ماں بولی کا عالمی دن اور گونگا پنجاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 181
  •  

لفظ ”قوم“ کا مطلب جاننے کے لئے اسکول میں جو بھی پڑھا تھا وہ امتحانات میں زیادہ نمبر لینے کے لئے رٹ بھی لیا تھا، مگر وقت، تاریخ اور حقائق نے سمجھا دیا کہ اصل میں ”قوم افراد کے ایسے گروہ کو کہتے ہیں، جو ساتھ رہتے ہوں، جہان رہتے ہوں وہ دھرتی ان کی اپنی ہو، اپنی اک بولی ہو جو لکھی، پڑھی اور سمجھی جائے، ان کی ثقافت دوسروں سے منفرد ہو اور باقی شعبہ زندگی میں بھی اپنی شناخت رکھتے ہوں۔ “

کسی بھی قوم کی سب سے بڑی شناخت ان کی اپنی بولی ہے، دنیا بھر اصول ہے کہ مان بولی ہی قومی بولی مانی جاتی ہے، اور بولی کا نام ہی قوم پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف ریاست اور دھرتی کو بھی ”ماں“ سمجھا جاتا ہے۔ ”ہندو ماتا“ جیسا شاید کوئی لفظ نہیں ہے مگر ”سندھو ماتا“ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہمارا دیس پاکستان زمین کے جس حصے پر موجود ہے، اس کو باقی دنیا میں انڈس سولائیزیشن یا سندھو واس کا خطہ مانا جاتا ہے۔ اس خطے کی زبانیں شینا، بلتی، ہندکو، کشمیری، پنجابی، پوٹھوہاری، سرائیکی اور سندھی آپس میں اتنی ملتی ہیں کہ یہاں کے لوگ بغیر کسی مددگار کے آپس میں باتیں کر اور سمجھ سکتے ہیں۔

پنجاب کے کئی اہل علم لوگ تو سرائیکی، کشمیری، پوٹھوہاری اور ہندکو بولیوں کو علحدہ سے اک زبان ماننے کے بجائے پنجابی بولی کا ہی اک لہجہ سمجھتے اور مانتے ہیں۔ پنجابی ادبی بورڈ کے چیئرمین مشتاق صوفی کا کہنا ہے کہ ”ہم کسی بات کو تسلیم کریں یا نہ کریں مگر سچ تو سچ ہے، اور سچ کو کبھی جھٹلایا نہیں جاسکتا، پنجابی پاکستان کی واحد بولی ہے جو تبت سے لے کر کشمیر، پنجاب اور سندھ میں سب سے زیادہ آسانی سے سمجھے جاتی ہے۔ اگر کوئی پنجابی زبان کا کلاسیکل لٹریچر پڑہے تو اس کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ پنجابی زبان کتنی زرخیز اور پھیلی ہوئی ہے، اس کے بیسیوں لہجے ہیں جو اس کی تنوع اور خوبصورتی میں اور اضافہ کرتے ہیں۔ “

پنجاب کی مٹی کی طرح پنجابی بولی کا ادب بھی بہت زرخیز ہے۔ پنجابی زبان کی یہ خوشبختی ہی کم ہے کیا کہ اس کو اک مذہب ”سکھ ازم“ کی وجہ سے اک مذہبی زبان کا درجہ بھی حاصل ہے، جو پاکستان میں قدیم ترین بولیوں سندھی، بلوچی اور پشتو کے ساتھ ساتھ جدید ترین اردو کو بھی حاصل نہیں ہے۔ مذہبی بولی کا رتبہ ملنے کے بعد اک طرف پنجابی بولی کے نابود ہونے کا خطرہ تو مستقل طور پر ٹل گیا مگر پھر اک اور مسئلہ آگے آگیا۔ پاک بھارت تقسیم کے بعد شاہ مکھی اور گرمکھی رسم الخطوط کے درمیاں پھنسی پنجابی بولی ابھی تک اپنے لئے اک مستقل راستہ نہیں نکال سکی۔

پاکستان میں جہاں باقی تمام چھوٹے صوبے کے لوگ ملک کے اہم وسائل، اقتدار، اختیارات اور ہر آنے والی حکومت پر پنجاب کی اجاراداری کی بات کرتے ہیں وہاں پنجاب کی اکثریت اس بات پر حیران دکھائی دیتی ہے کہ ”بھائی کون سے وسائل، کیسا اقتدار، کہاں کی حکومت اور کہاں کے اختیارات، پنجاب میں تو خود پنجابی اک عذاب سے گزر رہے ہیں۔ پنجابی پرچار کے روح رواں احمد رضا وٹو کا کہنا ہے کہ“ پنجاب کے ساتھ دو صدیوں سے تاریخی طور پر جو ناانصافی اور ظلم ہوا ہے اس کا تو کسی کو احساس ہے اور نہ ہی فکر۔

برصغیر کی تقسیم اصل میں پنجاب کی ہی تقسیم تھی۔ اس وقت بھی ملک میں پھر سے پنجاب کی تقسیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ پنجاب کے ساتھ اک اور ظلم ہونے والا ہے، مگر کسی کو پنجاب سے اس کی خلاف کوئی بڑی آواز اور احتجاج سنائی نہیں دے رہا ہوگا۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ اک قوم کو نفسیاتی اور ذہنی طور پر اتنا اپاہج کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تاریخی، تہذیبی اور آئینی حقوق بھی نہیں مانگ سکتی۔ پنجاب میں پنجابی بولی، ثقافت اور ادب کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا، ہم اپنے بچوں کو اپنی ماں بولی میں پڑھا نہیں سکتے، اسکول اور سرکاری اداروں میں رائج نہیں کرسکتے۔ ”

