پاکستان کی مادری زبانوں میں کی جانے والی منتخب شاعری
جب سے پاکستان کی مادری زبانوں میں کی جانے والی منتخب شاعری کے اردو تراجم کی کتاب ہاتھ میں آئی ہے، ایک عجیب کیفیت طاری ہے۔ کارزار حیات میں جو گھمسان کا رن پڑا ا ہوا ہے شاید وہ شعر و ادب سے بہت دور لے گیا تھا اندازہ ہی نہ تھا کہ پاکستان میں اتنی اچھی شاعری ہو رہی ہے۔ پہلی ملاقات میں دھیمے مزاج اور نرم شخصیت والے نیاز ندیم کو میں جمہوری حکمرانی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ دیگر کارکنوں کی طرح صرف اپنی ملازمت کے حوالے سے مصروف رہنے والا شخص ہی سمجھی لیکن آہستہ آہستہ ان کی شخصیت کے جوہر کھلے۔ ایک ماں کی حیثیت سے مجھے وہ اس لئے بھی اچھے لگے کہ انہوں نے اپنی مادری زبان سے محبت کو دوسروں کی مادری زبان سے نفرت کا جواز نہیں بنایا بلکہ اپنی مرتب کردہ کتاب ’پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب۔ منتخب شاعری۔ 1، کا انتساب انہوں نے ”اپنی اماں۔ شہزادی اور اپنی مادری زبان سندھی کے ساتھ ساتھ تمام ماؤں اور مادری زبانوں کے نام کیا ہے۔ نیاز ندیم انڈس کلچرل فورم کے چئیر پرسن ہیں اور ہر سال فروری میں مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ’پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ‘ لوک ورثہ اور ادارہء استحکام شراکتی ترقی کے تعاون سے منعقد کرتے ہیں۔
پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب۔ منتخب شاعری۔ 1، میں ان شعرا کی منتخب تخلیقات شامل کی گئی ہیں جنہوں نے گذشتہ تین سال کے دوران پاکستان کی مادری زبان کے ادبی میلے کی مختلف نشستوں میں شرکت کی ہے۔ گو کہ وقت اور وسائل کی کمی کے باعث کچھ شاعروں کی شاعری شامل ہونے سے رہ بھی گئی ہے۔ کتاب کا آغاز فاطمہ حسن کی تین نظموں سے ہوتا ہے۔ پہلی نظم ’مصروفیت‘ رشتوں کو بچانے میں مصروف عورت کے بارے میں ہے۔ دوسری ہمیں اپنے آنگن کو پھل دار پیڑوں سے خالی نہ کرنے کا پیام دیتی ہے کیونکہ پرندے اور بچے کہیں بھی جائیں، لوٹ آتے ہیں ان کی طرف۔ تیسری نظم ’میری بیٹی چلنا سیکھ گئی‘ خواتین کے اجتماعات میں ہم نے اکثر فاطمہ سے سنی ہے۔
علی محمد فرشی رسالہ سمبل کے مدیر کی بھی تین نظمیں اس کتاب میں شامل کی گئی ہیں۔ ”تھر کا اتھرو“ سندھ کے دکھوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ دوسری نظم ’اشتہار سے باہر‘ ، صارفین کے اس معاشرے میں عورت کو ایک بکا ؤ چیز سمجھنے والے روئیے کے خلاف احتجاج ہے۔ ’بھید میں چھپ کر بیٹھا بھید‘ نسائی تحریک کے لئے کام کرنے والوں کو ضرور پسند آئے گی۔ ”عورت کیا ہے۔ کیکر پر انگور کا دکھ ہے“۔ میر احمد میر کی تین غزلیں بھی اس کتاب میں شامل ہیں :
دینداروں پہ کھل جاتی جو دنیا کی حقیقت
یہ حال خداوند کی دنیا کا نہ ہوتا
ثروت زہرہ نے اپنی نظم FEMALE GAZE میں فہمیدہ ریاض کی باغیانہ روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ’نیو ملینیم اور سندھو دریا پچھتاؤ گے‘ بھی خوبصورت اور اداس کرنے والی نظمیں ہیں۔
برسوں کے چکرمیں ہی۔ زندہ رہتے ہیں لوگ۔ کیسے اک اک پل میں۔ جیتے اور مرتے ہیں لوگ (ثروت محی الدین)
میں نے تنکا تنکا من کو جوڑامگر بکھر گئی۔ مجھے دیکھنے والے اگرلاکھوں بھی ہوں تو مجھے تیری ہی نظر کی چاہ رہے گی۔ پروین طاہر
ستر کی دہائی تک کے کھلے ڈلے معاشرے میں انتہا پسندی کا زہر سرایت کر جانے کے بعد جو الم ناک واقعات پیش آئے، جس طرح معصوم لوگ ہجوم کی وحشت کا شکار ہوئے، ناصرہ زبیری کی نظم گلیڈی ایٹرز اس کی ترجمانی کرتی ہے :
’اے خدا یہ ہے میرے دیس کی بستی کہ کوئی روم کے عہد کا منظرکہ اکھاڑے میں جہاں چار طرف خول چہروں پہ چڑھائے ہوئے کچھ وحشی درندوں کا ہجوم‘ پڑھنے کو
لیکن اس کے بعد ہی آپ کو روش ندیم کی خوبصورت نظم ’ادھ پکی خوبانیاں‘ پڑھنے کو ملتی ہے :
’تعلق گھر سے باہرسیڑھیوں پہ رک گیا تھا۔ پھر ہمارے درمیاں وہ کس طرح رہتا؟ ‘
اور پھر کارل مارکس کی تصویر دیکھ کر لکھی جانے والی نظم ’تاریخ شرارت کرتی ہے‘ :
’سو اب کیا کیجئے کہ بیکراں تاریخ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کی کوئی عادت نہیں رکھتی‘
اپنے عنوان کی طرح منفرد نظم ”سوچوں کے ہینگر پہ ٹنگی آنکھیں“ بھی پڑھنے کے قابل ہے :
میری سوچوں کے ہینگر پہ ٹنگی آنکھیں یہ کہتی ہیں۔ ستارے کیوں نہیں چمکے، سویرے کیوں نہیں مہکے؟ چوراہے میں کھڑے برگد کی آنکھیں کیوں نہیں برسیں؟ زبانوں پر لگے چپ کے یہ تالے کیوں نہیں ٹوٹے؟
فاخرہ نورین کی نظم ’ایس او ایس کال‘ قاری کو چونکا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے :
مسیحا! کچھ توجہ کر۔ محبت کی کمی کا سامنا دن رات مشکل ہے۔ کوئی ملٹی وٹامن دے، کبھی قربت کا سپلیمنٹ دے۔ اس گرمیٗ بازار میں ورنہ، وفاداری بشرط استواری اب فقط بیگار لگتی ہے۔
اس کے علاوہ آپ کو زاہدہ رئیسی کی بلوچی، عنبرین مینگل کی براہوی، درویش درانی اور اقبال حسین افکار ثمینہ قادر، راشد خٹک، نازیہ درانی، نورین امان شمع کی پشتونظمیں، ثروت محی الدین، پروین طاہر، صابر علی صابر، اعظم ملک کی پنجابی نظمیں، سید آل عمران کی پوٹھو ہاری، محمد صغیر خان کی پہاڑی اور رحیم صابر کی توروالی زبان کی نظموں کے اردو تراجم بھی پڑھنے کو ملیں گے۔
کتاب کا آخری حصہ سرائیکی اور سندھی نظموں کے تراجم پر مشتمل ہے اور کیا خوب نظمیں ہیں آخر میں، میں صرف ایک سرائیکی اور ایک سندھی نظم کا حوالہ دینا چاہوں گی۔
صحرا کے لوگ۔ سائیں! ہم صحرا کے لوگ۔ پیاسے میٹھی باتوں کے۔ قیدی سچے بولوں کے۔ ’دل دریا سمندروں ڈونگھے‘ (نصراللٰہ خاں ناصر۔ سرائیکی نظم)
میں اپنا وقت بیچتا ہوں۔ ”لیکن میرا بہترین اور توانا وقت۔ دفتر میں فائلوں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے، اور تھکا ہوا فالتو وقت محبوبہ کو قبول نہیں۔ چھٹی کے دن کاوقت۔ ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے اور کوئی بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ “ اول سومرو۔ سندھی نظم۔
ان سارے مترجمین کو سلام جن کی وجہ سے ہمیں اس خوبصورت شاعری سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔


