فہمیدہ ریاض: میت سے نہ معافی منگوانا


انہوں نے اپنی مجبوری کو Cash نہیں کیا۔ آخری بیماری کے طویل دورانیے میں ان کے سیاسی رفقاء میں سے کسی ایک کو، جو بڑے بڑے عہدوں پر براجمان تھے، خیال آیا کہ فہمیدہ ریاض کی تیمار داری کی جائے۔ چند لوگ اس کے پاس بھیجے گئے یہ پوچھنے کے لیے کہ آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔ فہمیدہ ریاض نے اپنے مخصوص انداز میں سوچتے ہوئے جواب دیا، رات کو کسی وقت میری آنکھ کھل جاتی ہے تو چائے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس لیے آپ مجھے وہ سیٹی بجانے والی کیتلی منگا دیجیے تاکہ میں رات کو چائے بنا سکوں۔ ”

چنانچہ حسب فرمائش ان کے لیے کیتلی کا بندوبست کر دیا گیا۔ ان کے شوہر ظفر اُجّن نے تاسف بھرے لہجے میں مجھے یہ واقعہ سنایا اور کہا، کیتلی منگوا لی۔ کم از کم ایئرکنڈیشنز تو منگوایا ہوتا! مگر فہمیدہ ریاض کو کیتلی کی ضرورت محسوس ہوئی، اس لیے انہوں نے یہی کہہ دیا۔

وہ خود اس کا بیان نہیں کرتی تھیں لیکن فہمیدہ ریاض کے دوستوں کو اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ ان کی زندگی کا یہ دور بہت سخت رہا۔ زندگی میں بے ترتیبی اور صحت کے معاملات میں لا ابالی پن کا نتیجہ اچھا نہیں رہا۔ اب سے کئی برس پہلے میں ان کو ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا جن کے علاج سے مجھے فائدہ ہو رہا تھا۔ میری طرح ڈاکٹر صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ پرانی رپورٹیں موجود ہیں، نہ علاج کی تفصیلات کہ کون سے ٹیسٹ کب کروائے گئے اور کب نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس آنے والے اکثر مریض ترتیب وار نسخے رکھ کر پورا فائل بنا لیا کرتے تھے مگر فہمیدہ ریاض نے ایسا کوئی تکلّف نہیں کیا۔ مریض سامنے موجود ہے، معالج خود نتیجے تک پہنچ جائیں، ورنہ ایسے مسیحا سے کچھ اچھا ہو نہیں سکتا۔

میں نے فہمیدہ ریاض کی متّرنم ہنسی کا ذکر کیا ہے لیکن ان کے آنسوؤں کا ذکر بھی لازمی ہے۔ میں ان کو بری طرح، بلک بلک کر روتے، سسکتے بھی دیکھا ہے جو ازحد تکلیف دہ منظر تھا۔ پردیس میں جوان جہاں بیٹے کی حادثاتی موت اور لاش کے حصول کی تکلیف دہ تفصیلات کے بعد کتنی بار یہ ہوا کہ وہ بیٹھے بیٹھے اچانک رونے لگتی تھیں اور اس درد سے روتی تھیں کہ دیکھنے والوں کا کلیجہ پھٹنے لگتا تھا۔ کبیر کے نام سے منسوب نظم لکھنے کے بعد ان کو قرار تو نہیں آیا مگر رونا کم ہو گیا۔ آہستہ آہستہ زندگی کے معمولات واپس آنے لگے۔ وقت مرہم تو نہیں بنا مگرجیسے انہوں نے ساری تلخی کو اپنے دل میں اتار لیا، اور دل ٹوٹ کر رہ گیا۔ طرح طرح کی بیماریوں سے سر اٹھا لیا اور جینے کی اُمنگ جیسے بُجھ کر رہ گئی۔

مگر شمع بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔ اس دور میں بھی فہمیدہ ریاض نے اپنے اظہار کے خاص پیرایے کچھ تلاش اور کچھ وضع کر لیے۔ اپنے کئی دوسرے منصوبوں کے برخلاف، قدیم دور میں مزدک کے ایران پر مبنی ناول ”قلعۂ فراموشی“ مکمل کر لیا۔ افسانے لکھتی رہتی تھیں۔ وہ جس چیز کو چھو لیتی تھیں، اس کو افسانہ بنا دیتی تھیں۔ ان میں سے بعض کو مکمل کرنے یا اپنے سے الگ کرکے کاغذ پر منتقل کرنے کی ضرورت بھی نہ محسوس کرتیں۔ اس کے علاوہ ان کے اظہار کا نیا ذریعہ فیس بک تھی۔

وہ کئی کئی گھنٹے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی اسکرین کے اوپر اپنے آپ سے اور دوستوں سے باتیں کرتی رہتیں۔ جون 2017 ء تک کی پوسٹیں میں نے پڑھ لی تھیں۔ خود وارفتگی کی کیفیت کے ساتھ خود کلامی کا جو انداز ڈائری کی سی بکھری ہوئی تحریروں میں کرتی تھیں، وہ فیس بک پر کرنے لگیں۔ جو جی میں آتا، لکھ دیتی تھیں بلکہ بعض دفعہ تو دعوتِ مبارزت دیتی تھیں کہ آ بیل، مجھے مار، دل چسپ تبصرے اور چُبھتے ہوئے فقرے۔ ظاہر ہے کہ مخالفت کا طوفان بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

بعض لوگ دوبدو جواب دینے لگے۔ فیس بک کے اوپر فہمیدہ ریاض نے ایک بزم سجا لی تھی جس میں وہ اپنے آپ سے اور اپنے دوستوں سے باتیں کر رہی تھیں۔ یہ سلسلہ تادپر جاری رہا۔ پھر کمپیوٹر خراب ہوگیا اور موبائل ٹیلی وژن میسّر نہیں رہا تو فیس بک کا یہ باب بھی بند ہوگیا۔ اگر کسی طرح سے فیس بک ان کی پوسٹوں کو جمع کرکے ترتیب دے لیا جائے تو بڑی دل چسپ تحریر سامنے آئے گی۔ فہمیدہ ریاض تو اپنی بات کہہ سُن، کچھ پی کر اور کچھ چھلکا کر محفل کیف و مستی سے رخصت ہو گئیں مگر ان کے یہ الفاظ بھی باقی رہ جائیں گے۔

میں نے ان کو طویل افسانے اور ناول کے کئی منصوبے بناتے دیکھا۔ چند ایک شروع بھی ہو جاتے، ابتدائی حصّے، ادھورے خاکے۔ پھر کسی پرانی دھرانی ڈائری میں رہ گئے۔ ”قلعۂ فراموشی“ اس لیے مکمل ہوگیا کہ عین ان دنوں فہمیدہ ریاض کی پرانی خواہش۔ ایک تخلیق کار کی ازلی ضرورت۔ ان کو فراہم ہوگئی۔ وہ جس ادارے سے وابستہ ہوگئی تھیں، وہاں ان کو لکھنے پڑھنے کے لیے ایک میز، لیپ ٹاپ اورکتابیں حاصل کرنے کا اختیار تھا۔ ایران کی تاریخ پر بہت سی کتابیں جمع کر رکھی تھیں۔

دن بھر ان میں غرق رہتیں۔ کئی باریہ بھی ہوا کہ میں ان کے دفتر آیا، ان کے سامنے کھڑا ہوگیا، انہوں نے نظر اٹھا کر ابھی نہ دیکھا۔ آواز دی تو ”ہوں“ کہا، پھر چونک اٹھیں۔ وہ مخصوص ہنسی اور فوراً شروع ہو جاتیں۔ دیکھو اس کتاب میں کیا لکھا ہے۔ وہ اپنی دریافت میں سب کو شریک کرنا ضروری سمجھتی تھیں۔ اس بار دفتر بھی ٹھیک تھا اور تخلیقی جذبہ بھی وقت کی شرط کو سہار گیا۔

دفتر، دفتر۔ فہمیدہ ریاض کے مختلف دفتروں کا حال بیان کرنے کے لیے ایک الگ دفتر درکار ہے۔

نجمہ منظور اپنی بڑی بہن فہمیدہ ریاض کی قبر پر
Facebook Comments HS

صفحات: 1 2