ماں بولی کے عالمی دن کے حوالے سے 21 فروری کو پنجابی پرچار، پنجابی ادبی بورڈ، پنجاب لوک لہر اور دیگر تنظیموں کے جانب سے لاہور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا جائے گا اور اس کے بعد اس پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی جائے گی جس میں خود پنجابی میں کارروائی چلانے پر پابندی عائد ہے۔

”چھوٹے صوبوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان تو کیا خود پنجاب میں بھی اصل پنجابیوں کی حکمرانی نہیں ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتوں نہیں ہوتے، ہاں یہ ممکن ہے کہ ان میں موجود لوگوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہو جو پنجاب میں رہتے ہوں، مگر ان کا پنجاب، پنجابی اور پنجابیت سے نہ کوئی واسطہ ہے نہ ہی ان کو اس کی کوئی فکر ہے۔ ہم اس وقت خود گونگے پنجاب کی کے بچوں کو ان کی ماں بولی میں پڑہانے کا حق لینے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔

احمد رضا وٹو اور اس جیسی سوچ رکھنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ ”پنجاب کے لوگ جب تک خود اپنی ماں بولی پنجابی کے ساتھ عشق نہیں کریں گے ان کو اپنی تہذیب، دھرتی اور ثقافت کے ساتھ محبت کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ سندھ اور بلوچستان میں قومپرستی کے اصل احساس کو سمجھ سکیں گے۔ ہماری خودمختاری خود اپنے ملک پاکستان کے لئے اور زیادہ مضبوطی اور طاقت کا باعث ہوگی۔ بس بات تسلیم کرنے میں ہے ہم آپ کے حق کو تسلیم کریں آپ ہم کو تسلیم کریں۔ “

پاکستان کی تمام اکائیوں کا شروع سے مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان میں تمام اکائیوں کی زبانوں کو ”قومی زبانوں“ کا درجہ دیا جائے۔ سندھ میں تو انگریز دور سے ہی ذریعہ تعلیم ہی سندھی زبان میں رائج ہے۔ صوبے کے اکثر سرکاری دستاویزات بھی سندھی میں ہوتے ہیں۔ کمپیوٹر آنے کے بعد سندھ کے نوجوانوں نے سندھی پروگرامات اور فونٹ بنا کر مفت تقسیم کرنا شروع کردیئے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ کام عبدالماجد بھرگڑی نے کیا جس نے بیوروکریسی سے استعفیٰ دے کر سندھی کمپیوٹنگ پر کام کیا اور سندھی بولی کو یونیکوڈ پر لے آئے۔

یاد رہے کہ برصغیر میں آزادی کی تحاریک میں اک اہم ترین ”ریشمی رومال تحریک“ بھی تھی، اس کے روح رواں مولانا عبیداللہ سندھی کا مطالبہ تھا کہ ”برصغیر کو مذہب نہیں بلکہ تہذیب اور بولی کے بنیاد پر تقسیم کیا جائے، تمام قومیتوں کو مکمل آزادی دی جائے، ورنہ کمزور قومیں پھر طاقتور قوموں یا لوگوں کے قبضے تلے آجائیں گی۔ “

ہمارے لئے تو یہ ہی سبق کافی ہے دنیا بھر 21 فروری کو عالمی طور منائے جانے والے ”ماں بولی“ کا دن بھی اصل پاکستان کی تاریخ سے وابستہ ہے۔ کینیڈا میں رہنے والے اک بنگالی شخص رفیق الاسلام نے 9 جنوری 1998 کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو خط لکھا کہ بنگال میں مان بولی کے نفاذ کے لئے لاکھوں لوگوں نے تحریک چلائی، جن کے خلاف ریاستی آپریشن کیا گیا اور 21 فروری 1952 کے دن ڈھاکا میں عبدالسلام، رفیق الدین احمد، عبدالبرکت اور عبدالجبار سمیت کئی نوجواں قتل ہوگئے، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ قوموں کے لئے ان ماں بولی کے جائز حق اور ان نوجوانوں کی قربانی کے اعتراف میں 21 فروری کو مان بولی کا عالمی دن قرار دیا جائے۔ اقوام متحدہ نے اگلے سال ہی 17 نومبر 1999  کو اعلان کیا کہ اب ہر سال 21 فروری کو ”ماں بولی کا عالمی دن“ منایا جائے گا۔ اس کے بعد 2008 میں باقاعدھ قرارداد پاس کر کے اس کو مستقل کیا گیا۔

اس وقت پاکستان میں ماں بولیوں کی ترقی اور ترویج کے لئے اتنے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے جتنی اس کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں سندھی، پنجابی، بلوچی اور پشتون بولیوں کو قومی بولیاں قرار دلانے کے لئے چند سال پہلے پیپلز پارٹی کے سینیٹرز سسی پلیجو، عاجز دھامراہ اور دوسرے ممبران سینیٹ میں اس بل کو لے کر آئے تھے مگر ابھی تک شاید کچھ ہو نہیں سکا۔

سرکار کو چاہیے کہ اب تمام اکائیوں کی بولیوں کو بھی قومی بولیاں قرار دے دے، اور تہذیبی طور پر سب کو قریب آنے کا موقع دیا جائے۔ اس سے ملک ترقی بھی کرے گا اور متحد بھی ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 181
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں