر کررہا ہوں۔
لکھاتھا کہ ہیلو ڈیئر مسٹر زیدی پاکستانی دقیانوسی معاشرہ مجھے سمجھنے سے قاصر ہے، اور یہ معاشرہ خود اس لائق نہیں کہ اسے سمجھا جائے۔ اور وہ یعنی موبی یعنی محبوب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امریکہ جارہا ہے۔ میں اسے روکنا چاہتا تھا مگرمیں نے روکا نہیں کیونکہ میں جانتا تھا کہ آج صرف محبوب کا جسم امریکہ کی جانب سفر کررہا ہے جبکہ اُسکی روح تو عرصہ ہوا مغرب کی باسی ہے اورانگریزوں سے گھل مل چکی تھی۔ مجھے اپنے دوست محبوب کے بچھڑنے کا دکھ ہوا۔ اب میرا صرف یہی کام ہے کہ جب بھی کوئی پوچھتا ہے کہ محبوب کو کیا ہوا تھا؟ تو میں دوستی نبھاتے ہوئے کہتا ہوں بائی گاڈ محبوب از ماڈرن۔

