حکومت اور اپوزیشن کی مزید اہم شخصیات کو تحویل میں لیا سکتا ہے: حامد میر
تجزیہ کار حامد میر نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آغا سراج درانی کے خلاف یہ کیس کافی عرصے سے زیر تفتیش تھا۔ مجھے نہیں لگتا پاکستان پیپلز پارٹی کو کسی قسم کا پیغام دیا گیا ہے۔ پیغام تو تمام پارٹیوں کے لئے ہے کیوں کہ کچھ دن پہلے علیم خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق نیب کی طرف سے کچھ مزید اہم سیاسی شخصیات کے بارے میں بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ حکومت اور اپوزیشن کی مزید اہم شخصیات کو نیب اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن کی پارٹیوں کو زیادہ نقصان نہیں ہوتا لیکن حکومتی جماعت یا اُن کے اتحادی جماعتیں جو حکومتی عہدوں پر فائز ہوں اگر اُن کو نیب گرفتار کر لے تو اپوزیشن کے مقابلے میں زیادہ نقصان حکومت کو اٹھانا پڑتا ہے۔
تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاکہ آغا سراج درانی کی گرفتاری اپنی ذات کے لئے اتنی اہم نہیں ہے جتنی اسپیکر سندھ اسمبلی کی اہم ہے اس تناظر میں ردِ عمل بھی آسکتا ہے اور اس خاص ماحول میں سیاسی کشیدگی پا کستا ن کے لئے بہتر نہیں ہے۔ حامد میر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت کے لئے زیادہ مسائل کھڑے ہوں گے۔ حکومتی وزراء کی طرف سے نیب پر کھلم کھلا تنقید کی جا رہی ہے۔ میں نہیں سمجھتا ان معاملات سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ آنے والے دنوں میں نیب جن کیسز میں تحقیقات کر رہی ہے اس میں صرف سندھ حکو مت کے لئے مسائل کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ ایک اور صوبہ میں بھی مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں اور مرکز میں ایک اہم شخصیت کے لئے بھی نازک صورتحال ہو سکتی ہے۔


