ننھا نکولس، ایدھی اور ملا

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ نکولس کے تمام اعضاء ضرورت مند بیمار اور معذور اشخاص کو عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں دوڑ پڑیں۔ نکولس کے پانچ اہم اعضاء سے پانچ لوگوں کو نئی زندگیاں ملیں اور دونوں آنکھوں سے دو لوگوں کو بینائی نصیب ہوئی۔ اس طرح سے ننھا نکولس سات لوگوں کی خوشیوں کی صورت میں اس دنیا میں زندہ ہے۔ اس واقعہ نے اٹلی اور ساری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا۔ ساری دنیا نے بچے کی اچانک موت کے غم سے نڈھال والدین کی انسان دوستی اور غم کو بھلانے کے اس انوکھے واقعہ کو اتنا بے پناہ سراہا۔ اٹلی کی حکومت، سیاست دان، کھلاڑی، اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے فنکار اور اہم لوگ، سب ہی قطار اندر قطار آئے اور ننھے نکولس کی فیملی کے غم میں شریک ہوئے۔ صدر اور وزیر اعظم نے بھی انہیں اپنا اپنا مہمان بنایا۔ یہ واقعہ اکتوبر 1994 میں رونما ہوا اور اٹلی اور ساری دنیا کے میڈیا کی زینت بنا۔ نکولس اور اس کے والدین ہیرو بن گئے۔ مجسمے، نظمیں، پینٹنگز، پارکوں کے نام اور کیا کیا نہ کیا گیا ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے۔ اٹلی کے لوگ شرمندہ ہوئے، شکر گزار ہوئے، سبق سیکھا، اپنے رویے بدلے اور ان سارے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ نکولس کی فیملی کا دکھ انسانی ہمدردی کے جزبات کے سمندر میں کہیں گم گیا۔ امریکہ واپسی پر بھی نکولس کی میت اور اس کی فیملی کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کے علاقے کے لوگوں نے ان پر فخر کا والہانہ اظہار کیا۔

ایدھی صاحب کے انسانی خدمت کے جذبے کے بارے میں کچھ کہنا تو بڑے لکھاریوں کا کام ہے اور بہت لوگوں نے یہ حق خوب ادا کیا ہے۔ بھوکوں کو کھانا، بیماروں کو علاج، بے گھروں کے لئے رہائش گاہیں، بن ماں معصوموں کے لئے گود اور پنگھوڑے، گم شدہ لوگوں کے لئے ٹھکانے، زخمیوں کے لئے ایمبولینس اور ہسپتال، اور لاوارث لاشوں کے لئے کفن اور دفن، کیا نہیں کیا ایدھی صاحب نے اپنے جیتے جی۔ ان سب خدمات کے اوپر زندگی کے سنہرے اصول، افضل مذہب انسانیت کا اقرار، انسانوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق سے انکار اور ایک بے خوف سادہ زندگی۔ ایدھی صاحب تو رخصت ہوئے مگر ان کی زندگی کے سنہرے اصول رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی اور تحریک و ترغیب کا باعث بنتے رہیں گے۔ اتنے سارے کمالات سے ایدھی صاحب نے جو مقام حاصل کیا وہ صدیوں میں کسی ایک آدھ خوش قسمت کے حصے میں ہی آتا ہے۔
ایدھی صاحب نے کمالات کا یہ سفر اپنی وفات کے بعد بھی جاری رکھا۔ اپنے اعضاء بیماروں اور معذوروں کے لئے عطیہ کر گئے تو یہ اور بھی بڑا کمال ثابت ہوا۔ یہ خبر پاکستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ہے۔ لوگ ایدھی صاحب کے اور بھی معتقد ہوئے ہیں اور پاکستان میں بھی بڑی حد تک وہی نکولس گرین والا اثر ہوا ہے۔ عام لوگوں کو اس سلسلے میں بہت جانکاری ہوئی ہے اور بہت سارے لوگ ایدھی صاحب کے اس نیک اور زبردست کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ لگتا ہے کہ اب بہت سارے انسانی اعضا مٹی کے ساتھ مٹی ہو جانے کی بجائے بیمار اور معذور انسانوں کو نئی زندگی دیں گے۔ انسانی اعضا کے عطیات کا رواج بہت بڑھے گا۔ ایدھی صاحب کی زندگی کے سنہرے اصول ہی ہمارے تنگ نظر مذہبی پیشواؤں کے لئے ناقابل برداشت تھے اوپر سے انسانی اعضا کے عطیے کی بے پناہ پذیرائی دیکھ کر تو ملا پھٹ پڑے۔
یہ ملا جو اپنے تئیں خود ہی عالم کے عہدے پر فائز ہیں، روشنی سے انکار اور اندھیرے سے پیار کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ انسانی اعضاء کے عطیات کے خلاف ان کی مزاحیہ منطق کا جواب نہیں۔ شکر ہے کہ دنیا کی ترقی کا دھارا ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ان کے ہم منصب عیسائی ملا نے بھی کئی عشرے پہلے خون کے عطیات دینے اور لینے کو ناجائز قرار دیا تھا تو کیا خون کے عطیات رک گئے ہیں۔ اسی طرح سے انسانی اعضاء کے عطیات کا رواج بھی رکے گا نہیں بلکہ بڑھے گا۔ مستقبل ان تنگ نظروں کا نہیں بلکہ ایدھی صاحب اور نکولس گرین فیملی کی فراخ دلی اور انسان دوستی کا ہو گا۔ نکولس اور ایدھی کی لازوال مثالیں رہتی دنیا تک تحریک اور رغبت کا ذریعہ بنی رہیں گی۔ ایدھی کی زندگی کے سنہرے اصولوں سے ہی انسان فلاح کی امیدیں وابستہ ہیں۔

