انٹرٹینمنٹ کا ذہنی امراض میں حصہ

نیوزی لینڈکانام ہم میں سے اکثر نے صرف کرکٹ کے حوالے سے سُنا تھا، ڈینئل ویٹوری اور برینڈن میکولم کا ایک زمانہ فین ہے۔ شاید پہلی بار ہم نے نیوزی لینڈ کا ذکر ایک ”بے نام“ دہشت گرد کی وجہ سے خبروں میں سُنا۔ بے نام اس لئے کہ وہاں کی وزیرِ اعظم جاسندا اردیرن نے اُسکا نام لینے کو انسانیت کی تضحیک سمجھا اور صرف انتہا پسند یا دہشت گرد کے نام سے پکارا۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کاجذبہ قابلِ ستائش و احترام ہے۔

Read more

نوید اور نبیلہ کی لو اسٹوری

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں نے زندگی کی دوسری نوکری شروع کی، دوسری اس لے ے کہ تب میں پہلی سے باعزت طریقے سے نکالا جاچکا تھا۔ باسزمیں ایک بات مزے کی ہوتی ہے وہ ہر کسی ملازم کو لات مار کر نہیں نکالتے۔ بڑے مردم شناس ہوتے ہیں صرف ڈھیٹ ملازمین کو دھکے دے کر نکالتے ہیں جبکہ شریف ورکرز کو چار چھ ماہ کی تنخواہیں روک کر۔ خیر یہ باس کی بات یہاں کہاں سے آگئی؟ یہ قصہ تو نوید اور نبیلہ کی محبت کا ہے۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ میری دوسری نوکری کا پہلا دن تھا۔

تعارف کے بعد میں اپنی نشت پہ بیٹھا کولیگز کا جائزہ لے رہا تھا تو میری شاطر نگاہوں کو نوید اور نبیلہ کے درمیان کچھ خاص محسوس ہوا۔ ویسا ہی جیسا مرد و عورت میں ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے تھے، اِن کن اکھیوں میں اب میری اکھیاں بھی شامل ہو گئیں تھیں۔ دونوں ایک دوسرے کی ہلکی سے جنبش پہ چوکنے ہو جاتے تھے۔ مجھے نیوز چینل کی تعفن زدہ فضا میں یہ جذبہ تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوا۔ اتنے میں نوید آہستگی سے اُٹھا اور مرکزی کمرے سے کسی ذیلی منزل کو روانہ ہوگیا، کچھ توقف کے بعد نبیلہ بھی پیچھے ہولی۔

Read more

شاید یہیں سے ہماری واپسی ہو

زیرِ دست آئے دشمن پائلٹ ابھی نندن کو چھوڑدیا گیا۔ یہ فیصلہ کیسا ہے یہ تو ماہر ین زیادہ بہتر جانتے ہیں، وہی ماہرجو ملک کے چیف ایگزیکیٹیو ہیں اور بھارت کو امن کی پیش کش کررہے ہیں، وہی ماہرین جنھوں نے پہلی رات صبر کیا اور طیارے واپس جانے دیے اور اگلی بار آنے پر مار گرائے، وہی ماہرین ِخارجہ جو اقوامِ عالم میں ہماری نمائیندگی کرتے ہیں۔ کوئی دو رائے نہیں کہ قابو کیے دشمن کو چھوڑنے سے پاکستان نے عزت اور بڑی کامیابی حاصِل کی ہے۔روایتی صحافتی جملہ استمعال کرتے ہوئے قارئین کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان کے تما م اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پہ ہیں اور اُس پیچ پہ پاکستان سمیت خطے کی ترقی اور استحکام کا مضمون درج ہے۔ خیر سگالی کا یہ عمل کرکے جو ملکی، سیاسی، عسکری، سفارتی اور ہمسائیگی کامیابیاں ہم نے سمیٹی ہیں اُن پہ بہت لکھ جارہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ دنیا جان گئی ہے کہ وہ ملک جو ستر کی دہائی سے کبھی افغانستان کی جنگ سے متاثر ہوا اور نائن الیون کے بعد خود لگ بھگ پندرہ سال اپنی سرزمین پہ دہشتگردی کا شکار ہے رہا ہے، وہ پاکستان تو امن کا سفیر ہے، وہ صرف اپنا نہیں سوچتا بلکہ وہ تو خطے کے تحفظ کے لئے کوشاں ہے۔

Read more

آئیے اس بار سیکھ لیتے ہیں

پاک بھارت سرحدوں پہ کشیدگی ہے، خطے کا امن خطرے میں ہیں۔ بھارت ہڈدھرمی دکھا رہا ہے اور عالمی برادری خاموش بیٹھی ہے۔ پاکستانی حکومت مدبرانہ اور فوج جرات مندانہ فیصلے کر رہی ہے۔ امید ہے جنگ نہیں ہوگی اور اگر خدانخواستہ پاکستان پہ جنگ مسلط کی گئی تو افواجِ پاکستان دفاع کا ہنر جانتی…

Read more

پیسے کے پجاری، ڈاکٹر اور انسانیت

موضوع بھی عجیب سا ہے اور عنوان بھی لیکن تحریر ضروری ہے۔میرے والد پیر سید پرویز حیدر زیدی صاحب کہا کرتے تھے کہ لوگوں کا خدا پیسہ ہوگیا ہے۔ میں اپنی کم عمری، کم علمی اور کم عقلی کی بناء پراس بات سے کبھی متفق نہ ہوا۔

مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خدا ہو ہی نہیں سکتا، وہی واحد اور لاشریک ہے۔ پھر عمر بڑھی اور میں کم علمی سے عملی زندگی میں آیا تو میں نے دیکھا کہ واقعی لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ پیسے کو بھی خدا مانتے ہیں۔ گھر میں جائیداد کی تقسیم ہو تب بھائی بھائیوں سے نظریں بدل لیتے ہیں لیکن جمعہ پہلے صف میں پڑھنے کو ترجیح د یتے ہیں۔ لوگ چوری کرتے ہیں، ڈاکہ ڈالتے ہیں، زمینوں پہ قبضے کرتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، مجبوریوں کی قیمت لگاتے ہیں، اور تو اور مسجدوں میں بیٹھ کر چند ٹکوں کے عوض فتوے بھی دے دیتے ہیں۔ سوال کیا جائے کہ کیا واقعتاً کلمہ پڑھنے کے بعد بھی ایمان بیچا جاسکتا ہے؟ تو جواب ہے ہاں۔ لوگ پیسے کی خاطر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایمان بیچتے ہیں۔ پیسے کی چمک نے آنکھوں ایسا اندھا کیا ہے کہ اب کعبہ آسانی سے نظر نہیں آتا۔

Read more

بائی گاڈ محبوب از ماڈرن

محبوب میرا دوست تھا، گو کہ اُس کا محبوب بھی میرا دوست تھا لیکن میں کیونکہ کنزرویٹیو ہوں اس لئے اس بات کا اظہار کبھی اپنے دوست محبوب کے سامنے نہ کرسکا۔ یہ اظہار نہ کرنا محبوب سے دوستی میں میری واحد بے وفائی ہے کیونکہ ایسے کرنے سے محبوب کے مقاصد کو یقینا جِلا…

Read more

عمران خان میرا سُپر ہیرو

انسان کی فطرت بھی عجیب ہے اُسے خود سے بہتر لوگ متاثر کرتے ہیں مگر ”دور“ سے اور اگر قریب ہوں تو محترم حسد کرنے لگتے ہیں۔ خیر گزرے جملے کا دوسرا حصہ ایک علیحدہ معاشرتی رویہ ہے اور کسی علیحدہ مضمون میں اسے موضوع بنائیں گے۔ فی الحال ہم خود سے بہتر لوگوں پہ ”دور“ سے غور کرتے ہیں۔ مثلاً میں موٹر سائیکل پہ ویلی نہیں مارسکتا وجہ صرف یہ ہے کہ مجھے احمقانہ کام کرنا پسند نہیں، لیکن اگر کوئی ویلی مارتا ہوا پاس سے گزرے تو میری نگاہیں اُس کا تعاقب کرتی ہیں، گرنے تک یا کم ازکم آنکھوں سے اوجھل ہونے تک۔

اور اگر کبھی موت کے کنویں کا منظر دیکھ لوں تو آنکھیں اور منہ دونوں کھلے رہ جاتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دل اندر ہی اندر کہتاہے ”ابے یار کمال کردیا“۔ شائقین کے دلوں کی یہی آواز زبان تک لانے کے لئے فلم والوں نے ٹارزن کا مضبوط جسم والا خوبرو کردار متعارف کروایا۔ سب کو پسند بھی آیا بِنا یہ سوچے کہ ٹارزن بھائی صاحب کی جنگل میں روز اتنی صفائی سے شیو کون بنا کے جاتا ہے؟ سُپر مین، بیٹ مین، اسپائیڈر مین، ایک دو ”وومین“ بھی، ہلک، ایونجرز، مسٹر انڈیا، کِرش اور مولا جٹ وغیرہ وغیرہ۔

Read more

ٹی وی اور شفیق کے اماں ابا

میرا دوست شفیق اپنے نام کی طرح شفیق اور سلجھا ہوا لڑکا ہے اُسکی زندگی میں الجھن تب آئی جب وہ اور اس کے اماں اباجوائنٹ فیملی کا جوائنٹ کھول کر پوش علاقے کے کھلے گھر میں آگئے۔ شفیق کی دادی نے بہت کوشش کی کہ اُنکا نورِ نظر نظروں کے سامنے رہے لیکن نورِ نظر کی منظورِ نظر زیادہ کار گر رہی اور ایسا ہو نہ سکا۔ شفیق کے ابا اچھا کماتے ہیں تو اب اندرون شہر کے دو دو کمروں کے چار منزلہ مکان میں تین بھائیوں کے ہمراہ رہنا مشکل ہوگیا تھا۔

چنانچہ شفیق کے اماں ابا نے بوریا بستر وہیں چھوڑا اور سپرنگ والے میٹریس پہ سونے یا جاگنے کے مزے لوٹنے گلبرگ شفٹ ہوگئے۔ شفیق کی اماں اس کشادہ مکان میں نقل مکانی پہ بے حد مسرور تھیں۔ شفیق ا پنے ہی اماں ابا کی اکلوتی اولاد ہے جس کی ایک ہی معقول وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ شفیق کی اماں کے دماغ کا وہ کیڑا ہے جو اب ”اینا کونڈا“ بننے والا تھا۔ یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، کیونکہ یہاں نہ شفیق کی دادی کی کِل کِل تھی اور نہ ہی شفیق کے چچاوں کی خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے غفلتوں کی کلکاریاں۔ یعنی کہ چین ہی چین۔

Read more